Type to search

ادب تجزیہ فيچرڈ فیچر

استاد ذاکر حسین:  طبلہ نواز توہر گز نہیں!

لفظ ‘طبلہ’ ذہن میں آتے ہی تصور کی آنکھ ایک ہی صورت دکھلاتی ہے جو استاد ذاکر حسین کی ہے۔ استاد اوروں کے لئے ہونگے ہمارے لیے تو ذاکر بھائی ہیں اور ہم ان کا ذکر اس مضمون میں بھی بطور ‘ذاکربھائی’ ہی کرینگے۔ 9 مارچ 2021 کو ذاکر بھائی بھی ستر برس کے ہو گئے۔ شکل و صورت  سے وہ ستر کے ہر گز نہیں لگتے۔ شاید انہیں لگتے ہوں جن کی ان سے کوئی وابستگی نہیں۔  ہماری ملاقات ذاکر بھائی سے 2 جنوری 1990 کو ہوئی ۔ اسوقت یہ چالیس کے قریب تھے۔ ہمیں تو ابھی بھی چالیس ہی کے قریب لگتے ہیں۔ شاید ان سے ملاقات کے بعد وقت تھم گیا ہو۔ ہو سکتا ہے ہمارا ذہن منجمد ہو گیا ہو۔ ہمارے خوابوں میں تو ذاکر بھائی ہفتے میں ایک بار تو ضرور آتے ہیں اور چالیس کے حلیے ہی میں۔

ہمارے یہاں بڑھاپے کا تصور 50 کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ جو 60 برس کا ہو جائے اسے ہم کہتے ہیں یہ سٹھیا گیا ہے۔ ذاکر بھائی کے ساتھ معاملہ الٹ ہے۔ یہ اور ان کا طبلہ ابھی تک دونوں ہیں شباب پر۔ دن بہ دن ان کے طبلے میں نت نئی چیزیں نظر آتی ہیں ۔ ستر برس سے یہ طبلے کے مسافر ہیں۔ چلے جا رہے ہیں۔ ایک سے ایک نئی منزل دریافت کرتے جا رہے ہیں شاید منیر نیازی صاحب نے ان کو سوچ کر ہی یہ شعر لکھا تھا:

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

 

ذاکر بھائی کے بارے میں ہم کچھ ایسا نہیں لکھنا چاہتے جو پہلے سے ہی انٹر نیٹ میں موجود ہے۔ اور ان کے بارے میں کیا لکھا جائے۔ بڑے لوگوں کے بارے میں کچھ بھی لکھنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ کچھ بھی لکھ لیں، لکھا ہوا ان کی عظمت کا احاطہ نہیں کر سکے گا۔ محاورے پھیکے پڑ جاتے ہیں مثلاً طبلے کا شہنشاہ، طبلے کا بے تاج بادشاہ، طبلے کا خدا، طبلے کا ایک عہد۔ حقیقت میں یہ واقعی سب کچھ ہیں پھر بھی یہ القابات ان کی شان میں انتہائی گھسے پٹے اور بے معنی لگتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ طبلے میں ان کا مقام وہ ہے جہاں القابات کی رسائی ممکن نہیں۔ اگر ہمیں دنیا کی ہر زبان پر بھی عبور حاصل ہو جائے۔ اور ہمارے پاس لکھنے کی وہ طاقت ہو جو دنیا کے سب سے بہترین لکھاری یا شاعر  کے قلم سے بھی زیادہ ہو، تب بھی ہم ذاکر بھائی کی شان میں ایک جملہ بھی نہ ڈھنگ سے لکھ یا کہہ نہیں پائیں گے۔

لہذا ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم ان کی شان میں کچھ بھی نہیں لکھ سکتے۔ یہ مقام ہے ہماری کم علمی کا! ذاکر بھائی کے علاو ہ بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم تو کیا کوئی بھی کچھ نہیں لکھ سکتا۔  ہم صرف یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ ذاکر بھائی کا طبلہ سننے کے بعد طبعیت کسی اور چیز میں نہیں لگتی۔ ان کے طبلے کے بعد صرف خاموشی کی آوازاچھی لگتی ہے اور اس خاموشی میں بھی صرف ان کا طبلہ ہی سنائی دیتا ہے۔ اگر آج ہمیں طبلے سے پیار ہے اور اگر ہم آج طبلہ سیکھ رہے ہیں، اسکا ریاض کرتے ہیں تو اس کی وجہ ذاکر بھائی ہی ہیں۔ اگر ذاکر بھائی نہ ہوتے تو ہمارا بھی طبلے سے کوئی ناطہ نہ ہوتا۔ بس ایک تکون ہے، ذاکر بھائی، طبلہ اور ہم۔

ہم بہت غمگین ہوں تو ذاکر بھائی کا طبلہ سنتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کوئی غمخوار آ گیا ہے۔ ہم بہت خوش ہوں تو ذاکر بھائی کا طبلہ سنتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کوئی بہت ہی سچا دوست آ گیا ہے جس کے ساتھ خوشیا ں بانٹی جا رہی ہیں۔دن ہو یا رات، زندگی کے چلتے پھرتے وقت کے کسی بھی لمحے میں ان کا طبلہ سن کر ایسا لگتا ہے کہ وقت تھم گیا ہے۔ جب وقت تھم گیا تو سب غم بھی تھم گئے۔ سب مصیبتوں، رنج و الم سے نجات مل گئی۔ رگ و ریشے میں ایک سرد لہر دوڑ جاتی ہے۔ جسم کا رواں رواں کھڑا ہو جاتا ہے۔ ذہن منجمد ہو جاتا ہے مگر مکمل کام کرتا ہےجو ایک ہی ہوتا ہے۔ طبلے کی آواز کو موصول کرتا ہے۔ اور آواز کے زیروبم سے جسم میں خون کی گردش کو جوڑ دیتا ہے۔ اس دوران ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم کیا چیز ہیں ۔ ہو سکتا ہے ہم فرعون ہوں۔ مگر ان کے طبلے کی آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم بھی مٹی سے بنے ایک انسان ہیں جس کے جسم کی ہر حرکت اب طبلے کی آواز کے سحر میں ہے۔ ہم اب ایک قیدی ہیں جو طبلے کی آواز میں گم ہو چکا ہے۔ اب ہمیں دنیا کے بہترین کھوجی بھی ڈھونڈ نہ پائیں گے۔ کیسے ڈھونڈ پائیں ۔ ہم تو اس جہاں میں ہیں ہی نہیں۔ ہم تو اس جہاں میں ہیں جو اسوقت ہی ظہور پذیر ہوتا ہے جب ذاکر بھائی طبلے پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ ہم خود بخود دنیا کے سامنے ظاہر ہو جاتے ہیں جب ان کا طبلہ رک جاتا ہے۔

یہ نادان دنیا نہیں جانتی کہ ذاکر بھائی ایک طبلہ نواز نہیں مسیحا ہیں درد کے ماروں کا۔ خوشی سے مست قلندروں کا۔ انہیں طبلہ نواز  کہنا، یا طبلے کا خدا کہنا ، طبلے اور خدا دونوں کی توہین ہے!

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *