Type to search

عوام کی آواز کلچر

انارکلی کے نوسر باز، اور ریحام خان کی کتاب میں ‘گندی گندی باتیں’

یہ گورنمنٹ کالج کے دنوں کی بات ہے۔ ہم اکثر صبح کے وقت ناشتہ کرنے پرانی انارکلی جاتے تھے تو اس وقت نئی انارکلی خالی پڑی ہوتی تھی۔ دکانیں بند، نہ بندا، نہ بندے کی ذات۔ کوئی دکاندار جھاڑ پونچھ کرتا نظر آ بھی جائے تو شکل سے اوازار، زندگی سے بیزار۔ تنگ کرنے کی نیت نہ ہو تو ان سے اس وقت بات بھی نہ کریں۔

انارکلی میں صبح سویرے مجمع؟ یہ سورج کس طرف سے نکلا تھا آج؟

ایسے ہی ایک دن کوئی صبح ساڑھے آٹھ بجے وہاں سے گزر رہے تھے تو اچانک عوام کا ایک ہجوم نظر آیا۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک آدمی زمین پر اپنے ایک ساتھی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک البم سی تھی، جس میں اس کے مطابق انتہائی گھٹیا تصاویر موجود تھیں۔ یہ ساتھ ساتھ لوگوں کو کہتا جاتا تھا کہ معاشرہ انتہائی پستی کی طرف جا رہا ہے، ایسی ایسی بیہودہ تصاویر آتی ہیں اب کہ آدمی کا سر شرم سے جھک جائے۔ یہ تصویر میں ابھی آپ کو دکھاؤں گا۔

اب لوگ جمع ہوتے جائیں، اور یہ معاشرے کو برا بھلا کہتا جائے۔ اور البم کے کچھ صفحات پلٹ کر کہے کہ اس البم کے اندر ہی بہت گندی تصویریں ہیں۔ مگر دکھانے سے پہلے ہی اچانک پھر سے وہی باتیں شروع۔ اب ساتھ جو لڑکا بیٹھا تھا، اس کے پاس ایک سانپ بھی تھا۔ وہ سانپ بھی پٹاری سے کسی بھی وقت نکال کر دکھانے کا وعدہ کرتا جا رہا تھا۔

اور پھر اچانک سانپ نکال لیا

آخر میں ہوا یہ کہ سانپ نکال لیا، البم میں سے تصویر نہیں دکھائی۔ سانپ کا تماشہ دیکھتے جاتے لوگ اور ساتھ ساتھ وہ وعدہ کرتا جاتا کہ گندی تصویر سانپ کے تماشے کے بعد۔ پھر یکا یک تصویر کا ذکر تقریر میں سے غائب ہو گیا۔ اور سانپ ہی سانپ رہ گیا۔ تماشہ ختم ہوا، اور یہ دونوں حضرات ایک باریک سی گلی میں مڑ کر یہ جا وہ جا۔ ہم دونوں دوست خوب ہنسے کہ دیکھو کیا فلم چلا گیا سب کی۔

یہی باتیں کرتے ہم ناشتے کے لیے چلے گئے۔ وہاں بیٹھ کر بھی اسی نوسرباز کا ذکر رہا۔ واپسی پر دیکھا تو وہاں تماش بینوں میں سے دو حضرات اپنا بٹوہ ڈھونڈ رہے تھے اور ساتھ ساتھ اس گندی تصویر والے کو گالیاں دیتے جا رہے تھے۔

اس سارے واقعے میں سبق یہ ہے کہ حمزہ علی عباسی کو کہنے دیں کہ ریحام نے کتاب میں بہت گندی باتیں لکھی ہیں، میرے اور مراد سعید کے عمران خان سے ناجائز تعلقات کے بارے میں لکھا ہے، وسیم اکرم کی بیوی پر الزام لگایا ہی وغیرہ وغیرہ۔ کتاب کے پی ڈی ایف ورژن کا خاموشی سے انتظار کریں، اور ہاتھ مستقل اپنی بٹوے والی جیب پر رکھیں۔ کہیں گندی تصویر دیکھنے کے شوق میں آپ کی پاکٹ نہ ماری جائے۔

Tags:

1 Comment

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *