Type to search

تجزیہ جرم مذہب معاشرہ

’ملاؤں‘ کے معاشرے میں عالم کا امن پھیلانا یقیناً قابلِ گرفت جرم ہے

پاکستانی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ بن چکا ہے جہاں دلیل ، منطق اور حقائق پر بات کرنے والے کو گمراہ یا فاسد سمجھا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا وہ واحد معاشرہ ہے جہاں عموماً یہ بات کی جاتی ہے کہ ’ کتابیں پڑھنے سے انسان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے‘ البتہ دقیانوسی کہانیوں اور من گھڑت تشریحات کو بے حد اہمیت دی جاتی ہے اور غلط باتیں پھیلانے والوں کا اس معاشرے میں بہت ’سکوپ‘ ہے۔ ہمارے اس معاشرے میں مولوی یا ملا کے کردار کو تو حرفِ تنقید ضرور بنایا جاتا ہے مگر مولوی کی روائتی سوچ سے متبادل کوئی پڑھا لکھا سکالریا محقق دینی مسئلے کی عقلی دلیل دینے کی کوشش کرے تو اسے ’ملحد‘ ’قادیانی‘ یا ’خارجی‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اسی بات کے تناظر میں ابن انشاء نے شاید درست لکھا تھا کہ
’دائروں کی کئی اقسام ہیں، ایک دائرہ اسلام کا بھی ہے، پہلے اس میں لوگوں کو داخل کیا جاتا تھا ، اب خارج کیا جاتا ہے‘

ماضی میں قرآن و حدیث پر دسترس رکھنے والے ایسے بہت سے علمائے کرام آئے جنہوں نے دین اسلام کی علمی اور عقلی تشریحات کیں۔ ان کی وجہ سے بہت سے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ ان علماء کی دین کے لئے خدمات کا معترف سارا زمانہ ہے مگر اپنے ہی ملک میں ان کے خلاف ایک روائتی اور نفرت انگیز سوچ کی حامل فوج تیار کی گئی، ان کو یہاں جان کا خطرہ لاحق ہوا اور انہیں مجبوراً ملک بدر ہونا پڑا ان میں غلام احمد پرویز اور جاوید غامدی کے نام سرِ فہرست ہیں۔

گزشتہ روز اختلاف رائے کی بنیاد پر قاتلانہ حملہ میں بال بال بچ جانے والے انجینیئر محمد علی مرزا کی داستان بھی کچھ یوں ہی ہے۔ جن پر اکتوبر 2017 میں پہلا قاتلانہ حملہ کیا گیا بعد ازاں مئی 2020 کو ان کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
نفرتوں، تنگ نظری اور تعصبات سے بھرے اس معاشرے میں انجئیر محمد علی نے دین اسلام کی جدید سائنسی اور اجتہاد پر مبنی تشریح کر کے بہت سے روائتی مولویوں کی دکانیں بند کیں۔

انجینئر محمد علی مرزا کا تعلق جہلم کے ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کے علاوہ، انجیئرنگ کی دنیاوی تعلیم بھی حاصل کی، ساتھ ہی ساتھ بہت سے اہم دینی، سیاسی اور سماجی مسائل ہر ہزاروں کتابیں پڑھی۔ جہلم میں قائم اپنے سنٹر میں وہ نہ صرف دینی بلکہ دنیاوی مسائل پر بھی قرآن، احادیث اوراسلامی تاریخ کا حوالہ دیکر اسلام کے بارے پیدا کی گئی غلط فہمیوں کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا لیکچر دینے کا انداز روائتی مولویوں کی بجائے جدید اور عقلی منطق پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم عرصہ میں ان کی تعلیمات سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں ملا ہے، ان کے لیکچرز سننے والا طبقہ پڑھا لکھا طبقہ سمجھا جاتا ہے علاوہ ازیں ان کے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد 14 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

اپنے ایک لیکچر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انکا مقصد دین اسلام کی حقیقی اور عقلی منطق کے مطابق تشریح کر کے عوام کے سامنے لانا اور ان مولویوں کی دکانداری بند کرنا ہے جنہوں نے دین اسلام کو صرف اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔  اس بات کا اظہار انہوں نے بارہا کیا کہ انکا تعلق کسی بھی مسلک سے نہیں بلکہ وہ ہر مسلک میں موجود مذہبی غلط فہمیوں پر بھر پور تنقید کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ وہ ہر جگہ یہ بات کرتے ہیں کہ ؎
نہ میں شیعہ نا میں وہابی
میں ہوں مسلم علم کتابی
انجینئر محمد علی مرزا نے توہین رسالت کے قوانین کے غلط استعمال اور ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے خواتین کے مسائل پر متعدد لیکچرز دئیے۔ عورت مارچ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہ ’ یہ برصغیر معاشرے کی تلخ حقیقت ہے کہ یہاں عورتوں کو پاؤں کی جوتی بنا کر رکھا جاتا ہے‘
اسی ویڈیو میں انہوں نے مذہبی علماء پر سخت تنقید کی اور معاشرے میں عورتوں کو جائیداد میں حق نہ دینے، مارنے پیٹنے اور تیزاب کے حملوں پر بھی کھل کر بات کی۔

ان کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ معاشرے کو مسلکوں میں بانٹنے کی بجائے متحد کرنے پر زور دیتے ہیں۔ جس کی مثال یہ ہے کہ تمام مسالک کے مولوی و علما بھلے ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہوئے مگر ان کی شخصیت کی مخالفت میں سب متحد ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ان سے اختلاف رکھنے والوں نے کبھی ان کی دلیل کا جواب نہیں دیا البتہ وہ ان کی شخصیت پر الزام لگاتے ہیں اور کئی علماء تو ان کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ’وہ انجینئر ہیں انہیں دین کا علم کیسے ہو سکتا ہے۔ ‘
انجینئر محمد علی جو بات کریں کھل کر کرتے ہیں اسی لئے شاید اس بات میں کوئی بعید نہیں کہ ان پر ہونے والا حملے اور کیسز ان کے نظریات کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے کئے جاتے ہیں۔
ایسے معاشرے میں جہاں بہت سے ’ملا‘ نفرت پھیلاتے ہیں ایسے میں کسی عالم دین کا محبت اور امن پھیلانا یقیناً قابلِ گرفت جرم ہے۔ تاہم دین اسلام میں علم، عقل اور دلیل سے بات کرنے کی جو شمع انہوں نے جلائی ہے اس روشنی کو پھیلنے سے اب کوئی نہیں روک سکتا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *