Type to search

تجزیہ جمہوریت سیاست

ہزارہ برادری کی قیادت کا ہمہ کس کے سر بیٹھے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی سماج میں تبدیلی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سماج کے اندر موجود تمام طبقوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ سماجی تبدیلی (سوشل جینج) کے لئے ترقی پسندانہ افکار کی روشنی میں جدوجہد کا راستہ اپنائیں، جہاں انسانی بنیادی ضروریات بلا تفریق ِ رنگ و نسل و مذہب سب کو میسر ہوں۔ یعنی جدوجہد ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو سیاسی عمل کا حصہ بناتے ہوئے منزل کی نشاندہی کراتی ہے۔ پاکستانی سماج کے تمام تر مسائل کا حل سیاسی جدوجہد سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے اور یہ سیاسی عمل تقاضا کرتا ہے کہ سماج کے طبقات، بالخصوص نوجوان اور طالب علم، مطالعے کی روشنی میں اس کا سائنسی حل تلاش کریں۔

ہزارہ قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے لئے پی بی 2 حیات اور موت کی بازی ہے

پاکستانی سماج ایک نیم جاگیردارانہ سماج ہے، جہاں جاگیرداری کی باقیات مظبوطی سے سماجی رشتوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ہزارہ کمیونٹی کی انتخابی سیاست شہر کوئٹہ کے محض دو حلقوں پر مشتمل ہیں۔ جسے حاصل  کرنے کے لئے ہزارہ کمیونٹی کے اندر آزاد امیدواروں کو چھوڑ کر کم از کم دس دیگر سیاسی جماعتیں موجود ہیں، جو اپنی ساخت میں قوم پرست (پشتون، ہزارہ، بلوچ)، مذہبی (شیعہ سنی)، لبرل (پی پی پی،تحریک انصاف) اور ترقی پسند ہیں۔ غیر ہزارہ سیاسی جماعتوں اور امیدوروں کے لئے یہ دونوں صوبائی نشستیں اہم تو ہیں مگر ہزارہ قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے لئے یہ نشستیں بلخصوص پی بی 2 کی صوبائی نشست انتخابی سیاست کے لئے حیات اور موت کی بازی ہے۔

ایچ ڈی پی گزشتہ دو دہائیوں سے اس نشست پر کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کر پائی

اس کی وجہ واضح ہے کہ غیر ہزارہ سیاسی جماعتوں کو ہزارہ کمیونٹی کے ووٹ ایک عرصے سے مل رہے ہیں جس کی تازہ مثال 2013 کے انتخابات میں پشتون خواہ میپ کو ہزارہ ٹاؤن سے لگ بھگ ڈھائی ہزار ووٹ ملے۔ اسی طرح 2017 کے ضمنی انتخابات میں پی پی پی سمیت پشتونخوا میپ ، بی این پی مینگل، جمعیت علما اسلام کو بھی ہزارہ ٹاؤن سے ووٹ ملے۔

ہزارہ ٹاؤن اور علمدار روڈ کی صوبائی نشست کو لے کر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی روز اول سے بھاگ دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ ان کے ساتھ تحریک انصاف کے سابقہ نوجوان رکن اور جمہوری وطن پارٹی کے جواد ہزارہ کی کوششیں بھی قابل قدر ہیں لیکن ایچ ڈی پی  اپنی پوری قوت کے ساتھ اس نشست کے دفاع کے لئے لڑ رہی ہے۔ یاد رہے کہ ایچ ڈی پی گزشتہ دو دہائیوں سے اس نشست پر کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کر پائی مگر ہر 5 سال کے بعد کے انتخابات میں سب سے زیادہ انتخابی کمپین بھی ایچ ڈی پی کی چلائی جاتی ہے۔

ہزارہ کمیونٹی کی تعمیر و ترقی کا واحد راستہ یہ دو صوبائی نشستیں ہیں

چھ لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہزارہ کمیونٹی کی تعمیر و ترقی کا واحد راستہ یہ دو صوبائی نشستیں ہیں۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ علمدار روڈ مری آباد میں جتنے بھی ترقیاتی کام ہوئے ہیں وہ ایم پی اے فنڈز سے ہوئے ہیں، جس کی چند موٹی مثالیں بینظیر ہسپتال، حسن موسیٰ گرلز کالج، میجر نادر کمیونٹی ہال اور لایبریری، قیوم پاپا فٹبال سٹیڈیم، سرکاری سکول، کالجز، بند یونیورسٹی کیمپسز وغیرہ وغیرہ۔ یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ اگر اس حلقے سے غیر ہزارہ امیدوار کامیاب ہوئے یا پھر نئی حلقہ بندیوں کے نتیجے میں یہ سیٹ ہزارہ کمیونٹی کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے تو تھوڑا بہت ترقیاتی کام جو ہو رہا تھا وہ بھی بند ہو جائے گا۔

پشتونخوا میپ پانچ سالوں کی حکومت کے بعد اپنی مقبولت کھو چکی ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نئی حلقہ بندیوں کے خلاف شکایت کے بعد ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے حق میں فیصلہ سنایا گیا جس کے بعد تحریک انصاف اور پشتونخوا میپ یہ کیس بلوچستان ہائی کورٹ لے کر گئیں اور 9 میں سے 8 حلقوں کی حلقہ بندیوں کو ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا اور اب قوم پرست جماعت نے ہارئی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یعنی اب لڑائی انتہائی شدت اختیار کر چکی ہے۔ پشتونخوا میپ پانچ سالوں کی حکومت کے بعد اپنی مقبولت کھو چکی ہے جس کا واضح ثبوت پچھلے سال کے ضمنی انتخابات ہیں جہاں پشتونخوا میپ مقابلے سے ہی باہر تھی اور اس کی جگہ جمعیت نے لے لی تھی۔ ایچ ڈی پی گزشتہ دو دہائیوں سے پی بی 2 کی سیٹ جیتنے کی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے مگر ایسے لگ رہا ہے جیسے یہ صوبائی نشست ان کے مقدر میں نہیں۔

گویا وہاں کے لوگ پاکستانی نہیں بوسنیا سے آئے ہیں

ہزارہ کمیونٹی کی انتخابی سیاست اور پرانا پی بی 2 کی ہزارہ کمیونٹی کے لئے اہمیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ہزارہ ٹاؤن جو کہ پی بی 6 میں آتا ہے جہاں سے کبھی کوئی ہزارہ امیدوار نہیں جیتا کا علمدار روڈ سے موازنہ کریں۔ ہزارہ ٹاؤن کی آبادی علمدار روڈ سے کہیں زیادہ ہے مگر بنیادی ضروریات کا فقدان ہے۔ ہزارہ ٹاؤن میں 6 لاکھ کی آبادی کے لئے محض ایک سرکاری گرلز اور بوائز سکول ہیں، کھیلوں کے لئے کوئی سرکاری میدان نہیں اور نہ ہی صحت کی سہولیات کے لئے سرکاری ہسپتال نام کی کوئی چیز ہے۔ کمیونٹی سینٹر کے نام سے لوگ نا آشنا ہے۔ ہر طرف پرائیوٹ اداروں کا جال بچھا ہے جہاں خوب قمیت وصول کی جارہی ہے۔ تعلیم، صحت، کھیل کے میدان، لائبریریز، ہر چیز نجی اداروں کے قبضے میں ہے۔ گویا وہاں کے لوگ پاکستانی نہیں بوسنیا سے آئے ہیں۔

ہمارے نام نہاد امیدوار اشاروں پر چلنے کی سیاست کرتے ہوئے ہمیشہ دائیں بائیں ضرور دیکھتے ہیں اور جہاں ان کو بیٹھنے کا کہا جائے یہ فوراً لیٹ جاتے ہیں

اس حقیقت انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے نام نہاد امیدوار اشاروں پر چلنے کی سیاست کرتے ہوئے ہمیشہ دائیں بائیں ضرور دیکھتے ہیں اور جہاں ان کو بیٹھنے کا کہا جائے یہ فوراً لیٹ جاتے ہیں۔ عوامی مفاد کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خوب خیانت سے کام لیتے ہیں۔ پاکستان، بلخصوص بلوچستان، میں ترقی کی رفتار انتہائی سست رفتار اور مایوس کن ہے جس کو بہتر بیانا جا سکتا ہے لیکن جب تک اس خطے میں سماجی تبدیلی نہیں آتی اور گراس روٹ سے ایک عوامی تحریک ابھر کر سامنے نہیں آتی، ہمیں سماجی تبدیلی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ اسی سسٹم کے اندر رہتے ہوئے اپنے مفادات کا دفاع کرنا چاہیے۔ موجودہ بحران اور مشکل حالات سے بیزاری اور دوری مزید خرابی کی طرف اشارہ ہے۔ اس کرپٹ بیوروکریسی سے جتنا کچھ حاصل ہو رہا ہے اس پر اکتفا تو نہیں کیا جا سکتا مگر اس کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔

پشتونخوا میپ نے ہزارہ کمیونٹی کو افغان ملت کا حصہ قرار دے دیا

پشتونخوا میپ اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نئی حلقہ بندیوں کو لے کر عدالتی لڑائی کے ساتھ ساتھ اخباری لڑائی بھی لڑ رہے ہیں۔ پشتونخوا میپ نے ہزارہ کمیونٹی کو افغان ملت کا حصہ قرار دے کر افغانستان میں زور و شور سے جاری اقوام کے درمیان سرد جنگ کو اپنی سیاست کا حصہ بنا لیا، گویا حلقہ بندیوں کی لڑائی محض انتخابی لڑائی نہیں رہی۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ برادر اقوام کے درمیان بھڑکنے والی اس سرد مہری پر کسی طرح قابو پا لیا جائے۔ افغانستان اور ایران کی سیاست کسی صورت ہمارے مفاد میں نہیں۔ افغانستان کے عوام اپنے مسائل کا حل کیسے تلاش کرتے ہیں یہ ان کا اپنا کام ہے۔ ہمارے مسائل کا حل آپس میں الجھنے سے نہیں بلکہ یکجا ہونے سے ملے گا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *