Type to search

خبریں سیاست مذہب میڈیا

مبینہ غیر دانستہ غلطی پر معذرت کے باوجود آفتاب اقبال کے خلاف توہین صحابہ کے الزام کا خطرناک ٹویٹر ٹرینڈ

  • 39
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    39
    Shares

پاکستان میں اگر کسی کی ہنستی بستی زندگی کو دائمی روگ لگانا مقصود ہو تو توہین کا فتویٰ ہی کارگر ثابت ہوتا ہے۔ اس افسوسناک حقیقت میں مزید شدت گزشتہ 6 سالوں سے تحریک لبیک جیسی شدت پسندانہ مذہبی تنظیمیں لے آئیں ہیں۔

اب تازہ ترین طور پر توہین کے الزام  میں نام آیا ہے ملک کے معروف اینکر اور انفو ٹینمنٹ شو میزبان آفتاب اقبال کا۔ ان پر الزام عائد کر دیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے شو میں صحابہ اکرام کی شان میں گستاخی کی ہے۔

اس وقت ٹویٹر کے پہلے دو ٹرینڈز پر آفتاب اقبال کا توہین سے متعلق حوالہ چھایا ہوا ہے۔ اور انکا اس سلسلے میں ایک کلپ شئیر کیا جا رہا ہے جہاں ایک پیروڈی سکٹ میں چند فنکار اداکاری کر رہے ہیں اور مزاحیہ صوتحال ہے۔ جس پر آفتاب اقبال ان کی بد حالی کو ملکی و قومی صورتحال سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ  دیکھو صرف موبائیل گرنے پر لالچ کے مارے ۔۔۔ وہ صرف اس لیے کہ مال غنیمت ہڑپ  لوں، ان کا ستر سال سے یہی حال ہے اور غزوہ عہد میں بھی یہی کچھ کیا تھا۔ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔

اس کلپ کے ساتھ  ٹویٹس میں آفتاب اقبال کو گستاخ صحابہ  قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

تاہم دوسری جانب اینکر آفتاب اقبال کی جانب سے ایک وضاحت اور معذرت سامنے آئی ہے۔ وہ ویڈیو پیغام میں کہہ رہے ہیں کہ انکا مقصد مقدس ہستیوں کی توہین یا ان پر طنز قطعاً نہیں تھا۔ وہ تو بلکہ غزوہ احد کا واقعہ بطور قوم معافی مانگنے کی اہمیت کے حوالے سے بطور حوالہ گفتگو میں لائے تھے۔ تاہم تدوین و ترتیب میں غلطی ہوئی۔ آفتاب اقبال مانتے ہیں کہ جو آن ائیر گیا اسے نہیں جانا چاہیئے تھا اور وہ بیڈ ٹیسٹ میں تھا۔ اس پر وہ معذرت خواہ اور شرمندہ ہیں اور پندرہ سالوں میں یہ پہلا واقعہ ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل  اے آر وائے کے اینکر کاشف عباسی کے خلاف مہم شروع کی گئی تھی  کہ انہیں گرفتار کیا جائے کیوں کہ انہوں نے نعوذ باللہ حضرت عمرؓ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ نیا دور نے تب بھی بتایا تھا کہ حقائق پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ بوگس اور دلیل سے عاری الزام ہو سکتا ہی نہیں۔ جس پروگرام کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس میں تحریکِ انصاف رہنما اسد عمر اور جنگ گروپ سے منسلک صحافی عمر چیمہ ان کے مہمان تھے۔ اس دوران انہوں نے ان دونوں سے مذاق کرتے ہوئے ایک جملہ بول دیا۔ یہ جملہ صرف اس پروگرام کے سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو انتہائی بے ضرر سا جملہ ہے جس پر پروگرام میں موجود دونوں مہمان مسکرائے اور بات آگے بڑھ گئی۔ کاشف عباسی نے بھی عوام کے سامنے آکر اپنے ایمان کی گواہی دی تھی۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *