Type to search

سیاست عوام کی آواز

ریحام کی کتاب پریشان کن اس لئے کہ۔۔۔

پاکستانی صحافی ریحام خان کی کتاب کی آمد کا شہرہ ہے۔ اس وقت سیاسی افق پر انتخابی منشور اور انتخابی مہم سے زیادہ یہ کتاب زیرِ بحث ہے جو ابھی آئی ہی نہیں۔ کتاب کی حمایت اور مخالفت میں مورچے سنبھال لیے گئے ہیں۔ زیادہ منظم حملے کتاب کی مخالفت میں چہ بچیں ہونے والوں کی بوکھلاہٹ کے ہیں۔ پیادے ٹرولز کے ساتھ سیلیبرٹی اکاؤنٹس بھی پیش پیش ہیں۔ ریحام خان شاطر ملکہ کی طرح اپنے پتے اور چالیں کھیل رہی ہیں اور ان کے نشانے پر جو بھی آتا ہے، اسے بھرپور حماقتوں کا موقع دے رہی ہیں۔


یہ بھی پڑھیے: انارکلی کے نوسر باز، اور ریحام خان کی کتاب میں ‘گندی گندی باتیں’


ریحام کی کتاب میں کچھ نیا ہونا ممکن نظر نہیں آتا

عمران خان کی زندگی پر کوئی پہلی کتاب یا انکشاف نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط سیریز ہے اور اتنے انکشافات اور باتیں ہو چکی ہیں کہ اب لگتا ہے کہ کوئی بھی سامنے آنے والا نیا انکشاف پہلے سے ہو چکی باتوں کی تفصیل ہی ہو گا اور زیادہ تر سب کے علم میں ہو گا۔ انبساط یوسف سے لے کر شمع جونیجو کی کالی دال تک ایک طویل سلسلہ ہے۔ یہ الزامات منشیات سے لے کر پلے بوائے طرزِ زندگی تک پھیلے ہوئے ہیں جو ذاتی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پاکستانی سیاست میں مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کے لئے بھرپور طریقے سے استعمال ہوتے ہیں۔ ‘پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک’ اور اس قسم کے دیگر نام نہاد سیکنڈل ذاتی زندگی کو لے کر سیاستدانوں کی غیر حقیقی ایشوز پر پگڑیاں اچھالنے کے کام آتے رہے ہیں۔

عمران خان کی ذاتی اور سیاسی زندگیوں میں تضاد ہی ان کے خلاف استعمال ہوتا ہے

عمران خان اپنی مذہبی اور پاکستان کو مدینۂ ثانی بنانے کی دائیں بازو کی سیاست کی وجہ سے شخصی تضادات کا شکار ہیں۔ ایک طرف رنگین زندگی اور دوسری طرف طالبان اور مذہبی انتہا پسندوں اور ان کے سسٹم اور تسلط کے لئے نرم گوشہ انہیں ہر ایسے موقعہ پر دوراہے پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے جب ان کی ذاتی زندگی پر کوئی بات آئے۔ جن مذہبی اور اخلاقی قدروں کو وہ سیاست کے ذریعے نافذ کرنا چاہتے ہیں، ان پر خود پورا نہیں اترتے اور مخالفین اسی مذہبیت کو ان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

خان صاحب کی ذاتی زندگی پر سوال آتے ہی انصافی ولی اللہ بن جاتے ہیں

انصافیوں کی ذہنیت اور تربیت بھی انہی خطوط پر ہوئی ہے جو سوشل میڈیا پر اختلافِ رائے پر گالم گلوچ اور گھٹیا غلاظت پر اتر آتے ہیں۔ جب عمران خان کی ذاتی زندگی پر کوئی الزام آتا ہے تو انصافی توبہ تائب کرنے والے ولی اللہ یا روحانیت اور چار ‘غیر مسلموں’ کو اسلام قبول کرانے کا سہارا لیتے ہیں یا ایک ہی سانس میں ذاتی زندگی کے احترام کا مطالبہ کرتے ہوئے مخالف سیاسی جماعتوں کی خواتین پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیتے ہیں۔

اپنے ارد گرد کھڑی کی گئی اس ساری کنفیوژن اور تضادات کا سب سے زیادہ شکار خود عمران خان ہی بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ٹیریان وائیٹ کو اپنا نہیں سکے اور ماں کے کمسنی میں وفات کے بعد بھی ایک بیٹی جیتے جی باپ کے نام اور پرورش کی ذمہ داری سے محروم ہے۔ جمائمہ کے ساتھ ان کے تعلق کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

شور شرابہ کتاب کے لئے ہائیپ کا سبب ہی بنا ہے

ریحام خان کی کتاب کے اب تک جتنے مبینہ مندرجات اور طنزیہ اقتباسات سامنے آ چکے ہیں، ان سے کئی متوازی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ جنرل درانی کی کتاب کے بعد ریحام خان کی کتاب کا وسیع پیمانے پر زیرِ بحث آنا کتابوں سے کوسوں دور پاکستانی قوم میں ایک عجوبہ ہے۔ کتابوں پر یہ بحث مثبت پہلوؤں سے آگے بڑھنی چاہیے جس کا کلچر ہمارے ہاں نہیں ہے۔ جن مبینہ مندرجات پر حمزہ عباسی، قومِ یوتھ اور تحریکِ انصاف کے سیاستدان سیخ پا ہیں، ان سے خوفزدہ ہونا بے جا ہے۔ ریحام خان کتاب کے متعلق جتنے محتاط انداز میں اپنا مؤقف پیش کر رہی ہیں، اس سے ایسا نہیں لگتا کہ انہوں نے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھے بغیر ایسی باتیں لکھی ہوں گی جو انہیں قانونی مسائل سے دوچار کر سکتی ہوں۔ بالفرض اگر وہ تمام چیزیں کتاب میں درج ہوں تو وہ اشاعت کے بعد کتاب کو بے معنی کر سکتی ہیں، پہلے شور شرابہ کتاب کے لئے ہائیپ کا سبب ہی بنا ہے جو ان کے اپنے خدشات اور عدم تحفظ کا اظہار ہے اور شاید نادانستہ طور پر ان باتوں کی تشہیر اور مضحکہ خیز واویلا بھی کر بیٹھے ہیں جو کتاب میں موجود ہی نہ ہوں۔ کتاب کو اشاعت سے روکنے کی دہائی دینا بھی دراصل کتاب کے حق میں جاتا ہے۔

ہم جنس پرستی، باہمی رضامندی کے ساتھ جنسی تعلقات سے عوام کا کوئی تعلق نہیں، مگر جنسی ہراسانی؟

عمران خان پر عائشہ گلالئی کے جنسی ہراسانی کے الزامات کی نوعیت مختلف تھی جو ذاتی زندگی کے زمرے میں نہیں آتے۔ ہم جنس پرستی، باہمی رضامندی کے ساتھ جنسی تعلقات اور رنگین مزاجی کا تعلق ذاتی زندگی سے ہے جن کے ساتھ اتفاق یا اختلاف دونوں صورتوں میں شخصی آزادیوں کا احترام اور دفاع لازم ہے، لیکن جنسی ہراسانی دوسروں کی زندگی پر نفسیاتی و اعصابی اثرات ڈالتی ہے اور دوسروں کی ذاتی سپیس میں مداخلت ہوتی ہے۔ کتاب کے متعلق دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں ہراسانی کی کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں. اگر ایسا کتاب میں موجود ہے تو اسے الیکشن میں بھی جنسی ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے استعمال ہونا چاہیے اور تحقیقات کے مطالبے کے لئے بھی بھرپور اور مؤثر آواز بلند ہونی چاہیے لیکن اگر ذاتی زندگی سے متعلق باتیں الیکشن میں استعمال کی جاتی ہیں یا الیکشن پر اثر انداز ہوتی ہیں تو یہ انتہائی منفی سیاست ہو گی۔

تحریکِ انصاف نے مندرجات اچھال کر اپنے لئے مسئلہ بنا لیا ہے

بدقسمتی سے خودساختہ یا چوری شدہ مندرجات اچھال کر تحریکِ انصاف نے خود اس عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ ریحام خان کو اسی بنیاد پر بلیئنگ اور سوشل میڈیا پر دھمکیوں اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان پر خاتون ہونے کی وجہ سے متعصب جنس پرست ذہنی غلاظت کا مظاہرہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ذاتی زندگی اور سیاسی زندگی کا فرق اصولی طور پر بے انتہا ضروری ہے لیکن پاکستانی معاشرت کے پس منظر میں ہجوم کے ہاتھ کتاب یا الزامات لگ جائیں تو خیر کی ایسی توقع نہیں کی جا سکتی لیکن پھر بھی ہوش مندی قائم رہنی چاہیے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *