Type to search

تاریخ تجزیہ سیاست

جب جنرل ضیا نے جنرل فیض علی چشتی کو مروانے کی کوشش کی

جنرل فیض علی چشتی 1977 کے مارشل لاء میں جنرل ضیاالحق کے دستِ راست تھے۔ 5 جولائی 1977 کو جس وقت ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹا گیا، جنرل چشتی 10 کور کے کمانڈر تھے۔ یہ پاکستان کی طاقتور ترین کور ہے جس کے دائرہ کار میں ملکی دارالحکومت اور راولپنڈی بھی آتے ہیں۔ اسی کور کمانڈر کے اختیار میں وہ 111 برگیڈ بھی آتی ہے جو ہر بار مارشل لاء لگانے کے لئے حرکت میں آتی ہے۔ 1999 میں لگنے والے مارشل لاء کی بدنامِ زمانہ تصاویر جن میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کو پاکستان ٹیلی وژن کی عمارت کا دروازہ ٹاپتے دیکھا جا سکتا ہے، اسی 111 برگیڈ کی ہیں۔ 1977 میں اس کے سربراہ برگیڈیئر امتیاز وڑائچ تھے، اور یہ براہِ راست جنرل چشتی ہی کو جوابدہ تھے۔

جنرل چشتی کے مطابق یہ مارشل لاء لگاتے ہوئے فوج کے عزائم غلط نہیں تھے۔ اس وقت بہت عرصے سے ملک میں دھاندلی کے خلاف ایک تحریک چل رہی تھی اور اس میں کئی لوگوں کی جانیں جا چکی تھیں جس کے بعد پاکستانی فوج نے یہ فیصلہ کیا کہ ملک میں مارشل لاء لگا دیا جائے اور جنرل ضیا تین مہینے بعد انتخابات کروانے ہی والے تھے۔ اپنے اس فیصلے کی دلیل کے طور پر انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم دی سنٹرل میڈیا (TCM) کو اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے 111 برگیڈ کے کمانڈر کو کہا کہ پیپلز پارٹی کے لیڈران اور PNA کے لیڈران کو گرفتار کر کے چکلالہ میس میں لے جائیں اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں، کسی کے ساتھ بدتہذیبی نہ ہو۔

وہ مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب کے ساتھ ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ ان کو بڑے احترام کے ساتھ مری کے گورنمنٹ ہاؤس بھجوایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بچے ابھی آئے ہیں تو انہیں اگلے روز تک وزیر اعظم ہاؤس میں ہی رہنے دیا جائے۔ جنرل ضیا نے یہ اجازت بھی دے دی۔ تو کیا ہمارے عزائم غلط تھے؟

تاہم، جنرل چشتی اس وقت تک تو جنرل ضیا کے بہت قریبی ساتھی تھے۔ بعد ازاں ان کے تعلقات ٹھیک نہ رہے۔ یاد رہے کہ جنرل چشتی جنرل ضیا کو 1966 سے جانتے تھے اور پھر جب انہیں 1974 میں لیفٹننٹ جنرل بنایا گیا تو بھی انہوں نے جنرل ضیا کو کہا کہ اب آپ کے اوپر ایک بڑی بھاری ذمہ داری ہے، جس پر ضیا نے انہیں جواباً کہا کہ جی مرشد، میں خیال کروں گا۔ اس دن کے بعد سے انہوں نے جنرل چشتی کو ‘مرشد’ ہی کہنا شروع کر دیا تھا۔

اپنی کتاب Betrayals of Another Kind میں وہ لکھتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کے ناموں کے لئے وہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل ٹکا خان کے ساتھ فہرست مرتب کر رہے تھے اور اس فہرست میں جنرل ضیا کا نام ہی نہیں تھا۔ لیکن بعد ازاں پتہ چلا کہ متعدد سینیئر جرنیلوں کو بائی پاس کر کے جنرل ضیاالحق کو آرمی چیف بنا دیا گیا ہے۔ یہ بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بھٹو صاحب کے سامنے ضیاالحق انتہائی مؤدب بن کر رہتے تھے، یہاں تک کہ ان کو دیکھ کر اپنا جلتا ہوا سگار اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال لیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ضیاالحق کی طرف سے یقین تھا کہ وہ ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر سکیں گے۔ آگے جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

تاہم، جنرل چشتی نے اپنی کتاب میں جنرل ضیا کی بہت سے معاملات میں غلطیاں، خامیاں بھی بیان کی ہیں اور کچھ معاملات میں ان کی نیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ضیا ایک بہت کائیاں شخص تھا جو اپنی مؤدبانہ قسم کی اداکاری سے طاقتور لوگوں کے قریب ہونے کا گر جانتا تھا۔ وہ اس شک کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ شاید یہ امریکی CIA کے ایک ایجنٹ ہوں کیونکہ جتنی آسانی سے اس نے وزیر اعظم کو رام کر لیا تھا، لگتا یہی تھا کہ وہ اس کام میں خاص مہارت رکھتا ہے۔ تاہم، مارشل لاء لگانے کے موقع پر وہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور پاکستان قومی اتحاد کے مذاکرات جب ناکام ہو گئے تو اس وقت انہوں نے اور جنرل ضیا نے یہ فیصلہ کیا کہ اب فوج کی مداخلت لازمی ہو چکی تھی لیکن جنرل ضیا بہت سہمے ہوئے تھے اور ان کو کہہ رہے تھے کہ: مرشد، مروا نہ دینا۔

اب یہاں تک تو بات طے ہے کہ جنرل ضیا اور جنرل چشتی کے تعلقات بہت قریبی تھے لیکن یہ کبھی سمجھ نہیں آیا کہ پھر اچانک کیا ہوا جو ان کے درمیان تعلقات ٹھیک نہیں رہے اور جنرل چشتی بالآخر فوج سے ریٹائر ہو گئے۔ اس کی وجہ انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بیان کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جنرل ضیا ان کو مروانا چاہتے تھے۔ وہ ہر بات کا الزام جنرل چشتی پر لگاتے تھے، انہیں پیپلز پارٹی کا دشمن نمبر ایک ثابت کرنا چاہتے تھے تاکہ کل کو کوئی جیالا انہیں گولی وغیرہ مار دے اور وہ جنرل ضیا کے راستے سے ہٹ جائیں۔ وہ شاید یہ اشارہ دینا چاہ رہے تھے کہ ایسا بھی ممکن تھا کہ ان کو مروا کے جنرل ضیا اس کا الزام پیپلز پارٹی والوں پر لگا دیتے۔ لیکن اس چیز سے بچنے کے لئے انہوں نے جنرل ضیا کو غچہ یوں دیا کہ بھٹو کی پھانسی کے موقع پر گلگت بلتستان روانہ ہو گئے اور اس وقت تک واپس نہ پہنچے جب تک کہ بھٹو کی پھانسی پر عملدرآمد ہو نہیں گیا۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *