Type to search

بین الاقوامی سیاست ماحولیات

بائیڈن خان کی مقبولیت سے خائف کیوں؟ ماحولیاتی سمٹ میں نہ بلانے کی وجہ سامنے آگئی

  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

چائے کے وقفے کے بعد کابینہ اجلاس شروع ہوا تو کمرے سے غیر ضروری افراد باہر نکل گئے۔ خصوصی مندوب برائے موسمیات جان کیری نے اپنی بریفنگ کا آغاز کیا۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور گھٹتے ہوئے جنگلات کے پیش آمد نتائج کو دیکھ کر شرکاء میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ہم اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا مستقبل تباہ کر رہے ہیں، نائب صدر کمالہ ہیرس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔ کابینہ ارکان نے باری باری اپنے تاثرات کا اظہار کیا تو سبھی نظریں صدر بائیڈن کی جانب اٹھ گئیں۔ صدر جنہوں نے گلا کھنگار کر کہا، مسٹر کیری صرف مسائل ہی ہیں یا کوئی کوئی قابل عمل حل بھی تجویز کریں گے۔ جان کیری نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اگلی سلائیڈ کا بٹن دبایا تو سبھی نگاہیں اس تصویر کی جانب اٹھی گئیں جس میں موجود مردِ درویش مسکراتے ہوئے پودا لگا رہا تھا۔ ریموٹ کی نشاندہی والی لائٹ نے تصویر کے نیچے کیپشن کی طرف توجہ دلائی جہاں درج تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے 10 بلین ٹری مہم کا افتتاح کردیا، بشکریہ روزنامہ جنگ3 ستمبر 2018۔

صدر کے خصوصی مندوب جان کیری نے انتہائی تفصیل سے وزیراعظم پاکستان کی 10 ارب درخت لگاؤ مہم کا خاکہ کابینہ کے سامنے پیش کیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کے بریفنگ سنتے ہوئے مختلف کابینہ ارکان کے چہروں پر تاثرات بھی مختلف تھے۔ نائب امریکی صدر ستائشی نظروں سے خان کی تصویر کو دیکھ رہی تھیں تو ان کے ساتھی ارکان بار بار پہلو بدل رہے تھے۔ بریفنگ کے آخر میں جان کیری نے کابینہ کو بتایا کہ منصوبے میں مرکزی کردار ہماری سوشل میڈیا مہم کا ہے۔ درخت لگانے سے زیادہ ضروری عوام کو یہ پتا چلنا ہے کہ درخت لگ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جتنے زیادہ ٹرینڈز بنیں گے اتنے ہی لوگ درخت لگانے کی جانب راغب ہوں گے۔ درخت لگانے کی حد تک تو ٹھیک ہے مگر ہم اس کی تشہیری مہم کیسے چلا ئیں گے؟ ناتجربہ کار مشیر کے سوال پر جان کیری جوشیلے انداز میں بولے میں ففتھ جنریشن وار کے مجاہدین سے دوبارہ بات کرنے کو تیار ہوں۔ وہ اپنی خدمات ہمیں کرائے پر ضرور دیں گے۔

 

ماحولیاتی تبدیلی کی بریفنگ میں بار بار پاکستانی وزیراعظم کا تذکرہ سن کر صدر بائیڈن کی پیشانی پر موجود تیوریوں میں اضافہ ہو گیا، تنک کر بولے۔ مسٹر جان کیری، کیا یہ وہی منصوبہ ہے، جس کا سر تا پاء احتساب بھی چل رہا ہے۔ نازک سے سوال پر ماحولیاتی مندوب جز بز سے ہو گئے مگر پھر انصافئینز کے کچھ ٹوئٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ منصوبہ مکمل ہونے سے قبل ہی تحقیقات یقیناً کسی مخالف قوت کی سازش کا نتیجہ ہیں۔ دوسرا یہ الزامات ثابت نہیں ہوئے اور ہم اپنے منصوبے کے لیے بالکل نئی ٹیم لے کر آئیں گے جو پہلے کسی نے سوچی بھی نہ ہوگی۔ جس منصوبے کا بجٹ ہی ساٹھ ارب مختص ہوا تھا، بھلا اس میں کتنی کرپشن ممکن ہے۔ ہم یہ درخت عوام کے چندے سے لگائیں گے۔ بس آخری گزارش ہے کہ سوشل میڈیا مجاہدین کے لیے فنڈ منظور کریں تاکہ مہم کا آغاز کیا جا سکے۔ دلائل کا انبار اور چندے کی گزارش سن کر صدر بائیڈن بھی کچھ گڑ بڑا گئے۔ سر کھجایا اور پھر موبائل نکال کر حساب کتاب میں مصروف ہو گئے۔

 

اس کے بعد اجلاس میں قریباً 10 منٹ تک گہرا سناٹا چھایا رہا۔ میز پر موجود سفید کاغذ سیاہ قلم کی لکھائی سے بھر گیا تو بوڑھے امریکی صدر نے اسے اٹھا کر جان کیری کو گھورتے ہوئے سوال کیا۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حکومت پاکستان ایک دن میں کتنے درخت لگا رہی ہے۔ جان کیری کے انکار پر صدر بائیڈن نے طنزیہ انداز میں بولنا شروع کیا۔ 5 سالوں میں دس ارب درخت لگانے کا مطلب ہے ایک سال میں 2 ارب درخت، مزید سادہ کریں تو 365 دنوں میں 200 کروڑ درخت۔ گویا نئے پاکستان کی انتظامیہ شمالی اور جنوبی علاقہ جات میں روزانہ 54لاکھ 79 ہزار 452 درخت لگا رہی ہے اور یہاں کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں۔ مسٹر جان کیری آپ جلد از جلد نئے پاکستان کے پڑوسی ملکوں کا دورہ کر کے آس پاس کی آب و ہوا کا جائزہ لےآئیں۔ اتنی دیر میں ہم ایک ماحولیاتی سمٹ کا انتظام بھی کرتے ہیں۔ صدر بائیڈن نے بند دروازہ کھلوا کر اپنے ذاتی معاون کو اندر بلایا اور ماحولیاتی سمٹ کے مہمانان کے نام لکھوانے لگے۔ 40 عالمی رہنماؤں کی فہرست میں روس اور چین جیسے دشمن ممالک سے لے کر کینیا اور بھوٹان جیسے کمزور ممالک کے حکام کے نام شامل تھے۔ کیا ہم اس سمٹ سے نئے پاکستان کے فلیگ شپ منصوبے کا مقابلہ کر پائیں گے؟ خاتون نائب امریکی صدر نے وزیراعظم خان کی تصویر کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

 

اگر وہ 5 برس میں 10 ارب درخت لگا نے کا اعلان کر سکتے ہیں تو ہم سپر پاور ہوتے ہوئے اس سے بھی بڑا دعویٰ کر سکتے ہیں،ویسے بھی دعویٰ ہی تو کرنا ہے” سیکرٹری بلنکن نے بڑبڑاتے ہوئے جواب دیا جس پر سبھی کابینہ اراکین مسکرانے لگے۔ اجلاس ختم شد

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *