Type to search

بین الاقوامی سیاست تجزیہ سیاست

نیا بنگالی بابا: ‘نریندر مودی سادھو بابے کا روپ دھار کر بنگال فتح کرنے چلے ہیں’

کوہِ ہمالیہ سے پھوٹتے ہوئے ہندوستان کا طویل ترین اور ‘مقّدس’ دریا ،دریائے گنگا شمالی بھارت سے جنوب اور مشرق سے آئےہوئے دریاؤں کے ملاپ کے ساتھ خلیج بنگال میں جا گرتا ہے۔ اپنے ساتھ یہ دریائی سلسلہ مختلف خطوں کی زرخیزی ساتھ لاتا ہے۔ جو نہ صرف بنگال کی زمین کو زرخیز تر، جنگلات کو وسیع تر، نباتات کو فروغ تر کرنےکے ساتھ بنگال کو ایک خاص ‘حسن’ بھی عطا کرتا ہے۔کہتے ہیں کہ بنگالی حُسن کے جادواور بنگالی عملوں کی کاٹ سے بچنا مشکل ہے؛شرطیہ یہ حسینائیں اور بابے بڑی بڑی ‘بندش’کو توڑ ڈالتے ہیں۔

لمبی لمبی سفید زلفیں، بڑھی ہوئی سفید داڑھی۔ بھارت کے حکمران نریندر مودی نے کرونا دنوں میں شاید بنگال کو ‘فتح’ کرنے کے خیال سے اپنا حُلیہ ایک’کارپوریٹ’ سے ایک ماہر بابے والا بنا لیا ہے۔’ جوگی ‘کے نئے روپ دھارے مغربی بنگال کے ریاستی انتحابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی الیکشن مہم کی قیادت خود سے سنبھالے ہوئے ہیں۔ یوگی ادیاناتھ کی اتر پردیش کی زمام کار سنبھالنے کے بعد لگتا یہی ہے کہ اُتر پردیش سے بنگال تک جوگیوں اور یوگیوں کی ہی حکومت ہو گی۔
مغلیہ دور میں بنگال کی سلطنت اپنی زرخیزی اور وسعت کی بدولت برصغیر کی اہم ترین ،بڑی اور خوشحال ریاست رہی ہے۔ یہ خلیج بنگال کا ہی تجارتی راستہ تھا، جہاں ‘سونے کی چڑیا’ دیکھ کر انھوں نے قبضے کا سوچا۔ 1757 میں جنگِ پلاسی میں بنگال پر فتح پانے کے بعد عملاً ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا تھا۔ کون بھول سکتا ہے کہ اِس فیصلہ کن جنگ میں فتح کے لیے انھیں میر جعفر کو رشوت دے کر بغاوت پر اُکسانا پڑا تھا اور اسی کے بعد انگریزوں کے جا برانہ زرعی ٹیکس کے نفاذ کے بعد وبائیں اورپھر 1947 اور 1971 کی خونی تقسیم در تقسیم کے بعد خطہ مفلوک الحال اور انحصاری ہو گیا ۔ تاریخ میں بنگال کو میر جعفروں کا ہی سامنا رہا ہے، اور آج بھی، سرحد کی دونوں طرف بنگال کو میر جعفروں سے ہوشیار رہنا ہو گا تاکہ اپنی خود محتاری اور خوشحالی کو برقراررکھتے ہوئے بنگال کا جادو پھر سر چڑھ کر بول سکے۔

ہندوستان کا ‘آخری قلعہ’ فتح کرنے کے لیے مودی بنفسِ نفیس مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں اور مقامی قیادت کے بجائے ریاستی انتحابات مغربی بنگال کی حد تک صرف مودی شو ہے۔ 2019 لوک سبھا انتحابات میں شاندار کارکردگی اور ہندوتا کے زیرِ اثر مقبولیت کی بنا پر بنگال کی ‘دیدی’ممتا بینر جی پر مودی بظاہر حاوی نظر آتے ہیں۔ حالانکہ مغربی بنگال کےپچھلے ریاستی انتخابات میں بی جے پی نے محض تین سیٹیں حاصل کی تھیں۔
‘بنگالی’ مہم کو ہی آگے بڑھاتےہوئے چند روز پیشتر نریندر مودی خصوصی دعوت پر بنگلہ دیش کی آزادی کی گولڈن جوبلی پر وہاں تشریف لے گئے اور طویل عرصے سے حکومت کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی دیدی کو مغربی بنگال کی دیدی کو زیر دام کرنے کے لیے پر نام کیا تاہم اِس دورے میں مسلمان دُشمن پالیسیوں اور خاص کر امتیازی شہریت کے قانون پر شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا اور مودی مخالف مظاہروں میں کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں ۔
اگرچہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھارتی مداخلت سے ہی ممکن پائی تھی ،لیکن ماضی میں بنگلہ دیش میں کئی بھارت مخالف حکومتیں رہی ہیں اورآج بھی بنگلہ دیش میں بھارت نواز اور غاصب حسینہ واجد کی حکومت کو اِسلام پسندوں اور بھارت مخالفوں کی شدید اپوزیشن کا سامنا ہے۔لیکن ایک با ر پھر طاقت کے زور پر مخالفانہ آواز دباتے ہوئے گولڈن جوبلی کی سرکاری تقریب میں بُلا کر بنگلہ دیشی حکومت نے دوستی بھی نبھائی اور سر حد پار مغربی بنگال کے لوگوں کو پیغام بھی دیا گیاکہ مودی بنگالیوں کا یار ہے۔
کانگریس کی’ ٹھہری ہو ئی’ اپوزیشن کے مقابلے میں بھارت میں بی جے پی اور مودی کاطوطی بول رہا ہے اور ریاستی سطح پر ہی ، چاہے کجریوال کی شکل میں دہلی میں ہو ،یا ممتا کی شکل میں بنگال میں ،مودی کو ایک ‘پریکٹکل’ اپوزیشن کا سامنا ہے۔ممتا بینر جی مودی سرکار کے لیے ایک دردِ سر رہی ہیں۔ایک انتہا ئی اہم ریاست کی گمان سنبھالے ہوئے اکثر وہ مودی کو براہ راست للکارتی اور لتاڑتی رہی ہیں۔تقریباً بیس برس قبل کانگریس سے جُدا ہونے والی ممتا بینر جی ترینومل کانگریس کے پلیٹ فارم سے مغربی بنگال میں دس سال سے حکمران ہیں،جب انہوں نے یہاں دنیا کی طویل ترین کمیونسٹ حکومت سے فتح پائی اور نہ صرف یہاں حکمران ہیں،بلکہ اصلاً مرکز کی اپوزیشن کا کِردار بھی نبھا رہی ہیں۔
مغربی بنگال کی اہمیت کے علاوہ ممتا بینر جی کی جارحانہ اپوزیشن بھی ہے،جس کی بنا پر مودی اپنا ہندوتا کا خم ٹھوک کر میدان میں آ گئے ہیں۔ عین الیکشن میں مودی نے اپنا رُخ سیدھا ہندوتا کی طرف کرتےہوئے ممتا کو ‘جے شری رام’ اور ‘ ہندو سادھوؤں’ کی مخالفت پر آڑے ہاتھوں لیاہے۔ جواب میں ممتا جو انتخابی مہم میں ایک حادثے میں زخمی بھی ہو گئی تھیں، سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی اور فلاحی کاموں کا عزم دہرایا ہے،البتہ بنگالی مسلمانوں کے استحصال پر ممتا کو خود بھی تنقید کا سامنا ہے۔
دوسری ریاستوں کی نسبت مغربی بنگال میں مسلمان کافی بڑی تعداد میں آباد ہیں اور کئی ایک حلقوں میں تو فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں،لیکن کسی ایک چھتری کے نیچے جمع نہیں ہیں۔اسکے علاوہ چونتیس سال بر سر اقتدار میں رہنے والی کمیونسٹ پارٹی بھی مضبوط ہے۔ کانگریس تو ہے ہی لیکن مقابلہ براہ ِراست مودی اور ممتا کے مابین ہے۔

اگرچہ مغربی بنگال کے علاوہ دوسری ریاستوں میں بھی انتخابات بہت اہم ہیں لیکن مودی نے کمال ہوشیاری اور اپنی توسیع پسند مگر اکھنڈ پالیسی کے تحت خود یہ مورچہ سنبھالا ہے۔اِن کو اُمید ہے کہ مغربی بنگال کے مورچے کو سر کرنے کے بعد، جو کافی حد تک آزادی کے بعد سے اپنی الگ سوچ اور جٖغرافیائی حدود سے باہر رہا ہے،گجرات سے بنگال تک پورا ہندوستان ہندوتا کے زیرِ اثر آسکتا ہے ۔ مودی ترقی و رجعت پسندی کو ساتھ لیے ہندوستان کو ایک بہت ترقی یا فتہ لیکن ہندوؤں کی اتھارٹی والا ملک بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ‘بنگالی عمل’ کرنے چلے ہیں۔اس عمل کی کاٹ کا اثر مطابق ہو یا اُلٹا، دیرپا اور دوررس رہے گا کہ بنگالی عمل کا توڑ بڑا مشکل ہوتا ہے.

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *