Type to search

صنف عوام کی آواز کلچر

ایک پرانا لطیفہ جس پر رونا آتا ہے

ایک لطیفہ ہمارے ہاں بڑا پاپولر ہے کہ یہاں سب کو شوق ہے ڈاکٹر بہو لانے کا جس کو گھر بٹھایا جائے اور اس سے گول روٹیاں پکوائی جائیں۔ کچھ ایسی مزاحیہ بات نہیں ہے۔ یا تو ہمارا انداز بیان مضحکہ خیز نہیں یا لطیفے میں دم نہیں۔ خیر ہمیں کبھی اس پر ہنسی نہیں آئی۔ ہمیشہ افسوس ہی ہوا۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے نظریں چرانا ممکن نہیں۔

وہ شعبے جو ہمیشہ سے مردوں کے لئے مختص تھے ان میں اب لڑکیاں بھی نظر آتی ہیں

جیسا کہ لڑکیاں اب ہر میدان میں آگے آ رہی ہیں، ہمیں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ وہ شعبے جو ہمیشہ سے مردوں کے لئے مختص تھے ان میں اب لڑکیاں بھی نظر آتی ہیں۔ اس ضمن میں یونیورسٹیاں دیکھنا اہم ہیں۔ کئی شعبے ایسے ہیں جہاں آپ کو لڑکے شاذ و نادر ہی دکھائی دیں گے۔ ہم نے خود بھی آرکیٹیکچر کی تعلیم حاصل کی ہے جہاں ہماری جماعت میں گن کر تین لڑکے تھے۔ وہ بھی تبھی نظر آتے تھے جب ان کو خوب غور سے دیکھا جائے۔ میڈیکل کالجوں میں بھی لڑکیوں کی تعداد لڑکوں پر سبقت لئے نظر آتی ہے۔ ادب اور آرٹ کی ڈگریوں پر بھی اب لڑکیوں کی ہی اجارہ داری ہے۔

دیکھ کر ہمیشہ خون بڑھ جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے کے بدلنے کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔

تصویر کا دوسرا، بھیانک رخ

خیر ان سہانے ڈھولوں کو تصویر کا ایک رخ ہی جانیے۔ ایک رخ جتنا خوشنما ہے دوسرا رخ اتنا ہی بدنما۔ جی چاہتا ہے کہ منہ موڑ کر دور جا کھڑے ہوں۔ لیکن وہ کیا ہے کہ کبوتر کب تک آنکھیں میچے۔

یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کی جتنی افراط نظر آتی ہے فیلڈ میں اتنا ہی جھاڑو پھرا ہے۔ کہانی بالکل الٹ دکھائی دیتی ہے۔ وہی لڑکیاں جو کلاس میں سب سے آگے تھیں اب گھر بیٹھی بچے پال رہی ہیں۔ گول روٹیاں بنا رہی ہیں۔ فیلڈ کی طرف لوٹنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔ گھر کے کام میں چنداں کوئی شرم نہیں لیکن ان لڑکیوں کی زندگی اب بس اسی کے گرد گھومتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں بچا ان کے پاس۔ انہی کے کلاس فیلو لڑکے جو جماعت میں ان سے بہت پیچھے تھے اب اپنی ڈگری کو صحیح استعمال میں لا رہے ہیں۔ جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔

‘ان کی جگہ کوئی لڑکا آیا ہوتا تو آج اپنا گھر پال رہا ہوتا’

اسی لئے پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے والی ایسی لڑکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کہ انہوں نے ڈگری ضائع کی۔ بچے ہی پالنے تھے تو پانچ سال ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ایک لڑکے کا حق مارا۔ ان کی جگہ کوئی لڑکا آیا ہوتا تو آج اپنا گھر پال رہا ہوتا وغیرہ وغیرہ۔

یہ تنقید کرنے والوں میں سب سے پیش پیش وہی ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے ہی گھر میں کسی باصلاحیت لڑکی کو بٹھایا ہوتا ہے۔ انہی کے گھروں میں کوئی ڈاکٹر گول روٹیاں بنا رہی ہوتی ہے۔ کوئی آرکیٹیکٹ شیشے چمکا رہی ہوتی ہے۔ کوئی ایم اے فلسفہ بچوں کو نہلا رہی ہوتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ایک لڑکی کے ٹیلنٹ کا گلا گھونٹے میں بھرپور کامیاب رہے اور اب انہی لڑکیوں پر طعنے بھی کستے ہیں۔ بہت سے ڈھیٹ تو یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ اپنی مرضی سے گھر بیٹھی ہیں۔ جی انہی کی مرضی ہے کہ پانچ سال اپنی راتوں کی نیندیں لٹا کر ڈگری لیں اور پھر آپ کے بچے پالیں۔

اگلا فقرہ کسنے سے پہلے۔۔۔

آئندہ کسی بھی سابقہ پروفیشنل لڑکی پر فقرے کسنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکیے گا کہ اس کی صلاحیتوں کا گلا گھونٹنے میں آپ کا کتنا کردار ہے۔ آپ نے اس کو کتنا صحتمند ماحول فراہم کیا کہ وہ اپنے ٹیلنٹ کو بروئے کار لا سکے۔ اس کی کتنی حوصلہ افزائی کی کہ بی بی قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اگلا فقرہ کسنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیجئے گا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *