Type to search

تجزیہ

تر غیبات کی طاقت: جب تک ہم بطور قوم اس نکتے کو نہیں سمجھیں گے، یونہی خوار ہوں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کافی عرصہ پرانی بات ہے۔ نیو یارک میں میٹرو میں ایک سفر سوا ڈالر کا پڑتا تھا۔ نیو  یارک ایک مہنگا شہر ہے. اسی لئے وہاں پر کافی لوگ اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ایک سے زیادہ کام بھی کرتے ہیں. لہذا اانکی آمدن کا ایک خطیر حصّہ اانکے سفری اخراجات میں صرف ہو جاتا تھا. میٹروکی بسیں اور ٹرینیں وہاں پر اپنے مقررہ اوقات میں چلتی رہتی ہیں۔ چاہے ان پہ کوئی سفر کر رہا ہو یا نہیں. لہذا اگر اس پر بندہ ایک دفعہ سفر کرے یا دن میں کیے بار فرق نہیں پڑتا۔ حکومت کے اخرجات وہی کے وہی رہتے ہیں۔ اسی خیال کو مد نظر رکھتے ہوے  نیو یارک میں میٹرو پولیٹن ٹرانسپورٹیشن  نے لوگوں کی سہولت کے لئے ہفتہ وار اور ماہانہ کارڈ متعارف کرائے- ان کارڈز کے ذریعے ایک دفعہ پیسے دینے کے بعد وہ لا تعداد دفعہ سفر کر سکیں۔ انکا مقصد یہ تھا ک جو لوگ روزانہ میٹرو پہ روزانہ  کافی دفعہ سفر کریں تو انکو کم قیمت میں یہ سہولت  مل جائے۔ تا کہ انکا بجٹ قابو میں رہے
اس سکیم سے کافی لوگوں کو فائدہ ہوا۔ لیکن وہاں چند لوگوں نے اس کا فائدہ بھی اٹھانا شروع کر دیا اور اس سے پیسہ کمانے لگے۔ انکا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ میٹرو ٹرین سٹیشن میں بیٹھ جاتے تھے اور آنے جانے والوں کو پچہتر سینٹس میں داخل کر دیتے تھے. اس طرح وہ ایک دن میں اس سے کافی پیسا کمانے لگے
میٹرو والوں اس بات پر بڑی تشویش ہوئی کہ چند لوگ ان کی دی ہوئی رعایت کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں. لہذا انہوں نے سوچا کہ اسکا کوئی مستقل حل نکالا جائے.اس کے لئے انہوں نے پولیس کو نہیں استعمال کیا ک ان لوگوں کو ڈنڈے مارنا شروع کریں -لہذا انہوں نے ایک چھوٹی سی تبدیلی کی. اب کارڈز جب ایک دفعہ استعمال ہو جاتا تھا تو اس کے بعد ایک گھنٹے تک کام کرنا چھوڑ دیتا تھا. نتیجتاً اس کو آپ دن میں چوبیس دفعہ سے زیادہ استعمال نہیں کر سکتے تھے. اس چھوٹی سی تبدیلی سے یہ فائدہ ہوا کہ جو لوگ کام پہ جاتے تھے ان کو بدستور اس کا فائدہ ملتا رہا لیکن جو لوگ اس سے پیسے کما رہے تھے ان کی ترغیب ختم ہو گئی۔ پہلے وہ ایک گھنٹے میں کئی ڈالر کما رہے تھے. اب صرف پچہتر پیسے ہی بنا سکتے تھے. لہذا انکا جب فائدہ ختم ہوا تو کارڈز کے غلط استعمال کی افادیت ختم ہو گئی اور ساتھ ہی اس سے کمانے کا سلسلہ ،ختم ہو گیا.
میرا یہ لمبی تمہید باندھنے کا مقصد یہ تھا کہ کہ دنیا میں کوئی بھی قوم ایماندار یا بے ایمان نہیں ہوتی- ان کے سارے  اعمال  ان کو دیے گئے ترغیبات کی ۔وجہ سے ہوتے ہیں. معیشت دان اس کو “ترغیبات کی طاقت”(پاور آف  انسینٹیوز ) کہتے ہیں.
زمانہ قدیم سے ہی انسانوں کی اس اصل کا پتہ ہے. یہی وجہ ہے جزا اور سزا کا تصور بھی قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے. جو کہ ترغیبات کی ہی قسمیں ہیں. لیکن کچھ باتوں کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے. پہلی بات   کہ ہر جگہ ایک جیسی ترغیب اثر نہیں کرتی. یہی وجہ ہے کہ کبھی حکومت میں ڈنڈا استعمال کرنا پڑتا ہے اور کبھی پیار. اور دوسری بات یہ کہ اگر کسی ترغیب کے متعارف کرانے سے لوگ کسی عمل سے رک جاتے ہیں تو اس ترغیب کو ہٹانے سے لوگ ووہی عمل دوبارہ کرنے لگ جاتے ہیں. اسی طرح اگر ایک ترغیب آنے سے لوگ کوئی عمل شروع کر دیتے ہیں تو اس ترغیب کو ہٹانے سے وہی عمل دوبارہ رک جاتا ہے. جیسا کہ ہم نے اپنے آغاز والی مثال میں دیکھا۔.
ہمارے معاشرے میں آپ اکثر سنتے ہیں کہ یہاں کرپشن بہت ہے. لیکن ہم نے کبھی سائنسی طریقے سے یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ کرپشن کیسے ختم کی جا سکتی ہے اور یہ ہوتی کیسے ہے. ہر پانچ دس سال بعد ہمیں ایک شخص نظر آتا ہیں جو کہ آخری امید کے  طور پر پیش کیا جاتا ہے. اس سے ساری  امیدیں باندھی  جاتی ہیں. اور پھر جب وہ اپنے وعدوں کے مطابق کرپشن ختم نہیں کر پاتا تو اس کو گالیاں پڑنا شروع  ہو جاتی ہے. اور اسکا کردار مسخ ہونا شروع ہو جاتا ہے اور آخر کار ایک اور مسیحا سامنے آتا ہے اور وہ ہماری آخری امید بن جاتا ہے. یہ کھیل سال ہا سال سے جاری ہی
ایک بات طے  شدہ ہے. جب تک ترغیبات ووہی  رہینگی تو آپ کسی کو بھی مسند پہ بیٹھا دیں- ووہی کچھ ہوتا رہے گا جو تمام انسانی تاریخ میں ہوتا رہا ۔۔ ۔ ہے. ترغیبات کے بدلنے سے ہی لوگون کا برتاؤ بدلہ جا سکتا ہے. جب تک ہمیں یہ نکتہ سمجھ نہیں آئیگا  ہم اسی طرح ذلیل ہوتے رہینگے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *