Type to search

افسانہ فیچر

لک دی لکیر وے

“لک دی لکیر وے ”

لک دی لکیر وے
کردی اے پیڑ وے
دل والی ہلے تار تار وے
پٹاں تے مکیاں مار وے

کھلے ڈُلہے اور بے باک فلمی گیت کا صوتی سحر مسجد کے 80 فٹ اونچے مینار سے “الله اکبر الله اکبر ” کی صدا سے ٹوٹ جاتا ہے
آلات موسیقی کی”ثقافتی دہشت گردی ” اور مغنیاوں کی body objectification کا گلا گھونٹے جانے کے درمیان ایک آواز آتی ہے ۔
” بند کر اوے ایہنوں اذان دا ٹیم اے۔پتہ نہیں تینوں؟ ”
ریڑھیوں کی بے ترتیب قطاروں پر سبزی، بھل اور چائنہ مال بیچنے والوں کے ہوکے بھی رک جاتے ہیں۔ریمورٹ کنٹرول کھلونوں کی طرح رک رک کر چلتے، ممکنہ سواریوں کی بھیڑ کی تلاش میں، کھچا کچھ بازار میں چلتے چنگچی رکشا والوں کو ہر شکل پر 30 لکھا نظر آتا ہے۔یہ 30 روپے جو معاشی بحران، ایل پی جی کی آج صبح بڑھنے والی 11 روپے فی کلو قیمت اورٹی وی پر بیٹھے “لُڈن جعفریان” نے 30 کوڑیوں کے برابر کر چھوڑے ہیں ایسے بھی بے وقعت نہیں کہ 17 چنگچی برادران انکے لئیے سر دھڑ کی بازی نہ لگائیں ۔گڑووووں، پٹ، پٹ، پٹ گڑووں پٹ پٹ،، گڑووں گڑووووں
“پرانہہ مر بے غیرتا!! گٹا چھل دتا میرا!! ”
چنگچی رکشے سے ٹکرانے والی پسینے سے بُو چھوڑتی عورت گیلے سوکھے پیاز اکٹھے کرنے لگی۔ چنگچی رکشہ 30 کے ایک اور ہندسے کے تعاقب میں ہو لیا

۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ میڈ ان چائنہ revolving کرسیاں اصل وجہ ہیں sciatica کی” کمر سے ایڑی تک شدید درد ہے”اسامہ نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے کہا
“سر چھٹی کر لیتے آج” بڑے بیوروکریٹ کی ہمدرد دل رکھنے والی بیٹی خنسی نے جس نے دو ہفتے پہلے ہی بطور انٹرن جواین کیا تھا درد سے بلبلاتے ٹیڑھے کھڑے باس سے ہمدردی سے کہا “کنٹری ہیڈ آرہے ہیں اگلے ہفتے اور کوئی سیل ٹارگٹ achieve نہیں ہوا ” اسامہ نے زبان دانتوں تلے داب کر ایڑی پر وزن ڈالتے جواب دیا۔
” سر کمپنی تو کبھی خوش نہیں ہوتی۔ایک ہائی برئڈ سیڈ ورائٹی چلنے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ باقی بھی لازمی چلیں گی اور پھر مارکیٹ میں compition ہے۔ مائیکرو نیوٹرنٹس کے بغیر بات نہیں بنے گی اب فارمر جس کمپنی کا سیڈ خریدتا ہے اسی کا مائیکرو نیوٹرنٹ بھی خریدتا ہے اور ویسے بھی جنیرک کیمکیل بہت ٹف کمپیٹیشن دے رہا ہے ” موقع غنیمت جان کر سیلز ایگزیکٹو سہیل نے اپنا ٹارگٹ پورا نہ ہونے کی معروضی وجوہات ٹیبل کر دیں۔ “ٹھیک ہے سہیل صاحب لیکن سیفران والے بھی تو اسی مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں۔انکا اس کواٹر کا سیلز گراف دیکھ لیں ” اب ایسی بھی کیاsciatica کہ ایک ریجنل ڈائریکٹر کو پتہ ہی نہ چلے کہ فیصل آباد یونیورسٹی کا گریجویٹ اسے چ بنانے کی کوشش کر رہا ہے
“سر مارکیٹ کا ایک سایز اور پوٹینشل ہے۔سیفران کمپنی نے پوری ریسرچ کے بعد پراڈکٹ لانچ کی ہے۔ مارننگ شوز سے لیکر سوشل میڈیا تک ہر جگہ پیسہ انویسٹ کیا ہے۔ہماری کمپنی پبلسٹی پر پیسہ تو لگاتی نہیں اور پھر grower کو کتنا نچوڑیں گے؟ لیفٹ اوور دی لیفٹ قسم کا سرخا سبحان پورے دفتر میں واحد “دانشوڑ” تھا جو اس بزنس کو کسان “غریب مار” سمجھتا تھا۔ظاہر ہے پاپی پیٹ تو سب کے ساتھ لگا ہے لیکن وہ اپنے ضمیر پر پڑنے والی گرد کو روزانہ کی بنیاد پر صاف کرنے کی کوشش کرتا تھا۔اسکے ترقی نہ کرنے کی وجہ ہی اسکا نظریہ ہے ورنہ اسکے ساتھ والے اب اچھی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے۔
“یار نیگٹو باتیں نہ کیا کریں آپ، یہ نچوڑنا وچوڑنا ہماری intention نہیں organic food کے نام پر لوکل intrapreneurکیا گند مچا رہے ہیں۔آپکو بھی پتہ ہے” اسامہ نان پروڈکٹو بحث میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہ رہا تھا، پہلو بدل بولا “چائے ابتک کیوں نہیں آئی؟” ” سر وہ اسلم اپنا بل ٹھیک کروانے گیا ہے، کہہ رہا تھا تنخواہ 12 ہزار ہے اور بجلی کا بل 17 ہزار آگیا ہے”۔
“سر آپ نے حجامہ ٹرائی کیا ہے؟ ‘اٹ رئیلی ورکس ،میرے ماموں کو بھی تھی بیکک حاجمہ کے کچھ سیشن لئے اب ٹھیک ہے” ایک خنسی ہی تو تھی پورے دفتر میں جسے اس جان لیوا تکلیف کا احساس تھا۔
” میں ماموں سے پوچھ کر آپ کو WhatsApp کر دونگی ڈیٹیلز” خنسی واقعی پریشان تھی اتنی اچھی وضع قطع والے انسان کو، ایسی تکلیف جسکے چشمے کے فریم سے لیکر کف لنکس تک ہر چیز اسکے اعلی ذوق کی گواہی دیتی ہوں۔
“سر میں باہر سے چائے منگواتا ہوں” سہیل نے خنسی کے سر پر جلتی ایمبولینس والی فرسٹ ایڈ “کوں کوں کوں کوں “بتی سے کوفت کھا کر اٹھتے ہوئے کہا ۔
ری سیپشن پر بیٹھا کگھو نما آفس بوائے کانوں میں ہینڈ فری لگائے گنگناتا جا رہا تھا اور”لک دی لکیر وے کردی اے پیڑ وے “۔ “اوے ڈوریا” سہیل نے گرد و پیش سے بے خبر آفس بوائے کو بہت اونچی آواز میں کہا” جی سر “آفس بوائے نے گھبرا کر ہینڈ فری کی تار کھینچ دی۔
” جا اوے اسلم بھی بل ٹھیک کرانے گیا مر گیا ہے ، باس دی لک دی لکیر وچ وی بڑی پیڑ اے، ایہہ پھڑ پیسے اک پتہ ڈیکلران تے چار چاواں لے آ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھڑکیلے، چمکلیے اور جوشیلے رقص کے فلمی سین میں، جعلی نوٹوں کی برسات اور ہاتھوں میں پلاسٹک کی بندوقیں پکڑے دیسی شراب پی کی گجروں کی فلمی جنج کے ایکسٹراز “سستے تماش بین” بننے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ بہار بیگم اپنے سے دو چار سال بڑے دولہے کے سر سے بگھی میں بیٹھی نقلی نوٹ اور مامتا کی فلمی مسکراہٹ وار رہی تھیں۔نیم اندھیرے کمرے میں دیوار پر لگی ایل ای ڈی پر دونوں رقصاوں کی بے باکی کا مقابلہ تھا، بیٹ بھی مس نہ ہو اور ایکشن بھی ایسا کہ سیٹ پر موجود ایکسٹرا صاحبان کے پلاسٹک اور چمڑے کے سب ہتھیار کھڑے ہو جائیں
تھرکتی، تڑفتی دو جوانیوں نے کہرام برپا کر رکھ تھا۔
“لک دی لیکر وے، کردی اے پیڑ وے” عرفان اس فلمی گانے میں ایسا گم تھا کہ اسے خیال ہی نہیں رہا کہ ساتھ سوئی تین ماہ کی لمبوتری اور لاغر سی عنائیہ رو رو کر بینگن جیسی ہو گئی ہے اور قسمت بری کہ جیسے ہی رقاصہ نے بگھی سے نیچے چھلانگ مار کر سینے کو دو چار جھٹکے دیئے اسی وقت صائمہ آندھی کے تیز جھکڑ کے ساتھ کمرے میں نازل ہو گئی۔
“اف خدایا، دیکھو کیا چل رہا ہے یہاں” صائمہ نے تقریبا روتے ہوے اپنا بیگ بیڈ پر پٹخا اور چیختی ہوئی عنائیہ کو ٹانگ سے کھینچ کر سینے سے لگایا
ایل ای ڈی کے سپیکر سے اب بھی” لک دی لیکر وے کردی اے پیڑ وے” کی دہائی نے اودھم مچا رکھا تھا۔ عرفان نے گھبرا کر ریمورٹ سے ایل ای ڈی پر چلتا آوارہ ناچ پاز کر دیا۔ اب کمرے میں ننھی عنائیہ کی چیخیں تھیں جنکی وجہ سے چھت کے ساتھ لٹکا مقدمہ بھی ہل رہا تھا، ننھی سی جان اتنا کیسے چیخ لیتی ہے ؟” عرفان نے شیرنی کی طرح بپھری صایمہ کے سینے سے چمٹی بیٹی کو دیکھتے ہوئے سوچا
” میرے لک وچ وی پیڑ اے، صائمہ نے گلوگیر لہجے میں بچی کو فیڈ کراتے انکھوں میں آئے آنسو پونچھتے کہا” سوچا ہے کبھی تم نے؟ ان ماوں کی پیڑ تو بہت غور سے دیکھتے ہو۔ یہ نہیں پتہ ساتھ پڑی یہ تمھاری بیٹی ہے۔ تم مجرے دیکھو یہ کسی دن اسی طرح روتی مر جائے گی” اب عنائیہ کی آواز ماں کا دودھ پیتے ہوئے غوں غوِں میں بدل چکی تھی اور صائمہ پھوٹ پھوٹ کر روتی جا رہی تھی۔
“دو دھماکے ہوئے شہر میں، ایمرجنسی لگی ہوئی ہے ہسپتالوں میں،پیشنٹ پر پیشنٹ آرہے تھے۔اوپر سے ایمرجنسی وارڈ کا اے سی خراب ۔دم گھٹ رہا تھا گرمی اور اٹیندینٹس الگ ذلیل کرتے ہیں جیسے نرسوں ہی نے دھماکے کراے ہیں ” صائمہ کو پھوٹ پھوٹ کر روتا دیکھ کر عرفان نے فریج میں سے پانی کی بوتل نکال کر اسے پکڑاتے ہوئے معذرت خواہ انداز میں کہا
“سوری بے بی، مجھے نہیں پتہ تھا”
“وہ نہیں پتہ تھا، پر یہ جو ساتھ سوئی ہوئی تھی اسکی بھی خیر خبر نہیں تھی؟ کیسے بے حس ہو تم” صائمہ نے روتے روتے چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا
“اچھا بے بی سوری بول رہا ہوں ناں، لو شاباش پانی پی لو” عرفان نے دو زانوں سامنے بیٹھتے ہوئے بڑی سماجت سے پانی کی بوتل بڑھانی۔
” سارا قصور ہی میرا ہے ۔تمھاری عشق معشوقی میں نہ پڑتی تو میڈیکل میں میرٹ پر آ جاتی ۔ یہ روز روز کے ویگنوں کے دھکوں سے بھی جان چھوٹتی”
” بے بی معاف کر دو ناں ۔اب دھیان رکھا کروں گا ۔غلطی مان رہا ہوں ناں” عرفان نے تقریبا روتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیے
“ہیں، یہ تمھارے منہ پر کیا ہوا ہے” صائمہ نے پانی کی بوتل ایک طرف رکھتے عرفان کے چہرے پر پڑے نیلوں پر ہاتھ پھیرتے پوچھا۔
“مولویوں نے مارا ہے ” عرفان نے سر صائمہ کی گود میں رکھ دیا ۔ “کیوں؟” ننھی عنائیہ کو بستر پر لٹاتے صائمہ نے فکر مندی سے پوچھا
” انکا دھرنا کور کرنے گئے تھے۔آن ائیر کرنے کے آرڈرز نہیں تھے انہوں نے ڈنڈوں کے ساتھ مارا ” عرفان نے قمیض کا کف اوپر کرتے ہوئے بازو پر پڑا نیل کا نشان دکھایا
” یا خدایا! تمھیں تو بڑی چوٹ لگی ہے۔ ٹھہرو میں پین کلر لگا دیتی ہوں ”
” کھا لی تھی میں نے گولی” عرفان نے بچے کی طرح صائمہ کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا
” تو دفتر والوں نے کچھ نہیں کیا ” صایمہ نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا
” ایکسپلنیشن لیٹر دیا ہے، گاڑی کے شیشے کیوں ٹوٹے” عرفان نے اپنے بالوں میں پیار بھرا لمس چھوڑتی صائمہ کی انگلیوں پر ہاتھ پھیرتے جواب دیا
” اور جو تم لوگوں کی ہڈیاں ٹوٹیں؟ ” صائمہ غصے سے بولی
” چھوڑو، میں نہاری لایا ہوں” تم نہا لو میں کھانا لگاتا ہوں
” مجھے پیریڈز ہوئے ہیں ” نہانا نہیں ہے
” پھر ہو گئے؟؟ ” عرفان نے حیرت بھری لاچاری سے پوچھا
“ہاں ناں ،اس میں میرا کیا قصور ہے؟ ”
“پر بے بی۔۔۔ ” عرفان نے صائمہ کے ساتھ بچے کی طرح چمٹتے ہوئے ضد سی کی
“اچھا ناں، اب چھوڑو، مجھے پیڈ بدلنا ہے”
صائمہ بیگ اٹھا کر ٹایلٹ میں چلی گئی۔کھانا کھانے کے بعد وہ بے سدھ سو گئی ۔عرفان بہت دیر تک چھت کو گھورتا رہا ۔”ویک اینڈ پر بیوی کو پیریڈز ہو جائیں تو بندہ کیا کرے؟ ” اس نے دل میں سوچا اور آہستہ سے اٹھ کر تسلی کی کہ ماں بیٹی دونوں گہری نیند سو گئی ہیں ۔اس نے دراز سے ہینڈ فری نکالی، ایل سی ڈی۔میں لگائی اور احتیاط سے چلتا ہوا بیڈ پر آ لیٹا ان پاز کرنے سے سکرین پر ایک مرتبہ پھر کہرام برپا ہو گیا ،کمرے میں تھرکتے سائے بھی جنسیت بھرا وحشی ناچ ناچ رہے تھے ۔ اندھیرے کمرے میں سکرین سے نکلتی رنگوں کی پچکاریاں دیکھتے عرفان دم سادھے اپنے testosterone سے ہار چکا تھا ۔
” ہر ویلے لڑدا صبر نہیں کردا
منگدا اے سوہنی مٹیار وے
یار وے پٹاں تے مکیاں مار وے
لک دی لکیر وے کردی اے پیڑ وے

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *