Type to search

انسانی حقوق تجزیہ ثقافت سیاست

کنجری بنڑیاں میری عزت نہ گھٹدی میکوں نچ کے یار مناون دے

  • 1
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    1
    Share

 

ذولفقار بھٹو جونئیر  کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہےجس میں وہ لندن ایک سڑک پر رقص کر رہا ہے ۔ پنجابی صوفی کلام پر محو رقص بھٹو کے پوتے اور بے نظیر کے بھتیجے نے سندھی اجرک کے ساتھ ڈیزائن کیا سیاہ انگفرا پہن رکھا ہے۔اسکا رقص دیکھنے کے لئے کچھ لوگ کھڑے ہو جاتے اور موبائل کیمروں سے ویڈیو بنانے لگتے ہیں اور کچھ بغیر نوٹس کئے گزرتے جا رہے ہیں ۔شائد لندن میں اسکے سرکل کے کچھ لوگوں نے اسے پہچانا بھی ہو لیکن اصل شناخت تو سوشل میڈیا پر ہوئی جہاں وہ بھٹو جیسے عظیم سیاست دان کے اصل وارث کے طور پر پہچانا گیا۔ سوشل میڈیا پر بہت سوں کا خیال ہے کہ اسکا یہ روپ دراصل بہروپ ہے جو اس نے سب سے بڑے سیاسی حریف آصف علی زرداری اور اسکے بیٹے بلاول بھٹو زرداری سے بچنے کے لئے اختیار کیا ہے۔  چونکہ ذولفقار جونئیر ہی بھٹو کا اصل وارث ہے اس لئے اسکی جان کو ان سے خطرہ ہے جو ہیں تو کسی سندھی بلوچ خاندان کی بلڈ لائن لیکن بھٹو کا سر نیم لکھوا کر جعلی وارث بنے بیٹھے ہیں۔

سوشل میڈیا کا ایک فرقہ اسے بھٹو خاندان کی تباہی اور بربادی کا چلتا پھرتا اشتہارکہہ رہا ہے اور کچھ درد دل رکھنے والے اسے مردانگی کا تازیانہ بھی قرار دے رہے ہیں ۔ چند برس پہلے بھی ذولفقار بھٹو جونئیر کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں یہ نازیہ حسن کے گانے “ڈسکو دیوانے” پر جھبرے بالوں والی ننگی رانوں کے ساتھ خواتین کے لئے مخصوص جیولری کے ساتھ سر پر ڈوپٹہ اوڑھے کلب کی ڈسکو روشنیوں میں ڈانس کر رہا تھا تب بھی اسکا سیاسی خانواده اور ” مشکوک مردانگی ” پر لمبیا بحث مباحثہ ہوا تھا لیکن ذولفقار جونیر نے اسی ویڈیو میں شامل اپنے انٹرویو میں بہت فلسفیانہ انداز خالص مذہبی تصور اور مردانگی کی تعریف کچھ یوں بیان کی تھی کہ وہ پاکستانی اور لبنانی نسل کا مسلمان ہے پاکستان میں جہاں مذہب کے بہت خالص ہونے پر زور دیا جاتا ہے وہاں مذہب میں کلچر کی آمیزش بھی بہت زیادہ ہے اور مردانگی سے اسکی مراد سخت گیری یا مرادنگی کا ایک خاص روپ نہیں بلکہ اسکے نزدیک مردانگی نفاست اور نزاکت کا نام ہے۔

تب “اہل سخن ” اسکی مردانگی کی تعریف سن کر کھلکھلا کر ہنستے رہے اور آج کچھ ہمدرد اسے انگفرا پہنے ناچتے دیکھ کر “مردانہ نرتکی ” قرار دے کر ترس کھا رہے ہیں لیکن ڈانس استھیٹیکس یا رقص کے جمالیاتی پہلو سے دیکھا، جائے تو اسکے نرت اور بھاو میں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ یہ بہروپ اس نے کسی خوف کے زیر اثر دھارن کیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سیاست ہی سپریم سٹرکچر ہے
اور انسانی سماج میں پروگریسو اور انسان یا سماج دوست بلکہ اب تو جس سیارے کے ہم میکن ہے اس سیارہ کی مناسبت سے زمین دوست کہیں تو ایسی تبدیلیوں کے لئے سیاست ہی رستہ ہے لیکن ہرگز ایسا نہیں کہ ایک سیاسی خاندان میں پیدا ہو کر انسان فنون لطیفہ میں دلچسپی نہیں لے سکتا اور اسے معاشرتی تعمیر کے لئے بطور ہنر استعمال نہیں کر سکتا۔آرٹ معاشرے میں نرمی لاتا ہے۔ انسان کو انسان کے قریب لاتا ہے ۔اسے محبت سے محبت کرنا سکھاتا ہے۔انسان کو پہچان اور شناخت عطا کرتا ہے۔ کسی معاشرہ میں آرٹ کی بے وقتی پورے سماج کو آئیڈینٹٹی کرائیسس سے دوچار کر سکتی ہے ایسے میں فرد خود کش بمبار بھی بن جاتا ہے۔ اس لئے جہاں سیادی تدبر کام نہ آئے وہاں فنون لطیفہ کار ساز بنتے ہیں

ذولفقار علی بھٹو جونئیر کے رقص میں حسن، خوبی، نزاکت ،تاثیر اور دل موہ لینے والے وہ سب نازک جذبات اور ادائیں ہیں جنہیں دنیا کی آدھی آبادی صرف اس لئے اپنی ذات سے علیحدہ کر دیتی ہے کیونکہ وہ “مرد” ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ہماری زندگیوں پر چونکہ ہمارا حق سب سے آخر میں ہوتا، ہے اس لئے ہماری ترجیحات معاشرہ طے کرتا ہے ایسے معاشرے سے تعلق رکھنے والا، اتنے بڑے سیاسی خاندان کا “اصل وارث ” جب مردانگی کی تعریف ہی نزاکت کر دے تو اسے جج کرنا، بزدل سمجھنا ہمارا ” قومی فریضہ ” بن جاتا ہے اور اس خیال کو مزید تقویت اسکا رقص کرنا اور لباس کا انتخاب بھی پہنچاتا ہے۔

شک و شبہ کی گنجائش تو رہی نہیں کہ وہ بزدل ہے “مرد” ہوتا تو یوں سوانگ رچاتا اور زنانہ کپڑے پہنتا ؟ لیکن اسکے رقص میں ایک جذب کا عالم بھی تو ہے۔ہاتھ پاوں یوں چلتے ہیں گویا ہوا میں تیر رہے ہوں، چہرے کے بھاو بھی دل کا آئینہ صاف دکھاتے ہیں۔ اسے سندھی اجرک میں بلھا شاہ کے کلام پر ناچتے دیکھ کر مرحوم دلدار پرویز بھٹی کا وہ باکمال تعارف یاد آ گیا جو انہوں نے عابدہ پروین کے حوالے سے کروایا تھا ” پنجاب کے سب دریا سندھ کو سیراب کرتے ہیں لیکن موسیقی کا ایک دریا ایسا بھی ہے جو سندھ سے پنجاب کو سیراب کرتا ہے” ذولفقار علی بھٹو جونئیر کے نرت میں بھی سندھ کی موجوں جیسی روانی ہے، ساتھ بلھا شاہ کے کلام کا جادو بھرا صوتی تاثر۔

لیکن مردانگی والا معمہ اب تک حل نہیں ہوا شائد ذولفقار علی بھٹو مرد نہیں، کیونکہ مرد ہوتا تو اپنے باپ دادا کی سیاسی میراث کو سنبھالتا سیاست کے آتش نمرود میں کود کر جان دیتا اور خاندان کی روایت کے مطابق عوام کو ایک اور سیاسی شہادت کا تحفہ دیتا۔ اس نے مردوں والا راستہ نہیں چنا، اس لئے ہمارے ضابطوں کے مطابق وہ مرد ہرگز نہیں۔لیکن سوال ہے کیا فقیر مرد نہیں ہوتا؟  کیا بلھا شاہ بھی مرد نہیں تھا۔ شائد اسی لئے ایسی بہکی باتیں اور حرکتیں کرنے والوں کو تاریخ مرد نہیں مرد قلندر لکھتی ہے،گر ذولفقار جونیر نے بزدلی کی وجہ سے نہیں مرضی سے راج پاٹ کا رستہ چھوڑا ہے تو بھی اسے مرادنگی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت دکھائی نہیں دیتی ،شائد اسی جذب کو بلھا شاہ نے لکھا تھا۔
کنجری بنڑیاں میری عزت نہ گھٹدی
میکرو ں نچ کہ یار مناون دے
میکوں نچ کہ یار مناون دے

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *