Type to search

فيچرڈ فیچر

ایک ہاتھی سب پہ بھاری

ایک زرداری سب پر بھاری۔ آج کل مسلم لیگ ن والوں کو یہ جملہ بہت برا لگ رہا ہے۔ احسن اقبال نے کہا اصول کی سیاست نہیں کرنی تو میں بھی سب پر بھاری ہو سکتا ہوں۔ اگلے روز اپنی پریس کانفرنس میں مریم نواز نے بھی کچھ ایسے ہی الفاظ ادا کیے۔ بلاول صاحب اپنی پریس کانفرنس میں بہت پرسکون نظر آئے۔ وہ اپنی کارروائی ڈال چکے تھے اور انہیں جانے کیا سہانے کل کی نوید ہے کہ اب بھی مصر ہیں پنجاب میں تبدیلی آ کر رہے گی۔ پہلا حق حمزہ شہباز کا ہے لیکن اگر وہ نہیں تو پھر دوسرا حق پرویز الٰہی کا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ دس سیٹوں والے پرویز الٰہی کا حق کس حساب سے ہے لیکن یہ موضوع نہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا آصف زرداری واقعی سب پر بھاری ہیں؟

اس کے لئے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا۔ آصف زرداری قومی سیاسی افق پر اس وقت ابھرے جب 1987 میں بینظیر بھٹو صاحبہ سے ان کا بیاہ ہوا۔ اگلے برس الیکشن ہوا۔ اس زمانے میں قومی اور صوبائی الیکشن ایک ہی دن نہیں ہوا کرتے تھے۔ قومی اسمبلی کا الیکشن ہوا تو پاکستان پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر کوششوں کے باوجود 94 سیٹیں لے کر فاتح ٹھہری۔

ایک میاں شریف سب پہ بھاری

ان کوششوں میں سے ایک بہت بڑی کوشش اسلامی جمہوری اتحاد کا قیام بھی تھا جس کے بارے میں خود حمید گل نے تسلیم کیا کہ انہوں نے تمام پیپلز پارٹی مخالف سیاستدانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا تھا۔ قومی اسمبلی کے تین روز بعد صوبائی اسمبلیوں کا الیکشن ہونا تھا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی آندھی چل رہی تھی۔ بڑے بڑے برج الٹ چکے تھے۔ غلام مصطفیٰ جتوئی اپنی نشست ہار گئے۔ محمد خان جونیجو اپنی نشست ہار گئے۔ اسلامی جمہوری اتحاد ایک بھی سیٹ نہ جیت سکا۔ ایسے میں جابر سلطان کے آگے ‘جابر سلطان کی مرضی سے’ کلمہ حق کہنے والے نوائے وقت میں ایک سرخی لگی: ‘جاگ پنجابی جاگ، تیری پگ نوں لگ گیا داغ’۔ 19 نومبر کو پنجاب کا الیکشن ہوا تو IJI نے 115 میں سے 45 نشستیں حاصل کر لیں جب کہ پیپلز پارٹی کی 53 نشستیں تھیں۔ حق تو پیپلز پارٹی کا تھا۔ لیکن اس وقت میاں شریف، نواز شریف کے والد صاحب، نے وہ کام کیا جو پاکستانی سیاست میں آج تک استعارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ چھانگا مانگا کے مقام پر آزاد امیدواروں کی مبینہ طور پر منڈیاں لگیں اور راتوں رات IJI کی اکثریت بن گئی۔ پنجاب میں حکومت بھی بنی۔ زرداری صاحب کچھ نہ بگاڑ پائے۔ میاں شریف سب پر بھاری ہو گئے۔

ایک یونس حبیب سب پہ بھاری

1990 کے الیکشن میں آئی جے آئی کو آئی ایس آئی نے نوٹوں میں نہلا دیا۔ قریب 14 کروڑ روپے مہران بینک سے نکال کر مختلف جماعتوں اور امیدواروں میں بانٹے گئے۔ اب کبھی نواز شریف کے خلاف انکوائری کا حکم آتا ہے، کبھی یونس حبیب میڈیا میں سپر سٹار بن جاتے ہیں لیکن زرداری صاحب کیا، کوئی کچھ نہیں کر پایا۔ نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم بنے، اور اس بار پیپلز پارٹی کو اکثریت کے باوجود سندھ میں حکومت نہیں بنانے دی گئی۔

ایک منظور وٹو سب پہ بھاری

1993 میں الیکشن ہوئے تو تب تک نواز شریف صاحب پہلی مرتبہ نکالے جا چکے تھے۔ ‘ڈکٹیشن نہیں لوں گا’ کا اعلان کر کے نظروں سے بھی گر چکے تھے۔ الیکشن میں انہوں نے پیپلز پارٹی سے زیادہ ووٹ لے لیے لیکن سیٹیں رہ گئیں کوئی 16 کم۔ پنجاب میں 1988 والا معاملہ الٹ ہو گیا۔ نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ نے اپنا پہلا آزادانہ الیکشن لڑا تو پنجاب سے 53 نشستیں ملیں اور پیپلز پارٹی کو 50۔ مگر اس بار منظور وٹو صاحب نے جناح کے نام سے ایک مسلم لیگ بنائی تھی جس کو 6 نشستیں میسر آ گئیں لیکن انہوں نے پانچ آزاد، ایک متحدہ دینی محاذ اور ایک نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کا فاتح اپنے ساتھ ملایا اور 13 سیٹوں کے ساتھ 12 وزیر اور ایک وزارتِ اعلیٰ ان کے حصے میں آ گئیں۔ منظور وٹو وزیر اعلیٰ پنجاب بنے۔ میاں شریف کچھ نہ کر پائے۔ منظور وٹو سب پر بھاری ہو گئے۔ سینیئر صحافی محمد ضیاالدین نے کچھ عرصہ قبل نیا دور سے ہی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ محترمہ کو وزارتِ عظمیٰ دینا ضروری تھا لیکن پنجاب انہیں اب بھی کسی صورت نہیں دیا جا سکتا تھا۔ لہٰذا اچانک متحدہ قومی موومنٹ نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا۔ کراچی، حیدرآباد سے پیپلز پارٹی کی نشستیں بڑھ گئیں، اور پنجاب منظور وٹو کے پاس چلا گیا۔ سانپ مر گیا، لاٹھی نہ ٹوٹنے دی گئی۔

ایک میاں اظہر سب پہ بھاری

1997 کے انتخابات تو یکطرفہ تھے۔ تمام سٹیک ہولڈرز پیپلز پارٹی کو نکالنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ نواز شریف صاحب دو تہائی اکثریت سے وزیر اعظم بنے لیکن یہ دو تہائی اکثریت بھی انہیں اتنا بھاری ثابت نہ کر سکی کہ مدت مکمل کر پاتے۔ آرمی چیف کو گھر بھیجتے بھیجتے خود جیل پنچ گئے۔ کچھ عرصہ تو پارٹی ٹھہری لیکن پھر خبریں آنے لگیں کہ میاں اظہر صاحب جو میاں صاحب کے گورنر پنجاب تھے، نے چودھریوں سے مل کر اپنا علیحدہ گروپ بنا لیا ہے۔ میاں صاحب کی ہمت جواب دے گئی اور جدہ ہی جاتے بنی۔ میاں اظہر نے ہمخیال گروپ بنایا۔ 2001 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تو پنجاب میں یہ گروپ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوا۔ ضلعوں کے ضلعے لگتا تھا میاں اظہر کی قیادت پر ایمان لا چکے ہیں۔ بھاری زرداری جیل میں، بھاری میاں شریف جاتی امرا میں بیٹھے تھے، بیٹے سعودی عرب جا چکے تھے، اور ثابت ہو گیا کہ اصل بھاری تو میاں اظہر صاحب تھے۔

دو چودھری سب پہ بھاری

مگر پھر یکایک کیا ہوا، کچھ سمجھ نہیں آئی۔ میاں اظہر صاحب جن کا ہمخیال ملک بھر میں فاتح ٹھہرا تھا، وہ لاہور سے عام انتخابات میں اپنی سیٹ بھی نہ جیت پائے۔ مسلم لیگ کے سب سے بڑے دھڑے کی قیادت چودھری برادران کے پاس آ گئی۔ پہلے اس کا نام مسلم لیگ جناح ہی سوچا گیا تھا لیکن پھر کسی سیانے کے کہنے پر مسلم لیگ (قائد اعظم) رکھا گیا۔ یہ جماعت سادہ اکثریت نہ حاصل کر سکی تو پیپلز پارٹی میں سے پیٹریاٹ نکال لی گئی۔ شیخ رشید جیسے آزاد امیدوار جو اپنے حلقے میں نواز شریف کے نام کا ووٹ لے کر قومی اسمبلی میں پہنچے تھے، وہ بھی سب سے بھاری چودھریوں کی قیادت قبول کر بیٹھے اور اگلے پانچ سال تک چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ چودھری شجاعت تو درمیان میں ڈیڑھ ماہ کے لئے وزیر اعظم بھی بنا دیے گئے۔ نہ نواز شریف ملک میں، نہ بینظیر بھٹو۔ کچھ عرصے بعد سابق سب سے بھاری میاں شریف کا بھی انتقال ہو گیا۔ تھوڑے دنوں بعد مستقبل کے سب سے بھاری آصف زرداری بھی باہر بھیج دیے گئے۔ اگلے چند سال چودھری برادران سب پہ بھاری رہے۔

ایک عطا مانیکا سب پہ بھاری

2008 میں مسلم لیگ نواز ایک بار پھر پنجاب کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ ابتدائی چند مہینوں کے بعد اس نے پیپلز پارٹی سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا لیکن پنجاب میں اکثریت کہاں سے لاتے؟ چودھریوں سے دوستی کرنی نہیں تھی۔ لہٰذا عطا محمد مانیکا صاحب نے مسلم لیگ ق میں ایک فارورڈ بلاک بنا لیا۔ سب سے پہلی خبر پانچ ممبران کی تھی اور پھر اس چشمِ فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا کہ اس فارورڈ بلاک نے ق لیگ کے کل 84 ممبران میں سے 55 اپنی طرف کر لیے۔ چودھری برادران منہ دیکھتے رہ گئے۔ ان کی حمایت یافتہ پارلیمانی پارٹی کو اقلیت میں بدل دیا گیا۔ عطا مانیکا بھاری ہو گئے، چودھری برادران ہلکے۔\

ایک ڈاکٹڑ طاہر علی جاوید سب پہ بھاری

یہ سارا کھیل لگ ایسے رہا تھا جیسے عطا مانیکا چلا رہے ہوں لیکن پھر پتہ چلا وہ بھی اتنے بھاری نہیں۔ جی ہاں۔ جب صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی نے اپنے پارلیمانی لیڈر کے لئے درخواست جمع کروائی تو اس پر نام کسی ڈاکٹر طاہر علی جاوید کا تھا۔ چند ہفتوں قبل تک سب سے بھاری عطا مانیکا اب حیران پریشان بیٹھے تھے۔ شاعری پہ انہیں ملکہ حاصل تھا۔ سو نصرت جاوید اور مشتاق منہاس کے پروگرام میں آ کر محض اتنا ہی کہہ سکے کہ

دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

ڈاکٹر طاہر علی جاوید سب پہ بھاری ہو گئے۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ 2009 میں پیپلز پارٹی نے پنجاب میں گورنر راج بھی لگایا، اس امید میں کہ ن لیگ میں سے فارورڈ بلاک نکال لیں گے۔ زرداری صاحب اس وقت ملک کے صدر تھے۔ سب سے بھاری ہونے کا اس سے بہتر موقع میسر نہیں آ سکتا تھا۔ لیکن بیچارے قاسم ضیا صاحب اور راجہ ریاض صاحب روزانہ ایک ہی مخصوص نشست پر رکن اسمبلی بنی لیگی خاتون کے ساتھ پریس کانفرنس پہ پریس کانفرنس کیا کرتے جو کبھی دعویٰ کرتیں 20 لوگ ان سے رابطے میں ہیں، کبھی یہ تعداد 27 بتاتیں لیکن سب سے بھاری زرداری کوئی چمتکار نہ دکھا سکے۔

ایک زرداری اور ایک ترین سب پہ بھاری

سابق سب سے بھاری چودھری پرویز الٰہی کی جماعت سے پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل ہونے والے جہانگیر ترین صاحب 2013 میں تو کچھ نہ کر پائے۔ زرداری صاحب بھی صدر رہتے ہوئے بھی کچھ نہ کر پائے۔ دونوں کی جماعتوں سے الیکشن سے قبل جوق در جوق لوگ مشرف بہ مسلم لیگ نواز ہوتے رہے۔ مگر 2018 میں یہ دونوں صاحبان یکے بعد دیگرے سب سے بھاری بنے۔ سینیٹ انتخابات سے قبل زرداری صاحب نے بلوچستان میں لیگی حکومت توڑنے کا کریڈٹ بھی لیا۔ بعد ازاں سینیٹ انتخابات میں بلوچستان عوامی پارٹی کے صادق سنجرانی کو چیئرمین بھی بنایا۔ زرداری صاحب ان دنوں بڑے زور میں تھے۔ لگتا تھا کچھ کر دکھائیں گے۔ ہر وقت طیش میں رہتے تھے۔ سب سے بھاری تھے۔ مگر عام انتخابات میں مرضی نہ چلی۔ جہانگیر ترین نے پنجاب میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود جہاز بھر بھر کر لوگوں کو تحریکِ انصاف میں شامل کروایا۔ قومی اسمبلی میں بھی جو جو آزاد امیدوار تھا ترین صاحب نے پی ٹی آئی میں شامل کروایا۔ زرداری صاحب کے حصے میں سندھ حکومت آئی، پی ٹی آئی نے پنجاب اور مرکز میں حکومت بنا لی۔

لیکن پھر اچانک نہ جانے کیا ہوا کہ زرداری صاحب پر مقدمے پر مقدمہ بنتا چلا گیا۔ ان کا تو ٹی وی پر انٹرویو تک رکوا دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد ترین صاحب بھی شوگر کمیشن کی نذر ہوئے۔ لندن چلے گئے تھے، اب سنا ہے پاکستان واپس آ گئے ہیں لیکن ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے کے مصداق لگتا ہے کہیں روپوش ہیں۔

اب گیلانی صاحب سینیٹر بنے تو زرداری صاحب پھر سے بھاری بھرکم کر دیے گئے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں پنجاب میں بھی ن لیگ کے بغیر تحریکِ عدم اعتماد لائیں گے۔ غضب خدا کا، 183 سیٹوں والی پی ٹی آئی کو ہٹانے کے لئے 167 سیٹوں والی ن لیگ کی حمایت کے بغیر 7 سیٹوں والی پیپلز پارٹی کہہ رہی ہے کہ 10 سیٹوں والی ق لیگ کو حکومت میں لائے گی۔ لگتا ہے کوئی بہت ہی بھاری آشیرباد ہے۔

اوپر دیے گئے حقائق دہرانے کا مقصد محض یہ ثابت کرنا ہے کہ مولانا روم درست کہتے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں سونڈ آتی ہے، وہ کہتا ہے ایک زرداری سب پہ بھاری۔ کسی کے ہاتھ میں پونچھ آتی ہے، تو پکار اٹھتا ہے کہ بھاری تو ہمارے چودھری جی ہیں۔ کوئی دانت پکڑ کر کہتا ہے جہانگیر ترین سب پہ بھاری ہے۔ کسی نے کان کو ہاتھ لگا کر عطا مانیکا کو بھاری بنا لیا۔ معاملہ کچھ اور ہے۔ اس کمرے میں ایک ہاتھی ہے۔ اور ساتھ گھپ اندھیرا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *