Type to search

تجزیہ حکومت

 کائنات کے سب سے دیانتدار سائنسدان ڈاکٹر عطا الرحمٰن کے نام!

حضور کا اقبال ویسا ہی  بلند ہو جیسا ہر اس ہستی کا ہوا جس کا ذکر حضرت جعفر زٹلی اپنے دیوان میں کر گذرے۔  ناچیز کو علم ہے آپ انتہائی مصروف انسان ہیں۔ دن رات کی کون گھڑی نہ ہو گی جب حضور سائینسی تحقیق میں مصروف نہ ہوں۔ اسی لئے آپ کو خبر تک نہ ہوئی کہ دو دشمن آپکے خلاف نہ جانے کتنے گل کھلا چکے ہیں۔ ایک  ڈاکٹر طارق بنوری اور دوسرے ڈاکٹر پرویز ہودبھائی۔

 

ہود بھائی صاحب کی پاکستان اور اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ وہ ہی حضرت ہیں جنہوں نے اس قوم کو پانی سے چلنے والی گاڑیوں سے محروم کیا ۔ اگر یہ مستری وقار آغا  کے خلاف سازش نہ کرتے تو آج ہمارے توانائی سے متعلق سب مسائل حل ہو چکے ہوتے۔ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر  خان مستری وقار آغا کی پانی سے چلنی والی گاڑی میں خیبر سے کراچی تک سفر کر چکے تھے۔ خوب اچھی طرح چانچ پڑتال کر کے انہوں نے ٹی وی پر حاضری دی اور اس بات کی تصدیق کی کہ مستری وقار آغا کی ایجاد اصلی اور شک سے بالاتر ہے۔ پر ہود بھائی صاحب نے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔  اگر مستری وقار آغا کی پانی سے چلنے والی گاڑی کامیاب ہو جاتی تو عالم کفار کی پٹرول، ڈیزل اور بجلی سے چلنی والی گاڑیوں کا بھٹہ بیٹھ جاتا۔ ٹیسلہ تو فاقوں مر جاتا۔ ہودبھائی بھی ڈٹ گئے ۔ ٹی وی پر آگئے اور قوم کو بتا دیا کہ سائنس کی رو سے گاڑی پانی سے نہیں چل سکتی۔ بھئی ٹھیک ہے  لیکن مستری وقار آغا کی پانی کی گاڑی روحانیت کی ایجاد تھی جس پر آپ یقین نہیں رکھتے۔ جو یقین رکھتے تھے وہ تو اس کی سیر بھی کر چکے۔ پس ثابت ہوا کہ ہودبھائی کے بارے میں یہ پراپیگنڈہ کہ وہ اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں بالکل درست ہے۔ ہمارے رائے میں تو وہ سائنس کے بھی بہت بڑے دشمن ہیں۔

 

اب آتے ہیں بنوری صاحب کی طرف۔ شاید حضور کے علم میں نہ ہوکہ جب سے آپ ہائر ایجوکیشن کمیشن(HEC)  کو یتیم کر کے گئے یہ ادارہ شفقت پدری سے محروم رہا۔ آپکے بعد کئی چئیرمین آئے مگر کوئی بھی اسے باپ کی محبت نہ دے سکا۔ اس کے آخری چئیرمین بنوری صاحب تھے۔ شاید حضور کو یہ علم بھی نہ ہو کہ انہیں راتوں رات صدارتی آرڈیننس کے ذریعے حال ہی میں گھر واپس بھیج دیا گیا ہے۔ یہ انتہائی سخت گیر باپ ثابت ہوئے۔ آپ تو بچوں سے اتنی شفقت سے پیش آتے تھے کہ اگر کوئی  چھیتھڑے اخبار کا ٹکڑا بھی خدمت میں ارسال کر دتیا تو آپ اسے پی ایچ ڈی کی ڈگری فی الفور عطا کر دیا کرتے ۔ آپکی اسی فیاضی کی بدولت ملک میں پی ایچ ڈی کی ریل پیل ہو گئی۔ الحمد اللہ اس ناچیز کے گھر میں تین نوکر ہیں، خانساماں، ڈرائیور اور مالی۔ تینوں کے تینوں پی ایچ ڈی ہے۔ دن رات آپ کے ہی گن گاتے ہیں۔ مگر بنوری صاحب سنگدل نکلے۔ سوتیلے باپ سے بھی زیادہ ظالم ۔ میرٹ کی باتیں کرنے لگے۔ پھر آپکی ذاتِ مبارک تک پہنچ  گئے۔  آپ کو اپنی برطرفی کا قصوروار ٹہرا دیا۔ اسے کہتے ہیں ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ!  ثبوت اس لنک میں ہے۔

 

 

یہ انٹرویو جو کہ ہود بھائی اور بنوری صاحب کی ملی بھگت ہے (وہ ایسے کہ کیمرہ بنوری صاحب کا اورسلیمانی ٹوپی پہنے کیمرہ مین ہودبھائی صاحب کا کوئی چیلہ ہے) میں قوم کو یہ بتا کر گمراہ کیا جا رہا ہے کہ آپ کسی نام نہاد ٹاسک فورس کے سربراہ بن کر (ایسی فورس جو اپنے الطاف بھائی کے پاس تھی چائنا کٹنگ کے لئے) سرکاری یونیورسٹیوں کی زمین ہتھیانا چاہتے تھے۔  آپ ہر سال بنوری صاحب سے تین ارب روپے ڈکار لیتے تھے اور کرتے کراتے  بھی کچھ نہ تھے ۔

( یقیناً آپ نے بنوری صاحب کا جائز کمیشن بھی مار لیا ہو گا ورنہ معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا!)

بھئی جب نسوار خان نے بنوری صاحب کو کہہ دیا تھا کہ رحمن صاحب اس رحمن کی عطا ہیں جو دونوں جہاں کا مالک ہے اور آرمی کے سنتری کی طرح مقدس کٹہ ہیں تو کس نے انہیں یہ حق دیا کے آپ کا جائز پیسہ روکتے۔ پھر بنوری صاحب آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ آپ نالج اکانومی کی ابجد سے واقف نہیں۔  نالج میں آپکی اکانومی ڈرائیو کی وجہ سے ہی تو ملک کے کونے کونے میں پی ایچ ڈی حشرات الاارض کی طرح پھیل چکے ہیں۔ بنوری صاحب ہونگے عالمی لیول کے اکانومسٹ لیکن انہیں اکانومی کا کیا پتہ۔ انہوں نے تو ساری عمر اپنے خرچے پر بزنس کلاس یا فرسٹ کلاس میں سفر کیا ہے!

 

حضور بنوری صاحب کی دیدہ دلیری ملاحضہ ہو۔  اس یو ٹیوب انٹرویو کو 25:55 سے سنیں۔ بنوری صاحب فرما رہے ہیں:

HEJ (H.E.J. Research Institute of Chemistry) is a criminal institution.

اس انٹرویو میں ہودبھائی interviewer ہیں مگر کسی interviewee کی  طرح جانے کیا کیا خرافات  آپکے بارے میں فرمائے جا  رہے ہیں۔ آپ کی شیریں زبان کو کہہ رہے ہیں کہ : ‘بہت چرب زبان ہیں۔ سبزباغ دکھاتے ہیں’ ۔ آپکی فضاحت و بلاغت کو بے تکان گفتگو سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ آپ پر الزام لگا رہے ہیں کہ آپ نے کسی زمانے میں کہاتھا  کہ آپ پاکستان میں سات یورپین یونیورسٹیاں قائم کرینگے۔ ان ساتوں یونیورسٹیوں  کے چکر میں آپ  کافی پیسہ کھا گئے۔  but give the devil his due وہ یہ کہ آپ وہ ہستی ہیں جنہوں نے مشرف اور زرداری کو بے وقوف بنایا۔ اور اب آپ نسوار خان کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ بھئی زرداری کو بے وقوف بنایا تو واقعی کمال کیا کیونکہ ایک زرداری سب پہ بھاری۔ لیکن مشرف اور نسوار خان کو بے وقوف بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ خواہ مخواہ اللہ میاں کی تخلیقات میں پنگے لینا ٹھیک نہیں۔

حضور آپ چوبیس میں سے پچیس گھنٹے ریسرچ میں مصروف رہتے ہیں۔ بندے کو علم ہے کہ آپکے پاس کان کھجانے کی فرصت نہیں۔ بس اس خط کو تار سمجھیں اور فوراً  ان حضرات کی سازشوں کا منہ توڑ جواب دیں۔ ورنہ آپکی خاموشی کامیابی کو مجبور کر دے گی کہ ان لوگوں کے مذموم ارادوں کے قدم فوراً چومنے میں لیت و لعل  سے کام نہ لے ۔

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *