Type to search

تجزیہ جمہوریت سیاست

جمہوریت کے وہ پانچ ثمرات جنہیں جھٹلانا ممکن نہیں

آج شام نیا دور پر ایک ایسی ویڈیو دیکھی کہ دل خوش ہو گیا۔ منظر یہ تھا کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ کے اجلاس کے اجلاس سے تشریف لے جاتے ہوئے اپوزیشن بنچز کی طرف بڑھے اور فرداً فرداً حزب اختلاف کے تمام سرکردہ رہنماؤں سے مصافحہ کیا۔ ان میں پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ بھی شامل تھے، تحریک انصاف کے عمران خان اور شاہ محمود قریشی بھی، پانچ سال دوستانہ ماحول میں کام کرنے والے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیرپاؤ بھی، حکومت کے شدید ترین ناقد جمشید دستی بھی اور آئے روز حکومت کے ختم ہونے کی تاریخیں دینے والے شیخ رشید بھی۔

یہ شاہد خاقان عباسی کی اس اسمبلی میں غالباً آخری حاضری تھی۔ ان کے اس اقدام کو حامیوں کے ساتھ ساتھ مخالفین نے بھی سراہا۔ حزب اختلاف کے لیڈران بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ان سے گرمجوشی سے ملے۔ مگر جیسا کہ ہم سب کے ایک رشتے کے ماموں ہوتے ہیں جن کے خیال میں میٹرو سے لے کر پانچ روپے کے سکّے تک ہر چیز عوام کو تنگ کرنے کی لئے ہی بنائی جاتی ہے، ایک صاحب نے twitter پر اس ویڈیو کے جواب میں لکھا کہ ‘کیا فرق پڑتا ہے، سب کے سب چور ہیں’۔

کسی بھی جمہور پسند کے تن بدن میں آگ لگانے کو کافی یہ ایک جملہ لکھ کر جناب غائب ہو گئے۔ مگر یہ کوئی پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری۔ ایسے نابغے ہمیں روزانہ ملتے ہیں، ہر وقت ملتے ہیں اور ہر جگہ۔ انہوں نے نہ جمہوریت کو سمجھا ہے، نہ آمریت سے ان کا تاحال پالا پڑا ہے۔ یہ بس ایکسپرٹ ہیں۔ اس سوچ کو لیکن دبانے کی بجائے اس کا سدباب کرنے کی ضرورت ہے۔ ان لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت کیوں ضروری ہے اور یہ کس کس طرح آمریت سے بہتر ہے۔ اس کے لئے سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ تازہ ترین دور آمریت جو اب سے دس سال پہلے ختم ہوا ہے، اس کے اختتام کے وقت ملک کی صورتحال کیا تھی اور آج ہم اس سے کہیں بہتر کیسے ہیں۔

لہٰذا ذیل میں گزشتہ دس سالوں میں اٹھائے گئے پانچ ایسے اقدامات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، جو بغیر کسی تفریق کے ملک بھر میں سیاسی طور پر سراہے جانے کے مستحق ہیں، اور دور آمریت میں کسی صورت ممکن نہیں تھے۔

مذہبی اور لسانی دہشتگردی میں واضح کمی

اس کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ مشرّف کے انتہائی رعونت سے ‘پاکستان کا خدا حافظ’ کہنے کے وقت پاکستان کس حال میں تھا۔ 2006 میں نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بلوچستان میں ایک خوفناک شورش بپا تھی۔ سالوں سے جاری ‘اچھے اور برے طالبان’ کی تفریق کے باعث فاٹا میں نہ صرف دہشتگردوں کی آماجگاہیں موجود تھیں بلکہ دن بدن وفاق کے لئے ایک خطرے میں بدلتی جا رہی تھیں۔ یہاں تک کہ مشرّف کے جانے کے صرف ایک سال بعد سوات میں پاکستان کے عدالتی نظام کے خلاف طالبان نے بغاوت کر کے وہاں اپنا ‘نظام عدل’ نافذ کر لیا تھا جبکہ سندھ میں ‘پاکستان نہ کھپے’ کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔

آصف علی زرداری میں آپ کتنے ہی کیڑے نکل لیں، اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ اس موقعے پر ان کا ‘پاکستان کھپے، پاکستان کھپے، پاکستان کھپے’ کا فلک شگاف نعرہ ہی تھا جس نے اس ملک کی لرزتی بنیادوں کو استحکام بخشا۔ پیپلز پارٹی ہی کے دور میں ‘آغاز حقوق بلوچستان’ پیکج دیا گیا۔ میاں نواز شریف نے بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے، اور انہیں اتحادی حکومت میں پہلے ڈھائی سال حکومت کی دعوت بھی دی۔ ایسا نہیں ہے کہ بلوچستان میں آج شورش باقی نہیں ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ دونوں ادوار میں اس آگ پر بہت سا پانی ڈالا گیا ہے اور آج حالات دس سال پہلے کی نسبت بہت بہتر ہیں۔ افواج پاکستان نے جہاں مذہبی دہشتگردوں کی کمر توڑ کر اس عفریت کو بوتل میں بند کرنے کی طرف پیش قدمی کی ہے تو یہ بھی ان آپریشنز کی سیاسی پشت پناہی کے بغیر ناممکن تھا۔

وفاق کی مضبوطی: فاٹا کا انضمام اور گلگت بلتستان پیکج

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جو کام گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں لانے سے شروع کیا گیا تھا، آج قومی اسمبلی اور سینیٹ سے فاٹا کے انضمام کا بل پاس ہونے کے بعد مسلم لیگ نواز نے اسے فاٹا تک پھیلا دیا ہے۔ 29 مئی کو خیبر پختونخوا اسمبلی سے اس بل کو پاس کروا کر جونہی تحریک انصاف اس میں اپنا حصّہ ڈالے گی، پاکستان کا وفاق ایک عظیم سنگ میل عبور کر لے گا۔

1991 کے بعد سے اس ملک میں صوبوں کا این ایف سی پر اتفاق نہیں ہوا تھا۔ یہ معرکہ بھی 2012 ہی میں سر کیا گیا۔ آج پاکستان کا وفاق 2008 کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ جی ہاں مشرّف صاحب، پاکستان کا خدا حافظ، اور اس کے عوام اس کے محافظ۔

لوڈ شیڈنگ میں واضح کمی

لوڈ شیڈنگ کے جن سے نجات بھی جمہوریت ہی کا ثمر ہے۔ اس ملک میں مشرّف صاحب بجلی کی جو صورتحال چھوڑ کر گئے تھے، آج ہم اگر اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو یہ جمہوریت ہی کا انعام ہے کہ اس نے حکومت کا اس کے لئے اقدامات اٹھائے بغیر گزارا ناممکن بنا دیا۔ 2013 کے انتخابات مسلم لیگ ن نے محض اس ایک نکتے پر جیتے اور جیتنے کے بعد اگر یہ وعدہ وفا نہ ہوتا تو آج مسلم لیگ ن تاریخ کے کوڑے دن کا ایک غیر اہم سا حصّہ ہوتی۔ آج یہ ملک کی مقبول ترین جماعت ہے۔

معاشی راہداری

آج جسے ہم خطّے کا گیم چینجر کہہ رہے ہیں، یہ جمہوری ادوار کے لائے ہوئے سیاسی استحکام کا ہی پھل ہے۔ 1991 سے فائلوں اور معاہدوں تک محدود سی پیک اگر آج معرض وجود میں آ چکا ہے تو اس کا سہرا اسی جمہوریت کے سر ہے جو اس قوم نے بے پناہ قربانیاں دے کر حاصل کی ہے۔ یہ 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری 35 سال پر محیط چار حکومتی ادوار میں کوئی آمر نہیں لا سکا۔

عوامی شعور

23 مئی کو ایک ویڈیو انٹرویو میں بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار اور لکھاری عمیر جاوید نے اس اہم پیش رفت کی جانب توجہ دلائی کہ ہمارے ملک میں پچھلے دس سالوں کے دوران شعور نے جو منازل طے کی ہیں وہ آمریت میں ممکن نہیں تھا۔ آپ 2008، 2013 اور 2018 میں ہونے والے انتخابات کے موضوعات ہی اٹھا کر دیکھ لیں۔ 2008 کے انتخابات کا موضوع یہ تھا کہ ہمیں آمریت نہیں، جمہوریت چاہیے۔ 2013 میں یہ بنیادی بحث طے شدہ تھی۔ لہٰذا ایک بنیادی ضرورت پر انتخابات لڑے گئے۔ آج جب کہ بجلی کا مسئلہ بھی بڑی حد تک حل ہو چکا ہے، تو انتخابات میں بنیادی نکتہ گورننس کا ماڈل ہے، کہ آیا ہمیں تحریک انصاف کے منشور کے مطابق صحت، انصاف اور تعلیم جیسی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کے وعدے کو ووٹ دے کر ترقی کے نیچے سے اوپر جانے والے ماڈل کو اپنانا ہے یا مسلم لیگ ن کے میگا پروجیکٹس کے ذریعے ترقی کے اوپر سے نچلے طبقات کی طرف سفر کرنے والے، جسے انگریزی میں trickledown effect کہا جاتا ہے، ماڈل کو اپنانا ہے۔

سیاسی شعور اور ارتقاء کی یہ منزل جو اس ملک کی عوام نے ایک بار طے کر لی ہے، تو اب سے واپسی ناممکن ہے۔ اور اس سفر میں جمہور کی رہنما جمہوریت ہی تھی، آگے بھی یہی ہوگی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *