Type to search

تجزیہ فيچرڈ

سنجرانی کو جتوانے والے کیا عمران کو بچا پائیں گے؟

سینیٹ کے انتخابات مکمل ہو گئے ہیں لیکن ابھی بے یقینی کا موسم بدستور برقرار ہے۔ صادق سنجرانی جو کہ حکومتی امیدوار تھے وہ چھ ووٹوں سے جیت گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ صادق سنجرانی نہ صرف عمران خان کے نامزد کردہ امیدوار ہیں بلکہ وہ پاکستان کی طاقتور عسکری اسٹیبلشمنٹ کے بھی نمائندے ہیں اور اس بات کا برملا اعتراف وزیر داخلہ شیخ رشید کئی بار کر چکے ہیں۔ اسی لئے جمعے کی شام ان کی جیت اتنی حیران کن نہیں تھی کیونکہ ان کو بہرصورت ’جیتنا تھا‘۔ یہ اور بات ہے کہ عمران خان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر کوششوں کے باوجود یوسف رضا گیلانی یہ الیکشن جیت رہے تھے اور اس کا واضح ثبوت وہ سات مسترد ووٹ ہیں جنہوں نے سنجرانی صاحب کو تکنیکی بنیادوں پر جتوا دیا ہے۔ لیکن ان سات مسترد ووٹوں پر بھی ایک بحث چھڑ گئی ہے جو کہ یقیناً سپریم کورٹ آف پاکستان تک پہنچے گی اور آخری فیصلہ عدالت کی طرف سے آئے گا جو سنجرانی کی جیت کی تصدیق یا نفی کر سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قواعد کے مطابق مہر اگر نامزد امیدوار کے نام کے ساتھ کہیں بھی لگی ہو اور ووٹ دینے والے کی نیت ظاہر ہوتی ہو تو یہ ووٹ مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اس نقطے پر 1987 میں ایک واضح فیصلہ دے چکی ہے۔ ڈاکٹر شیر افگن بنام عامر حیات خان وغیرہ کے کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے یہ کہا کہ ’مہر کو مطلوبہ مقام سے باہر لگانے سے ووٹ ضائع نہیں ہوتا اگر یہ واضح ہو رہا ہو کہ ووٹر کس کو ووٹ ڈال رہا ہے‘۔ اس قانونی مؤقف کا سہارا لے کر سپریم کورٹ نے اس کیس میں پریذائڈنگ افسر کا فیصلہ مسترد کر دیا تھا۔ لہٰذا ابھی یوسف رضا گیلانی مکمل طور پر نہیں ہارے اور نہ ہی صادق سنجرانی یقینی طور پر جیتے ہیں۔ یہ عبوری ہار جیت پاکستان میں رائج ہائبرڈ نظام کا ایک واضح ثبوت ہے جس میں آئین و قانون مصلحتوں اور طاقتور اداروں کی پالیسیوں یا ذاتی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں۔ کہنے کو تو ایک وزیر اعظم بھی ہوتا ہے لیکن قومی امور پر فیصلے کہیں اور طے پاتے ہیں۔ اور جب اپنے پسندیدہ امیدوار کو سینیٹ میں یا انتخابی حلقے میں جتوانا ہو تو پھر بقول ابن احمد فراز یعنی محترم شبلی فراز کے ’ہر حربہ‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ بیچارے شبلی فراز پر تو یوں ہی تنقید کی جا رہی ہے۔ وہ دراصل اپنے لانے والوں اور مائی باپ کی زبان بول رہے ہیں۔ یہ حربے آخر ان ہی دفتروں اور غلام گردشوں میں ایجاد ہوتے ہیں جنہوں نے پچھلی چھ دہائیوں سے ملک کا انتظام و انصرام سنبھال رکھا ہے۔

اس وقت ملک میں سیاسی کھلبلی کے پیچھے تین عوامل کارفرما ہیں۔

  • سابق وزیر اعظم نواز شریف کا جارحانہ بیانیہ اور مؤقف جس میں کسی بھی مقدس گائے کی بخشش کے آثار نہیں دکھائی دیتے۔
  • اسٹیبلشمنٹ کی بے پناہ طاقت جو اس وقت صوبہ پنجاب کی سڑکوں پر کھلے عام چیلنج کی جا رہی ہے۔ اور
  • سیاسی شطرنج کے ماہر کھلاڑی آصف علی زرداری کی ’عملیت پسندی‘ جس میں NRO کے ساتھ ساتھ سسٹم میں اپنا حصہ بڑھانے کی امنگ بھی شامل ہے۔

اس کہانی کے باقی تمام کردار ثانوی ہیں یا پردہ سیمیں پہ مہمان اداکاروں کی طرح ابھرتے اور غائب ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تقریباً تین سال کے اقتدار کے بعد بیچارے وزیر اعظم عمران خان اس کھیل میں شامل تو ہیں لیکن ان کے پاس کوئی پتہ نہیں ہے جس کو دکھا کر وہ یہ بازی اپنے نام کر سکیں۔

چیئرمین سینیٹ کے الیکشن سے ایک دن قبل نواز شریف نے اسی ناپسندیدہ فعل کا ارتکاب کیا جس پر پاکستان کے اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی معترض ہیں کہ اعلیٰ سرکاری افسران کے نام نہیں لینے چاہئیں۔ ایک چھوٹے سے جارحانہ ویڈیو پیغام کے ذریعے نواز شریف نے تین جرنیلوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی بیٹی مریم نواز کو مزید دھمکیاں دی گئیں تو پھر وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ نواز شریف کے ایک اور ساتھی جاوید لطیف جو شیخوپورہ سے منتخب ایم این اے ہیں نے تو اگلے روز سماء ٹی وی پر یہ تک کہہ دیا کہ آصف علی زرداری کے برعکس اگر مریم نواز کو نقصان پہنچا تو وہ پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے۔ جاوید لطیف نہ تو کبھی کمیونسٹ پارٹی کے رکن رہے ہیں اور نہ ہی وہ کوئی انٹی اسٹیبلشمنٹ سیاستدان ہیں لیکن ان کا یہ بیان پاکستان کے اصلی ایوانِ اقتدار میں ایک خطرے کی گھنٹی کے طور پر بجا ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی نے حسبِ سابق مفاہمت اور اسٹیبلشمنٹ کی غیر جانبداری کا بار بار اعلان کیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے لئے ایک گنجائش سات دھکا شاہی سے مسترد کیے گئے ووٹوں کی صورت میں نکال دی گئی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آصف علی زرداری نواز شریف کو کن فیصلوں پہ راضی کرتے ہیں جن کی بنا پر سسٹم کے اندر رہ کر سیاست کی جائے اور سڑکوں پر احتجاج، استعفے اور لانگ مارچ یا دھرنے جیسے ’غدارانہ‘ اقدامات سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ ایسی ’انتہا پسند‘ سیاست سے ہائبرڈ نظام کا شیرازہ بکھر سکتا ہے اور راولپنڈی اور اسلام آباد کی مسند پر بیٹھے حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ سینیٹ کے انتخابات مکمل ہونے سے کچھ نہیں بدلا۔ معاملہ جوں کا توں ہے۔ PDM کے اندرونی اختلافات اسی طرح برقرار ہیں اور اسٹیبلشمنٹ پیچھے ہٹنے کو فی الحال تیار نہیں دکھائی دے رہی۔ آنے والے چند ہفتوں میں یہ معاملات مزید الجھیں گے اور موجودہ نظام کو مزید دھچکے پہنچنے کا قوی امکان ہے۔ اس راؤنڈ میں تو سنجرانی اور عمران خان بظاہر جیت گئے ہیں لیکن ابھی کئی راؤنڈ باقی ہیں اور تبدیلی ایک نوشتہ دیوار بن کر حکمران طبقے کا تعاقب کر رہی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *