Type to search

انسانی حقوق خبریں خواتین عورت مارچ

عورت مارچ منتظمین کا جعلی ویڈیو پھیلانے اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں سے معافی کا مطالبہ

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں  ’عورت مارچ’ کا انعقاد کرنے والے منتظمین نے صحافیوں، سماجی رہنماؤں اور سوشل میڈیا اسٹارز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’ایڈٹ شدہ‘ ویڈیو کو اصلی سمجھ کر سوشل میڈیا پر پھیلانے اور عورت مارچ کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے پر معافی مانگیں۔

عورت مارچ کے منتظمین نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کو ’ایڈٹ شدہ‘ اور ’جعلی‘ قرار دیا اور کہا کہ مذکوہ قدم ان کی جدوجہد کو کمزور کرنے اور ان کے خلاف سازش کے مترادف ہے۔

عورت مارچ منتظمین کے مطابق ہر سال عورت مارچ کے نعروں اور عورت مارچ منتظمین کی جانب سے کی گئی کوششوں کو سبوتاز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس بار بھی مارچ کی ایک ویڈیو کو ’ایڈٹ‘ کرکے ان کے خلاف نفرت پھیلائی گئی۔

عورت مارچ کراچی کے منتظمین نے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر مارچ کی اصلی ویڈیو بھی شیئر کی اور بتایا کہ ان کی مذکورہ ویڈیو کو ’ایڈٹ‘ کرکے اور جعلی سب ٹائتلز لگا کر ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔

منتظمین کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں خواتین کو عورتوں کے حقوق اور آزادی کے لیے نعرے لگاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

اگرچہ خواتین کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان، ملاں، انصار عباسی اور اوریا مقبول سمیت دیگر افراد کے نام لے کر ان کی جانب سے لگائے گئے آزادی کے نعروں کو سنا جا سکتا ہے تاہم ویڈیو میں کوئی بھی مذہب مخالف نعرہ سنائی نہیں دیتا۔

دوسری جانب ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ (ایچ آر سی پی) نے مذکورہ معاملے پر ٹوئٹ کی اور بتایا کہ خواتین کے نعروں کی ویڈیو کو تبدیل کرکے ان کے خلاف خطرناک سازش کی گئی۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے بھی جعلی ویڈیو کو پھیلانے والے افراد سے معافی کا مطالبہ کیا گیا، ساتھ ہی ’ایڈٹ شدہ‘ ویڈیو کو پھیلانے والے افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

 

سابق وزیراعظم شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے ’عورت مارچ‘ کے خلاف چلنے والی مہم سے متعلق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا کہ ’میں عورت مارچ کی خواتین کے خلاف چلنے والی نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت کرتی ہوں۔‘  اُنہوں نے مزید کہا کہ ’یہ جان لیں کہ عورت مارچ ایک بامقصد مہم ہے اور جھوٹ کی بنا پر اس خوبصورت مہم کو روکا نہیں جاسکے گا۔‘

عورت مارچ لاہور کے منتظمین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عورت مارچ اور عورت آزادی مارچ کے خلاف چلائی گئی جھوٹی مہم اور خطرناک الزامات کی وجہ سے اس تحریک اور اس سے جڑے لوگوں کی جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے ان غلط معلومات اور جھوٹے پروپیگنڈے کو پھیلایا انہیں فی الفور معافی مانگنی چاہیئے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *