Type to search

خبریں سیاست

پیپلز پارٹی کو ہر مرحلہ پر برداشت کیا، جو 7 ووٹ مجھے پڑنے تھے وہ کہاں گئے؟: مولانا غفور حیدری

پی ڈیم کے امیدوار برائے ڈپٹی چئیرمین سینیٹ اور جے یو ؤئی ایف کے مرکزی رہنما مولانا غفور حیدری نے کہا ہے کہ وہ 7 ووٹ کہاں ہیں جو مجھے پڑنے تھے؟ انہوں نے کہا کہ مشترکہ بیانیے میں تھا کہ 2018 کےانتخابات کےنتائج تسلیم نہیں۔ پی ڈی ایم بنی توتوقعات بڑھ گئیں کہ اپوزیشن جماعتیں ایک پلیٹ فارم پرآگئیں۔ ہرمیٹنگ میں سرفہرست استعفوں کی بات چلتی رہی۔ آخرمیں ہم نےلانگ مارچ کااعلان کیالانگ مارچ تو ہم نےپہلےبھی کیاتھا۔

یہ بہترین موقع تھاکہ ہم سب سرجوڑ کربیٹھےسب کی رائےآگئی۔ جب زرداری صاحب نےگفتگو فرمائی تو عجیب سالگا۔ گفتگو سےاندازہ ہورہاتھا کہ یہ بنانےوالی باتیں نہیں بگاڑنےوالی باتیں ہیں۔ آصف زرداری کی باتوں پرافسوس ہواوہ بڑے آدمی ہیں ہم اس طرح ردعمل نہیں دے سکتے۔

اگرجمہوریت ہےتو9 جماعتیں ایک رائےدیتی ہیں۔ مرحلہ وارپیپلزپارٹی کوبرداشت کیا اورساتھ لےکرچلنےکی بھی کوشش کی۔ پیپلزپارٹی کےجواب کاانتظارہےہم چاہتےہیں کہ سلیکٹڈحکومت کاخاتمہ ہو۔ وہ7ووٹ جومجھےملنےتھےوہ کہاں گئے؟۔ مولانافضل الرحمٰن مختلف الخیال جماعتوں کوساتھ لےکرچل رہےہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں خطاب کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں۔ نواز شریف اگر جنگ کے لئے تیار ہیں تو لانگ مارچ ہو یا عدم اعتماد کا معاملہ، انہیں وطن واپس آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وطن آجائیں ہم استعفے انکو دے دیں گے۔  اسمبلیوں کو چھوڑنا عمران خان کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ ہم پہاڑوں پر سے نہیں بلکہ پارلیمان میں رہ کر لڑتے ہیں۔

دوسری جانب مریم نواز نے آصف علی زرداری کو انکی تنقید پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ انکے والد کی جان کو کطرہ ہے ایسے میں وہ کیسے ملک میں واپس آئیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آصف علی زرداری ان کے والد کی جان کے تحفظ کی گارنٹی دیں تو وہ واپس آجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے ساتھ استعفوں کو وابستہ کرنے کے حوالے سے  9 جماعتیں اس کےحق میں تھیں اور پیپلزپارٹی کو اس سوچ پر تحفظات تھے، پی پی  نے وقت مانگا ہے کہ ہم پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی طرف رجوع کریں گے اور پھر پی ڈیم کو اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ہم نے پیپلزپارٹی کو موقع دیا ہے اور ہمیں ان کے فیصلے کا انتظار ہوگا لہٰذا 26 مارچ کا لانگ مارچ پیپلزپارٹی کے جواب تک ملتوی تصور کیا جائے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی مولانا فضل الرحمان پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔ اس پر مریم نواز نے بھی مولانا فضل الرحمان کو آواز دی لیکن وہ واپس نہ آئے۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *