Type to search

فيچرڈ

ابصار عالم، اپنے ٹوئیٹ کو سلطان راہی کا گنڈاسہ نہ سمجھنا!

  • 36
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    36
    Shares

صحافی ابصار عالم  کےجسم تک گولی ابھی پہنچی تک نہ تھی۔ صرف پستول سے باہر نکل کر اپنا سفر خرامہ خرامہ اسکی پسلیوں کی جانب طے کر رہی تھی۔ ‘ہنوز دور است دلی’ والا معاملہ تھا کہ واویلا مچ گیا۔۔ یہ کارنامہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے اپنےدستِ  مبارک بقلم خود تن تنہا انجام دیاہے۔ بیچارے ابصار (ہمارے کالج کے دنوں کا دوست)نے تو کسی کا نام تک نہ لیا۔ مگر دوست،جنکے ہوتے دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی، فوراً کمربستہ ہو گئے۔ جس کے ہاتھ سوشل میڈیا کاجو بھی پتھر روڑا۔۔ٹوئٹر، فیس بک، یو ٹیوب  وغیرہ وغیرہ۔۔لگا چڑھ دوڑا لے کر آئی ایس آئی، جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر۔

ایسا ہی سنجیدہ  اور مدبرانہ ردِعمل سانحہ  حامد میر پر تھا۔ جیو ٹی وی بار بار آئی ایس آئی چیف جنرل ظہیر اسلام کی تصویر ایسے دکھا رہا تھا جیسے اسکے کیمرہ مین نےانہیں حامد میر کو گولیاں مارتے رنگے ہاتھوں ریکارڈ کیا ہو۔ حالانکہ وہ بیچارے تو بقول بقراطی تجزیہ کار ہارون رشید پورے قبر میں گھسے ہوئے تھے۔ اپنی نہیں کسی عزیز کی میت اتار رہے تھے اسی گڑھے میں جس میں ہم سب نے جلد یا بدیر جانا ہے۔  جیو کو سو جوتے سو پیاز کھانے پڑے۔ جرمانہ ادا کرنا پڑا!

اب کوئی سوچے یہ کہاں کا انصاف،ابھی گولی راستے میں ہے۔ منزل تک پہنچی بھی نہیں اور بات جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز تک پہنچ گئی۔ ستیاناس ہو اس سوشل میڈیا کا۔ ایک نمبر کا شیطان ہے۔ اور ہمارے صحافی، اینکر، دانشور۔۔سب کے سب ایک نمبر کے گھامڑ!  ذرا عقل نہیں۔ ہم سے پوچھ لیتے۔ اپنے وسیع و عریض تجربے کی بدولت انکے بھس بھرے دماغوں میں کوئی معرفت کی بات ہی ڈال دیتے فی سبیل اللہ!

ارے جاہلوں کیا تم آئی ایس آئی کو نہیں جانتے؟ یہ وہ دیو مالائی  اور کرشمہ ساز ادارہ ہے جس نے سوویت یونین کے ایسے ٹوٹے کئے جیسے سلطان راہی نے پنجابی فلموں کے مستقل ولن مصطفی قریشی کے ہر فلم میں کیے۔ اسی آئی ایس آئی نے بذریعہ طالبان امریکہ کو افغانستان میں ناکوں چنے چبوا دیے۔ بھارت کائنات میں کسی سے نہیں ڈرتا لیکن آئی ایس آئی کا نام لو تو جنرل یحییٰ خان کی طرح پیشاب پتلون میں ہی نکل جاتا ہے۔  اگر آئی ایس آئی اور فوج نہ ہو تو جو بچے کچے پاکستان کے آدھےسے بھی کم  حصے میں ریاست کی ٹوٹی  پھوٹی رٹ  رہ گئی ہے وہ بھی ختم ہو جائے  اور پورے کا پورا ملک نو گو ایریے میں تبدیل ہو جائے۔

آئی ایس آئی مچھر مارنے کے لئے توپ کا استعمال ہر گز نہیں کرتی۔ ابصار کو اڑانا ہو تو کیا ایسا اناڑی وارداتیا بھیجے گی کی جو اس سے بغلگیر ہو کر بھی درست جگہ نشانہ نہ لگا سکا۔ دراصل وہ کوئی شوقیہ کالم نگار ہو گا جس کا مضمون ابصار نے نہ چھاپا ہو گا۔ اس نے پھر کوئی مضمون بھیج دیا ہوگا جو پھر  ردی کی ٹوکری میں چلا گیا ہو گا۔ بس پرانا غصہ نکالنے کے لئے ابصار پر حملہ کر بیٹھا۔ آئی ایس آئی کچی گولیاں نہیں کھیلتی۔ اور پھر ابصار اس ملک کا ایسا دشمن تو نہیں کہ اس کے بے ضرر ٹویٹ سے وطن عزیزکی بنیادیں ہل جائیں۔  لہذا ہمارا خیال یہ ہے کہ ہو نہ ہو یہ دشمن کی شرارت ہے۔ دشمن ہر لمحے تاک میں رہتا ہے اسلام اور پاکستان کو نقصان پہچانے کے لئے۔ کوئی گولی وولی نہیں لگی ابصار کو۔ یہ یہود و ہنود کا منفی پراپیگنڈہ ہے۔ بس جب سے PEMRA کے چیرمین کی کرسی ہاتھ سے گئی ہے schizophrenia کا شکار ہے۔ اس حالت میں انسان جاگتے جاگے بھیانک خواب دیکھتا ہے۔ اور یار لوگ اسے بہلانے کی خاطر ایسا ہی تاثر دیتے ہیں کہ خواب سچے ہیں۔ ابصار کو لگا کہ اسے گولی لگی۔ یاروں نے بحث نہ کی اور کہا ہاں لگی۔ چلو تمہیں ہسپتال لے چلتے ہیں۔سوشل میڈیا پر مشہوری بھی کر دیتے ہیں۔ آئی ایس پی آر سے تردید بھی کروا دیتے ہیں۔ ہسپتال میں ڈاکٹر نے بھی مریض کا دل رکھنے کے لئے ہاں میں ہاں ملائی اور ایک فرضی آپریشن بھی کر ڈالا۔ اب ابصار ٹھیک ہے۔ وہ یہ ہی سمجھ رہا ہےکہ کامیاب آپریشن کی بدولت اسکی جان بچ گئی۔  اسلام بھی محفوظ ہو گیا۔ اسلام کے قلعے پاکستان کو بھی کوئی گزند نہیں پہنچی۔

یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے تیری اک نگاہ کا قصور ہے!

پرانا دوست ہونے کے ناطے ابصار کو مشورہ یہ ہے کہ صحافی وزیر سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ کیا بیچتا ہے PEMRA یا کسی بھی ادارے کا چیرمین صحافی یا لکھاری کے آگے اگر وہ باضمیر ہو؟ تم اچھے بھلے صحافی تھے۔ PEMRAکے چیرمین بنکر سب سے پہلے تو اپنی ساکھ تباہ کر بیٹھے۔ تمہارے پاس وہ تعلیمی قابلیت اور تجربہ نہ تھا جو اس منصب کے لئے درکار ہے۔ ویسے تو یہاں ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے لیکن تمہارا معاملہ مختلف ہے۔ تم ایک کہنہ مشق باضمیر خبرنگار تھے۔ تم نے اپنا دراز قد PEMRAکے چیرمین کی پست قامت کرسی پر چند دن بیٹھ کر مستقل چھوٹا کر دیا۔ اب اگر تمہیں عدالت نے بھی فیصلہ صادر کر کے بتلا دیا کہ تم اس عہدے کے اہل نہیں تو تمہیں چاہیے تھا کہ اس کے بعد چپ سادھ لیتے۔ وجہ یہ ہے کہ تم نے یہ سیاسی عہدہ قبول کر کے اپنے لئے صحافی والا مقام ختم کر دیا۔ اب تم کچھ بھی ٹوئیٹ کرو تمہاری بات کو نون لیگ کے خوشامدی کا مجرا یا مرثیہ ہی سمجھا جاوے گا۔ نیو یارک ٹائمز نے بھی تمہیں نون لیگ کا ایک ہمدرد قرار دے ہی دیا نہ! یاد رکھو There is no smoke without fire

اس کے علاوہ بھی تمہیں کچھ باتیں سمجھانی ہیں۔ ایک نڈر صحافی ہوا کرتا تھا سید سلیم شہزاد۔ میرا بہت پیارا دوست۔ ایسی ایسی خطرناک چیزیں چھاپتا تھا  جس کا تم تو تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اسے قتل کیا گیا۔ آج اسکا کوئی نام لینے والا بھی نہیں۔ اسکے بیوی بچے کس حال میں ہیں کسی کو علم نہیں۔ یہ میڈیا تمہیں ہیرو بنا کر صرف اپنی دکان چمکا رہا ہے۔ جس نواز شریف کی للو پتو میں تم لگے ہوئے ہو وہ تو بھگوڑا بنکر لندن بیٹھا ہوا ہے۔ اور تمہیں یہاں مرنے کے لئے اکیلاچھوڑا ہوا ہے۔ کیا تم جاوید ہاشمی سے بڑھ کر اسکے جانثار ہو سکتے ہو؟ اورسب کو معلوم ہے نواز شریف نے کیا صلہ دیا ہاشمی کو اس کی وفاداری کا۔

کیا تم بھٹو سے بڑے ہیرو بن سکتے ہو؟ پتہ بھی نہ ہلا جب ضیاء مردود  (سوری مرد مومن لکھنا چاہ رہا تھا) نے اسے پھانسی کے پھندے پر لٹکایا۔ اگر ہیرو بننے کا اتنا ہی شوق ہے تو فلم انڈسٹری جوائن کرو۔ ویسے فلموں میں تو سلطان راہی اکیلا ستر اسی دشمنوں کو اپنے گنڈاسے سے ڈھیر کر دیتا تھا۔ اصلی زندگی میں دو ڈاکوؤں کے ہاتھوں مارا گیا۔ فلمی گنڈاسہ کسی کام نہ آیا۔ اپنے ٹوئیٹ کو فلمی گنڈاسہ نہ سمجھنا ورنہ انجام سلطان راہی جیسا ہی ہو گا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *