Type to search

تجزیہ سیاست

عاصمہ شیرازی کا لیگی صدر کو عزت دینے کا مشورہ : نواز شریف بزدار حکومت کو ہٹانے کا گناہ بے لذت کیوں کریں؟

پاکستان کی سیاست اس وقت اس نہج پر ہے کہ جہاں سیاست  کے اس گنجلک کھیل میں شامل کھلاڑیوں کو خود بھی سمجھ نہیں آرہا کہ کون کس کے ساتھ ہے اور کس نے اب کونسے کھیل کی کونسی تکنیک استعمال کرنی ہے۔  سیاسی اکھاڑے کے تمام سکور کارڈز ہر کھلاڑی اور بظاہر ہر ٹیم کے اعداد و شمار کو برابر اور ہر کھاتے کو صفر بٹہ صفر دکھا رہے ہیں۔ ایک جانب ہائبرڈ ٹیم ہے۔ بظاہر اقتدار کی مسند پر بیٹھی اس ٹیم کے پاس تمام تر زور و جبر استعمال کرنے کا استحقاق موجود ہے۔ کہنے کو اس نے حزب مخالف کو آگے لگا رکھا ہے۔ لیکن وہیں نظر پڑتی ہے کہ ہائبڑد ٹیم اپنے تمام تر خاکی و وفاقی رعب و دبدبے کے باوجود اپنا ایک ناگزیز گھوڑا سینیٹر  منتخب نہیں کراسکتی اور بظاہر آگے لگی ہوئی حزب مخالف  اسے ٹھینگا دکھاتے ہوئے سینیٹ کی شاہراہ پر دندناتے ہوئے گزر جاتی ہے۔

امیدیں بڑھ جاتی ہیں اور لگتا ہے کہ اب کے بار تو مقتدرہ کی نمائندہ ٹیم ہائبرڈ کی چھٹی ہو ہی ہو۔ لیکن پھر معلوم پڑتا ہے کہ اکثریت کے باوجود ٹیم حزب مخالف سینیٹ چئیرمین کے الیکشن میں فارغ ہوتی ہے اور پھر ڈپٹی چئیرمین کے الیکشن میں بھی باہر ہوجاتی ہے۔ ابھی سب ادھر ادھر جھانک ہی رہے ہوتے ہیں کہ معلوم پڑتا ہے کہ ٹیم حزب اختلاف کے اپنے ہی کھلاڑی کے ایک دوسرے کی جگہ لینے کے چکر میں اپوزیشن لیڈر جا بنے ہیں۔ دوسری جانب ہلکی آواز میں کوئی کہتا سنائی دیتا ہے کہ ہونے کو تو مقدرہ کی بھی اچھی خاصی عوامی بستی بھی ہوچکی۔

اب معاملہ یہ ہے کہ سب کو سب نے سب مارا ہے۔ اب جانا کہاں ہے؟ یہ کسی کو معلوم نہیں۔ مریم اور بلاول باہم متحارب ہیں۔  نواز شریف برطانیہ سے کیا پیغام رسانی کر رہے ہیں کسی کو معلوم نہیں۔ زرداری صاحب کرونا وائرس کی ویکسین کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں جس کا سیاسی معاملات سے خاص تعلق نہیں۔ سیاست کے اس پیچیدہ ترین گنجل کو کھولنے کے لیئے اب صحافیوں نے بیڑا اٹھایا ہے اور تازہ ترین مشاورتی کوشش سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے کی ہے۔ اور انکا مشورہ ایک سطرمیں یہ ہے کہ شہباز بلاؤ، بزدار ہٹاؤ اور پنجاب میں چوہدریوں کو لاؤ اور اسکے بعد کام چلاؤ۔

گو کہ انکے مشورے کوشاید ابھی مزید پختگی کی ضرورت ہے تاہم اسکا جائزہ اور پھر اس کا تنقیدی جائزہ پیش کرنا بھی ضروری ہے۔ اپنے بی بی سی کو لکھے گئے  طویل کالم میں عاصمہ صاحبہ کہتی ہیں کہ

ہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ’باپ‘ کا نیا داغ پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر اپنے اُوپر کیوں لگوا لیا حالانکہ یہی اپوزیشن جلد یا بدیر اس اتحاد کی صورت سنجرانی کو ٹف ٹائم دے سکتی تھی۔

ایک طرف مریم نواز صاحبہ کو حمزہ سے بلاول کی ملاقات کا غصہ ہے یا ایک زرداری سب پر بھاری کا غم، بہرحال استعفوں کے معاملے سے لے کر اب تک تابڑ توڑ حملے اور بلاول بھٹو کے غیر روایتی جذباتی بیانات نے معاملات کو وہاں پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی فی الحال اور بظاہر ناممکن ہے۔

دوسری جانب شہباز شریف اور حمزہ شہباز معاملہ فہمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کیمپ سے تاحال کوئی بیان داغا نہیں گیا۔

پیپلز پارٹی اور ق لیگ پنجاب میں تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں۔ ن لیگ پرویز الہی پر نہیں مانے گی لیکن بدلتے حالات میں ن لیگ کو سیاسی کمپرومائز کرنا پڑے گا کیونکہ پنجاب میں بُزدار سرکار کی کارکردگی مقتدروں کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہے۔

دوسری صورت میں پنجاب میں ن لیگ کے پاس حکومت سازی کا ایک اور سُنہری امکان موجود ہے۔ یہ بات طے ہے کہ پنجاب سے تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوئی تو وفاق میں تبدیلی کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے۔

شہباز شریف تصادم کی سیاست کے خلاف ہیں، پیپلز پارٹی اور شہباز شریف کی سوچ ایک سی ہے تاہم شہباز شریف میاں نواز شریف کی منشا کے خلاف آگے نہیں بڑھ سکتے۔

نواز شریف ایسی صورتحال میں صرف محاذ آرائی چاہتے ہیں یا کوئی درمیانی راستہ نکال سکتے ہیں یہ آنے والے دنوں میں اہم ہو گا۔

ہ بات درست ہے کہ ہائبرڈ نظام کے خاتمے کا حل سسٹم کے ذریعے ہی آگے بڑھنے میں ہے تاہم اس کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو پارلیمان کے اندر ہی تبدیلی کی راہ اختیار کرنا ہو گی۔ کوئی بھی غیر جمہوری کوشش مستقبل کا منظر نامہ بدل سکتی ہے۔

خود ن لیگ میں اس معاملے پر اکثریتی رائے موجود ہے تاہم نواز شریف بیانیے کے خلاف کھل کے بولنا بڑی رکاٹ ہے۔

ایسے میں نواز شریف اگر ایک انتہا پر ہیں تو دوسری انتہا پر شہباز شریف لیکن حالات کا تقاضا ہے کہ شہباز شریف کو پہلے کی طرح ‘ایک اور چانس‘ دیا جائے۔

شہباز شریف آگے آسکتے ہیں اور تینوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان پُل کا کردار ادا کر سکتے ہیں، پنجاب اور وفاق میں تبدیلیوں کی راہ فراہم کر سکتے ہیں۔ آخر کار شہباز شریف اپنی جماعت کے صدر بھی ہیں۔ مسلم لیگ ن کو اپنے صدر کو عزت دینا چاہیے۔

عاصمہ شیرازی ایک منجھی ہوئی صحافی ہیں تاہم نجانے کیوں وہ اس زاویئے کو نظر انداز کر گئیں کہ بقول خود انکے کہ عثمان بزدار کی پنجاب میں پرفارمنس نے مقتدرہ کو ناراض کر رکھا ہےاور حقیقت یہی ہے کہ پنجاب میں اس وقت بزدار ہی تحریک انصاف کے خلاف بننے والی فضا میں اہم ترین عنصر ہے۔ اب ایسے میں نواز شریف کیوں سو سے زائد تحریکی ایم پی ایز کا فارورڈ بلاک بنانے کا گناہ بے لذت کر کے آخری سانسیں لیتے اس نظام  بدنام  کہ جسکا اعزاز یہ  نا اہل حکومت ہے اسکا بار خود پر لیں گے؟

اور خاص کر کے اب جبکہ انہوں نے خود دیکھ لیا کہ کیسے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈری تک ان کی پارٹی سے چھین لی گئی وہ کیوں نہیں چپ کر کے لندن کے ایک نرم گرم سے کیفے میں بیٹھ کر گرم کافی پیتے ہوئے شہباز شریف کو الیکشن 2023 کی پلاننگ کے حوالےسے پیغام رسانی کریں گے؟ نواز شریف کی سیاسی چال تو واضح ہے۔ اس لمحے سیاست میں رہنے کے لیئے مخالف کوحکومت میں رہنےدینا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *