Type to search

تجزیہ جمہوریت سیاست

یہ کمپنی کب تک چلے گی ؟

  • 22
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    22
    Shares

اس سے پہلے کہ قارئین نقطہ اعتراض اُٹھائیں ، یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ کتابوں کے حوالے تو ہر تحریر میں ملتے ہونگے آپکو ، اب چونکہ زمانہ ہی ڈیجیٹل ہو گیا ہے تو ہم زرا مختلف حوالے کیساتھ وارد ہو رہے ہیں ،آج کل ایک سیزن دیکھ رہا ہوں Prison Break کے نام سے کافی مشہور ہے، سیزن ایک نوجوان انجینئر کے گرد گھومتا ہے کہ کیسے وہ جھوٹے قتل کے الزام میں پھنسے ہوئے اپنے بھائی کو جیل سے آزاد کرانے کیلئے خود پہلے جیل جاتا ہے اور پھر اپنے بھائی کو جیل سے لیکر فرار ہو جاتا ہے ، کہانی یقیناً سادہ نہیں ہے برسوں کی محنت کے بعد وہ یہ کام کرتا ہے لیکن جیل سے باہر بھی ان کو سکون نہیں ملتا اور پھر وہ پس پردہ اُن شخصیات کے پیچھے جاتا ہے جن کی وجہ سے اس کے بڑے بھائی پر قتل کا الزام انتہائی منظم انداز میں لگاکر پھانسی گھاٹ تک پہنچایا گیا۔

قانون سے ماورا اور کنگ میکر یہ افراد خود کو کمپنی کہتے ہیں، ہر ادارے میں چند ذہین افراد اس کمپنی کا حصہ ہوتے ہیں جو کمپنی کیلئے کچھ بھی کر گزرتے ہیں قتل کرنا اور اس کو حادثے کا رنگ دینا ، کسی کے گھر میں بھی بغیر وارنٹ گھس جانا اور کسی بھی ادارے سے اپنی مطلوبہ معلومات لینا کمپنی کیلئے کوئی مشکل کام نہیں۔ کمنپی نہ صرف اپنے ملک بلکہ دیگر ممالک میں بھی اثر رسوخ رکھتی ہے اور ان سے بچنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ یہ قانون سے ماورا ادارہ ہوتا ہے ، اتنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں کہ سیاسی طور پر بھی ان کے ہی مُہرے صدر بنتے ہیں اور اگر ان کے خلاف کوئی بات ہو یا ان کو اپنے ہی صدر یا سیاسی رہنما سے خطرہ ہو تو اس کو ہٹا بھی دیتے ہیں، یہ سیزن چونکہ انگریزی لب و لہجے میں ہے اس لیے اسکا تعلق پینٹا گون سے جوڑنا بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔

ویسے اس سیزن کا وطن عزیز کی سیاست سے کوئی تعلق استوار کرنا یا ذہن میں سوچنا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ وطن عزیز میں کمپنی نام کا نہ تو کوئی ادارہ موجود ہے نہ ہی ان کی آشیرباد سے سیاسی مہروں کے خانے بدلے جاتے ہیں۔

پاکستان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ن لیگ کی نائب صدر نے گذشتہ روز بیان دیا کہا کہ باپ نے باپ کے کہنے پر ووٹ دیئے۔ ایک تو پاکستان میں باپ (بلوچستان عوامی پارٹی) ہے۔  دوسرا باپ کونسا ہے یہ واضح نہیں کیا گیا ، اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری بھی “کندھوں” پر ہاتھ لگا کر اور نواز شریف سمیت دیگر ن لیگی رہنما “امپائر” کے الفاظ بارہا زبان پر لاتے رہے، احسن اقبال میڈیا پر کہہ رہے تھے اسٹبلشمنٹ سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرے ، سب ہی “خلائی مخلوق” کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں لیکن بتاتا کوئی نہیں کہ کس کو کہہ رہے ہیں

ہمارے عوام یا عام شہری کہہ لیجئے وہ بھی ایک کمپنی سے نالاں سے نظر آتے ہیں ۔۔ ڈیفنس ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے چند شہری الزامات عائد کرتے ہیں کہ ہم نے زندگی بھر کی جمع پونجی لگا دی کہ اس کمپنی پر مکمل بھروسہ تھا لیکن یہاں بھی ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا اور ہماری رقم کے عوض ہمیں پلاٹ نہیں دیئے گئے۔

دوسری جانب ریاستي مشینری مسنگ پرسنز کے حوالے سے گو مگو کي کیفیت میں رہتی ہے ، ہر طرف سے ہر قسم کے لوگ اُٹھائے جاتے ہیں کیسز عدالتوں کی راہداریوں اور ججز کے بینچز سے ریمارکس اور فیصلوں کی صورت میں فرنگی حروف تہجی میں کاغذوں پر پرنٹ ہوتے ہیں لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا ، صحافی ، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ یا سماجي کارکن، بلوچستان ہو یا پھر علاقہ غیر سب جگہوں سے مسنگ پرسنز کی ایک طویل فہرست ہے ، اس کے علاوہ شیعہ مسنگ پرسنز کے لواحقین بھی احتجاج کرتے رہے ہیں جو ابھی تک لاپتہ ہیں ۔ اور جو لاپتہ ہونے کے بعد واپس آئے وہ خاموش ہو گئے۔ پتہ نہیں کون ان کی خاطرداری کرتا ہے لیکن اس کے پیچھے بھی یقینا کوئی کمپنی کام کر رہی ہے ، پہلے پہل دہشتگرد تنظیمیں پاکستاني باشندوں کو اغواء کر کے تاوان وصول کرتی تھی پھر وطن عزیز کی شیر دل فوج نے مثالی راہ راست آپریشن سے ان کا قلع قمع کر دیا اور اب تاوان نہیں مانگا جاتا۔

تو بات چل رہی تھی پریزن بریک سے۔ اس کے اختتام میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ کچھ متاثرہ شہری اور چند کمپنی سے متاثرہ افراد اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اس کمپنی جس کا سربراہ ایک (جنرل) کردار کا نام یہی بولا جاتا ہے اس کے خلاف سرگرم ہو جاتے ہیں ، ایک ریاستی ادارہ بھی انکا ساتھ دیتا ہے اور یوں کمپنی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ سیزن طویل ہے لیکن دیکھنے کے لائق ہے۔ قابل تقلید ہونا ضروری نہیں

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *