Type to search

تجزیہ سیاست

عسکری وزیر اعلیٰ اور مشرف کی وطن واپسی

بالآخر پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کا معاملہ طے ہو گیا اور الیکشن کمیشن نے ڈاکٹر حسن ‘عسکری’ رضوی کو نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر منتخب کر لیا۔ ڈاکٹر صاحب کی مسلم لیگ نواز سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور ڈاکٹر صاحب بابنگ دہل مسلم لیگ نواز کے لئے ویسے ہی خیالات کا اظہار کر چکے ہیں جیسے وطن عزیز میں بسنے والا ہر ‘عسکری پسند’ کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اسٹیبلشمنٹ کے لئے نہ صرف انتہائی نرم گوشہ رکھتے ہیں بلکہ کچھ دن قبل تک صدق دل سے ‘وسیع ترین ملکی مفاد’ میں انتخابات کا التوا بھی چاہتے تھے۔

اکثر نجی محفلوں میں ڈاکٹر صاحب پاکستان تحریک انصاف کے گن گاتے بھی نظر آتے ہیں۔ اخلاقی طور پر تو ڈاکٹر صاحب کو ناصر کھوسہ کی مثال سے سبق سیکھتے ہوئے خود ہی یہ عہدہ قبول کرنے سے معزرت کر لینی چاہیے تھی لیکن چونکہ ہمارے تجزیوں اور تبصروں میں اخلاقیات صرف دوسروں پر لاگو ہوتی ہیں اس لئے یہ کوئی حیران کن یا پشیمان کن فعل نہیں گردانا جا سکتا۔ یاد رہے کہ ناصر کھوسہ صاحب کا نام تحریک انصاف کے اعتراض کے باوجود شہباز شریف نے نامزدگی کے لئے گورنر پنجاب کو بھجوا دیا تھا لیکن پھر تحریک انصاف نے خود ہی ان کا نام واپس لے لیا تھا اور ناصر کھوسہ صاحب نے یہ کہہ کر معزرت کر لی تھی کہ کہ اگر ایک سیاسی جماعت کو میری نامزدگی پر اعتراض ہے تو میں یہ عہدہ نہیں قبول کر سکتا۔

لاڈلے کی بات مانتے ہوئے انہیں ڈاکٹر حسن عسکری کی شکل میں ایک مہربان اور شفیق امپائر عطا کر دیا ہے

مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری اطلاعات اور سینیٹر مشاہدالله خان نے راقم التحریر کو بتایا ہے کہ مسلم لیگ نواز کو نہ صرف ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کی بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب تعیناتی پر شدید تحفظات ہیں بلکہ انہیں یقین کی حد تک گمان ہے کہ ڈاکٹر حسن رضوی کی موجودگی میں مسلم لیگ نواز کو انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملے گی۔ راقم گذشتہ تحاریر میں یہ بات گوش گزار کر چکا ہے کہ تحریک انصاف پس پشت قوتوں سے اصرار کر رہی تھی کہ اگرمسلم لیگ نواز کے ہاتھ پیر باندھ کر اور مسلم لیگ نواز کے مخالف فرد کو نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر پنجاب میں تعینات کیا جائے تو عمران خان مسلم لیگ نواز کے پنجاب کے قلعے میں دراڑ ڈال دیں گے۔ محسوس ہوتا ہے کہ پس پشت قوتوں نے لاڈلے کی بات مانتے ہوئے انہیں ڈاکٹر حسن عسکری کی شکل میں ایک مہربان اور شفیق امپائر عطا کر دیا ہے۔

ساری سرکاری مشینری اور بیوروکریسی بھی ‘عسکری’ لگا دی جائے تو بھی پولنگ ڈے پروسیع پیمانے پر دھاندلی کرنا ناممکن ہے

ایک طرح سے یہ اچھا ہی ہوا کہ اب کم سے کم عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف دھاندلی کی گردان نہیں الاپ سکے گی۔ اس وقت زمینی صورتحال اور انتخابی حلقوں کی جو پوزیشن ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ اگر ساری کی ساری سرکاری مشینری اور بیوروکریسی بھی ‘عسکری’ لگا دی جائے تو عام انتخابات کے موقع یعنی پولنگ ڈے پر اس قدر وسیع پیمانے پر دھاندلی کرنا ناممکن ہے کہ جس کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کا پنجاب سے صفایا کیا جا سکے۔ البتہ نواز لیگ کی نشستوں میں کمی ضرور کروائی جا سکتی ہے۔ ادھر بلوچستان میں بھی عبداقدوس بزنجو جیسی کٹھ پتلی کی ماننند نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر علاؤالدین مری کو نامزد کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں بار بار دل‏ِ بسمل کو یہ خیال آتا ہے کہ پنجاب میں عسکری وزیر اعلیٰ، بلوچستان میں اپنی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ اور سینیٹ میں صادق سنجرانی جیسی کٹھ پتلی کو بٹھا کر اگر پس پشت قوتیں پھر بھی من چاہے انتخابی نتائج نہ حاصل کر پائیں تو پھر کیا ہو گا؟ کیا انتخابات کے نتائج کو 1970 کے انتخابات کی مانند ماننے سے انکار کرتے ہوئے اس مرتبہ پنجابی ووٹرز کو غداری کا طوق گلے میں پہنا دیا جائے گا؟

پرویز مشرف کو وطن واپس لانے کا راستہ نکال لیا گیا ہے

وفاق میں حکومت بنانے کا راستہ پنجاب سے ہو کر گزرتا ہے اور انتخابات کے نتائج اس بار پس پشت قوتیں مینیج کرتی ہیں یا پھر پنجابی ووٹر اس بار بیلٹ بکس کی طاقت سے تمام ان دیکھی قوتوں کو شکست دے دیتا ہے اس کا فیصلہ پولنگ ڈے پر ہو جائے گا۔ لیکن آثار بتاتے ہیں کہ نتائج مینیج کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اسی لئے مفرور سابق آمر پرویز مشرف کو وطن واپس لانے کا راستہ نکال لیا گیا ہے۔ ہمارے بہادر کمانڈو پرویز مشرف 14 جولائی کو وطن واپس تشریف لائیں گے اور فل پروٹوکول میں راؤ انوار کی مانند شاہانہ انداز میں عدالت میں پیشی کے بعد حفاظتی ضمانت اور سیکیورٹی گارڈز کے دستوں کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس کو سدھاریں گے۔ کیا عجیب مذاق ہے کہ اس ملک کے آئین کو دو بار معطل کرنے والا، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو گھروں میں نظر بند کرنے والا نہ صرف وطن واپس آ کر سیاست میں حصہ لینے کو تیار ہے بلکہ اسے انتخابات لڑنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ دوسری جانب سیاستدانوں کو چن چن کر انتخابات لڑنے کے لئے نااہل کیا جا رہا ہے۔ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھیے اور بتائیے کہ اگر پرویز مشرف سابقہ آرمی چیف نہ ہوتا اور محض ایک عام سیاستدان ہوتا تو کیا ملکی آئین کو معطل کرنے، سانحہ بارہ مئی میں ایم کیو ایم کی پشت پناہی کر کے درجنوں وکلا کو زندہ جلانے، اکبر بگٹی کو قتل کرنے، عدلیہ کے ججز کو نظر بند کرنے، اپنے ہموطنوں کو ڈالرز کے عوض امریکہ کو بیچنے جیسے سنگین جرائم کے ارتکاب کے بعد اب تک سولی پر نہ چڑھایا جا چکا ہوتا یا غدار نہ قرار دیا جا چکا ہوتا؟

پپرویز مشرّف 12 مئی 2007 کی پر آشوب شام پاکستانی قوم کو مکے دکھاتے ہوئے

مشرّف کی واپسی ایک اور ناکام چال

خیر، پرویز مشرف صاحب اب واپس آ ہی رہے ہیں تو خوش آمدید۔ انہیں واپس لا کر کراچی اور حیدرآباد میں جو مہاجر ووٹ بنک سمیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ نہ صرف ایک ناکام چال ثابت ہو گی بلکہ پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں مشرف کی واپسی اور انتخابات لڑنے کی آزادی جیسا اقدام پس پشت قوتوں اور ان کی حلیف سیاسی جماعتوں کے لئے کسی خود کش حملے سے کم ثابت نہیں ہو گا۔ پرویز مشرف کے لئے پنجاب میں جو نفرت ہے، اس کا فائدہ نواز شریف کو ہو گا اور اس کا ووٹ بنک مزید بڑھے گا۔ چونکہ عمران خان صاحب خود وزارت عظمیٰ کی لالچ میں کسی دور میں پرویز مشرف کی گود میں جا بیٹھے تھے، اس لئےاینٹی مشرف ووٹ عمران خان کو نہیں جائے گا۔

مشرف ایک چلا ہوا کارتوس ہے اور چلے ہوئے کارتوس جنگوں میں کسی کام نہیں آتے

خیبر پختونخوا میں اینٹی مشرف ووٹ کا فائدہ عوامی نیشنل پارٹی جبکہ بلوچستان میں اس کا فائدہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کو ملے گا۔ پرویز مشرف ایک چلا ہوا کارتوس ہے اور چلے ہوئے کارتوس جنگوں میں کسی کام نہیں آتے۔ اگر پرویز مشرف انتخابات لڑ سکتا ہے، حفاظتی ضمانت لے سکتا ہے تو پھر اس وطن میں کسی بھی مجرم کو پابند سلاسل رکھنے یا کسی سیاستدان کو انتخابات لڑنے کے لئے نااہل قرار دینے کا کوئی جواز باقی نہیں بچتا۔ آئین محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتا بلکہ وہ مقدس دستاویز ہوتی ہے جس کے دم پر ریاست اور اس کے شہریوں کے مابین ہم آہنگی اور ایک ساتھ رہنے کا جواز پیدا ہوتا ہے۔ آئین کو قدموں تلے روندنے والا سابق آمر کھلے عام سیاسی انجینیئرنگ کے عمل میں شریک ہونے جا رہا ہو تو اس سے زیادہ پامالی اور بے حرمتی آئین پاکستان کی نہیں ہو سکتی۔ باقی رہی انتخابی سیاست کی بات تو ایک لمحے کو فرض کرتے ہیں کہ پس پشت قوتیں من پسند نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

کوئی بھی قوت اعوان کے اجتماعی شعور پر اپنی انفرادی مرضی تھوپنے کی کوشش نہ کرے!

لیکن اس کی قیمت پس پشت قوتوں کو ستر سال میں پہلی دفعہ اپنے خلاف پنجاب جیسے صوبے سے مخالف بیانیے کے پیدا ہونے اور اس کے مقبول ہونے کی صورت میں ادا کرنی پڑی ہے جو کہ بہت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اگر مشرف کو راؤ انوار جیسا پروٹوکول ملا اور ڈاکٹر حسن رضوی صاحب نے کہیں ہینکی پینکی کی کوشش کی تو شاید پنجاب سے مسلم لیگ نواز کو اس قدر بھاری تعداد میں ووٹ مل جائیں گے کہ جنہیں تبدیل کرنا پس پشت قوتوں کے بس میں نہیں ہو گا۔ اگر انتخابات کے عمل کو اجتماعی شعور پر چھوڑتے ہوئے سیاسی انجینیئرنگ اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کر دیا جائے اور پرویز مشرف جیسے آئین شکن کو اس کے گناہوں کی سزا دے دی جائے تو شاید ہم ایک نئی صبح کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ عوام کو خدا کی ذات کے بعد صحیح معنوں میں اقتدار اعلیٰ کا مالک سمجھتے ہوئے کوئی بھی قوت عوام کے اجتماعی شعور پر اپنی انفرادی مرضی تھوپنے کی کوشش نہ کرے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *