Type to search

تجزیہ جمہوریت حکومت سیاست

کیا فوج پر طریقے سے تنقید کریں تو ردِ عمل نہیں آتا ؟

اس سے پہلے کہ ہم تنقید پر بات کریں پہلے جان لیتے ہیں کہ تنقید کہتے کسے ہیں ؟ تنقید عربی زبان کا لفظ ہے جو دراصل عربی کے نقد یا انتقاد سے ماخوذ ہے، لغوی معنی پَرکھنے ، بُرے بَھلے کا فرق معلوم کرنے کا ہے۔ اصطلاح میں محاسن ومعائب کا صحیح اندازہ کرنا اور اس پر اظہار رائے تنقید کہلاتا ہے۔ تنقید فن ہوتا ہے یا پھر بھڑاس نکالنے کو تنقید کہتے ہیں اسکا فیصلہ صورتحال کے مطابق ہر شخص خود کرتا ہے۔

تنقید کا لفظ ہمیشہ سے منفی لیا جاتا ہے ، حالانکہ تنقید دو طرح کی ہوتی ہے ،ایک تنقید برائے تنقید اور دوسری تنقید برائے اصلاح ۔۔ لیکن یاد رکھیے جناب تنقید تنقید ہی ہوتی ہے جس پر کی جا رہی ہو وہ اسکا مطلب شائد کبھی اصلاح لیتا ہی نہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چار بار مارشل لاء لگایا جا چکا ہے۔  7 اکتوبر 1958ء کو پاکستان میں پہلا  مارشل لاء صدر اسکندر مرزا نے نافذ کیا تھا، چکوال کے جنرل آغا محمد یحٰیی خان نے دوسرا مارشل لاء 25 مارچ 1969 کو لگایا، ضیاء الحق نے  1977ء میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا لگایا جبکہ 19 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویزمشرف نے نواز شریف کی حکومت پر قبضہ کر کے مارشل لاء کا اعلان کیا تھا۔

جمہوری حکومتوں پر 4 بار شب خون مارا گیا اور انکو اقتدار سے زبردستی علیحدہ کیا گیا اس وجہ سے جمہور کے نمائندے غیر سیاسی قوتوں کیخلاف دکھائی دیتے ہیں اور گاہے بگاہے تنقید کے نشتر بھی چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ خود کو عوامی نمائندے کہلانے والے خواص بھی انہی نرسریوں سے پروان چڑھے ہیں اور اقتدار کی کرسی کی خاطر ہر جائز و ناجائز عمل کو سرانجام دے چکے ہیں۔ حالانکہ یہ سب کام ملکی مفاد میں قرار دیکر انجام دیئے گئے اور جمہوری نمائندوں کے علاوہ دیگر نمائندوں کیساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا گیا ۔۔۔

اسکندر مرزا بتاتے ہیں کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے 20 دن بعد رات کے وقت بیرے نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا ، میں سیڑھیاں اُتر کر باہر آیا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ایوان صدر کی راہداریوں اور باغ کی روشوں میں اسٹین گن اور دوسرے اسلحہ سے لیس بڑی تعداد میں فوجی کھڑے تھے۔ چار جرنیلوں موجود تھے، مجھے پیغام دیا گیا کہ “مجھے پاکستان چھوڑنا پڑے گا۔’میں نے پوچھا ‘کیوں؟۔’ جواب ملا ‘ملک کا مفاد اسی میں ہے۔

برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو 1958ء تا 1960ء آمر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت رہے ۔۔ یوں کہہ لیجئے مارشل لاء کے ناظم اعلی کی کابینہ میں بابائے آئین پاکستان یا قائدِ عوام نے آمریت کی راہداریوں سے سیاسی سفر کا آغاز کیا

اسی طرح ایک کاروباری گھرانے میں پیدا ہونے والے محمد نواز شریف نے 70 کی دہائی میں سیاست میں قدم رکھا اور آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں بطور وزیر خزانہ تعینات ہوکر ایوان میں قدم رکھا اسکے بعد 1985 میں غیر جماعتی انتخابات میں وزیراعلی پنجاب بنے۔

اگلا دور تھا جمہوریت بمقابلہ جمہوریت ، بینظربھٹو اور نواز شریف کے درمیان اقتدار کی سیاسی جنگ کے خاتمے کا سہرا جنرل پرویز مشرف کے سر جاتا ہے۔ 2006 لندن میں میثاق جمہوریت ہوا اور یوں ایک اور آمر کے اقتدار کے بعد سیاست کی باگ ڈور شریف اور بھٹو خاندان سے نکل کر زرداری خاندان تک پہنچی۔ یہاں براہ راست آمریت کا آخری دور ختم ہوا۔

اس دور تک تنقیدی الفاظ تو ادا ہوتے تھے لیکن ڈھکے چھپے انداز میں ۔ لیکن اس کے بعد کہانی بدلنا شروع ہوئی، اب تنقید خواص کے بجائے عوامی سطح پر بھی ہونے لگی ، خاص طور پر سوشل میڈیا نے اُدھم مچا کر رکھ دیا ، یوتھ اور ففتھ جنریشن والے سیم پیج پر ہوئے ،ووٹ کو عزت کے نعرے شروع ہو گئے اور احتسابی اداروں نے جرات کا مظاہرہ کر کے جیالوں کو بیمار کر دیا۔

یہاں سے تنقید کا سلسلہ ریٹائرڈ افسران کا نام لیکر شروع ہوا جبکہ ڈیوٹی پر موجود افسران کو ڈھکے چھپے انداز میں طعنے دیئے جانے لگے، ایسے میں بھارتی حکومت کے چائے بنانے والے اور چائے پینے والے دونوں افراد کی وجہ سے پاکستانی فضاؤں اور زمینوں کے علاوہ داخلی تنقید کے محاذ پر بھی کامیابی سے دفاع کر لیا گیا۔

بلوچستان کو پارلیمنٹ میں جگہ دیکر کسی حد تک خاموش کروا دیا گیا اور فاٹا کو ضم کر دیا گیا۔ پی ٹی ایم کا بیانیہ چلا لیکن بک نہ پایا ، محسن داوڑ کہتے ہیں پی ٹی ایم کا کام مکمل ہو گیا ، انھوں نے آگاہی کا کام کیا ، پی ڈی ایم استعفوں کے کھوکھلے نعروں کی نذر ہو گئی ، جیالے سینیٹ کی ایک نشست لے گئے اور پنجاب پھر سے خالی ہاتھ رہ گیا۔ مولوی بظاہر سخت ہوتے ہیں ، اپنی بات پر اَڑ جاتے ہیں اور انکے ہاتھ کچھ لگ جائے تو سو بسم اللہ ورنہ شکر الحمدللہ۔

رہی بات عوام کی تو عوام تو سیاست کی بساط پر مہرے ہی نہیں ہوتے۔ عوام زیادہ سے زیادہ ریٹارڈ افسروں کی بڑی پوسٹوں پر تعیناتی کیخلاف بات کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ انکو روزگار چاہیئے، جب تک ریٹائرڈ آتے رہے، عوام منہ ہی دیکھتے رہیں گے ۔ آجکل سوشل میڈیا پر ایک بار پھر سے “قتل آم” کی چہ مگوئیاں ہیں، رہائشی منصوبوں کیلئے زرخیر زمین میں کنکریٹ بھرنا پر عوام ناراض دکھائی دے رہی ہے، لیکن فکر کی کوئی بات نہیں کیونکہ نہ تو عوام کو منہ لگایا جاتا ہے اور نہ ہی انکی بات پر کان دھرا جاتا ہے اس لیے جواب کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، اسلیے آپ طریقے سے تنقید کریں یا نہ کریں کوئی ردعمل آنے کا نہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنقید فوج پر ہی کیوں ؟ اوروں پر کیوں نہیں ؟ دراصل ہمارے ملک میں اپنا بیانیہ بیچنے کا سب سے آسان کام اگلے کو ہدف تنقید بنانا ہے تاکہ عوام مخالف سے متنفر ہو جائیں اور ہمارے دست و بازو بنیں، یہ کام ادارے بھی کرتے ہیں اور جمہوریت پسند بھی ۔ عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کا اس سے آسان کوئی حل نہیں ،عوامی جذبات کو ابھارو ،اور اپنا اُلو سیدھا کر کے نکل جاؤ۔

اگر یہ تنقید کرنے والے جمہور پسند اپنا سیاسی ادارہ بنا لیں اور اپنی سیاسی نرسری بنائیں تو شاید کل اس تنقیدی عمل سے نکل کر عوامی مسائل کا کچھ حل ممکن ہو۔ وطن عزیز میں چونکہ سب اپنے آپ کو عقل کُل سمجھتے ہیں اس لیے تنقید کا کوئی اصلاحی اثر نہیں لیا جاتا۔

ڈاکٹر علی شریعتی لکھتے ہیں کون نہیں جانتا کہ نقاب دار دشمن بے نقاب دشمن سے زیادہ خطرناک ھوتا ھے ؟ ڈکٹیٹر شپ ؛ مارک دار شیشی میں بھرا ہوا زہر ھے جسے زبردستی پلایا جاتا ہے، اورڈیمو کریسی ؛ پسماندہ معاشرے میں ایک خوش ذائقہ چرب لقمہ ھے جسے زہر آلود کر دیا گیا ہے اور بصد خوش آمد آپ کو عطا کیا جاتا ھے اور آپ  اِسے ھزاروں امید و التماس اور حرص و یاس کے ساتھ دشمن سے لے کر نگلتے ہیں ، جسے  وہ یونہی مفت نہیں دیتا ! یہ وہی زہر ہے جسے نابینا مریض طبیب کے ہاتھ سے لے کر مبتلائے مرگ بھی ہوجائے تو قصیدے طبیب کے ہی پڑھتا ہے ۔

ملک خداداد آمریت و جمہوریت دونوں ادوار سے گزر چکا ہے لیکن عوام آج بھی خواص بننے اور خاص مرتبے و رتبے کے خواب دیکھتے نظر آتے ہیں، انقلاب کی تو بات کرنا ہی مضحکہ خیز ہے کیونکہ عوام تو ابھی تک حقوق و فرائض کی بجا آوری سے ہی نا آشنا نظر آتے ہیں،  پیسے کو عزت اور مرتبے کو طاقت سمجھتے ہیں،  ڈگری نوکری کیلئے حاصل کی جاتی ہے اور تعلیم کاروبار بھی ہے اور بکاؤ مال بھی ۔ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ لیکن امید پھر بھی قائم رہتی ہے کہ میرے عزیز ہم وطنو کی گونج کبھی خارج از امکان نہیں رہی !

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *