Type to search

فيچرڈ

آنجہانی موسیقار شرون راٹھور کا بالی ووڈ کیرئیر: غیر یقینی اور ناکامی سے لے کر شہرت کی بلندیوں تک

  • 10
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    10
    Shares

موسیقار جوڑی ندیم شرون ہمت ہار چکی تھی ۔ کوئی 21فلموں میں مختلف گانے ترتیب دیے تھے لیکن قسمت کی دیوی تو جیسے ان سے روٹھی ہوئی تھی ۔ مستقبل تو جیسے تاریک راہوں میں گم ہو کر رہ گیا ہے ۔ جو گیت بناتے ، وہ مقبولیت کی دہلیز پار کر ہی نہ پاتا ۔مایوسی اور لاچارگی کے ساتھ ساتھ بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئے تھے ۔صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی کہ ایک جوڑی دار ندیم اختر سیفی نے شرون راٹھور پر واضح کردیا کہ فلموں سے تو کچھ ملنے ملانا والا نہیں ۔16سال فلم نگری کو دینے کے بعد اب وہ گارمنٹس کے شعبے میں قسمت آزمائیں گے لیکن ملبوسات کو ’ ندیم شرون ‘ کا ہی لیبل دیں گے ۔ ندیم نے شرون راٹھور کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ فلموں سے ناطہ نہ توڑیں۔ جہاں اُن کی ضرورت ہوگی وہ مدد کو حاضر ہوں گے لیکن موسیقی کے ساتھ ساتھ ’ سائیڈ بزنس ‘ جم گیا تو شرون بھی فلم نگری کو خیر باد کہہ دیں۔

شرون راٹھور کاگھرانہ موسیقی کی خاصی سمجھ بوجھ رکھتا تھا ۔ ان کے والد پنڈت چتربھوج راٹھور کلاسیکی گلوکاری کا بڑا نام تصور کیے جاتے ۔ جبکہ ایک بھائی روپ کمار راٹھور غزل گلوکاری نام بنانے کی جستجو کررہے تھے لیکن شرون راٹھور کا کیرئیر تو جیسے جمود کا شکار ہوگیا تھا ۔

شرون راٹھور کو یاد تھا کہ ندیم اختر سیفی سے ان کی پہلی ملاقات 1973میں ایک ورائٹی فنکشن کے دوران ہوئی تھی ۔یہ وہ دور تھا جب فلمی افق پر جوڑی بنا کر موسیقار وں کی دھوم مچی تھی ۔ جبھی ندیم سیفی نے انہیں اپنے ساتھ کام کرنے کی پیش کش کی تو وہ انکار نہ کرسکے ۔ کئی دنوں کی بھاگ دوڑ کے بعد بھوج پوری زبان کی فلم ’ دنگل ‘ کی موسیقی دینے کا موقع ملا لیکن یہ تخلیق تو جیسے ان کے خوابوں کو سچ ثابت نہ کرسکی ۔ البتہ یہ فائدہ ہوا کہ فلم نگری میں یہ مشہور ہوگیا کہ ایک نئی موسیقار جوڑی بالی وڈ میں وارد ہوچکی ہے ۔ گو کہ اس فلم کے بعد انہوں نے 16برسوں کے دوران ڈیڑہ درجن سے زائد فلموں کے لیے گانے ترتیب دیے لیکن کوئی بھی ایک گیت زبان زد عام نہیں ہوا ۔ بلکہ یہ کہاجائے تو درست ہوگا کہ انہیں اُن فلموں کے لیے چنا جاتا ، جن کے فلم ساز بڑے موسیقاروں کو بھاری معاوضے کی بنا پر منتخب نہیں کر پاتے ۔

ندیم شرون کے کیرئیر میں اچانک ہی ایک ڈرامائی موڑ آیا ،جس کا انہیں انتظار تھا ۔ 1990میں فلم ’ باپ نمبری بیٹا دس نمبری ‘ کے گانے ریکارڈ کراتے ہوئے گلوکارہ انورادھا پوڈل ان کے کام سے خاصی متاثر ہوئیں۔ جنہوں نے دونوں سے وعدہ کیا کہ وہ ’ ٹی سیریز ‘ کے مالک گلشن کمار سے ان کی ضرور ملاقات کرائیں گی ۔

ندیم شرون اس بات کو بھول ہی چکے تھے کہ ایک روز اچانک انورادھاپوڈل کا فون آیا کہ جتنی جلدی ہو سکے گلشن کمار کے دفتر پہنچیں۔ موسیقار جوڑی بھاگم بھاگ گلشن کمار تک پہنچی ، جنہوں نے وقت ضائع کیے بغیر دونوں سے کہا کہ وہ کچھ لائے ہیں تو سنائیں۔

ندیم شرون کی عادت تھی کہ وہ فارغ اوقات میں ڈمی بولوں پر دھنیں بنا کر رکھ لیتے تھے ۔ گلشن کمار سے ملاقات کے دوران انہوںنے ٹیپ ریکارڈ ر نکالا اور چار دھنیں ، نظر کے سامنے ، دل ہے کہ مانتا نہیں، میں دنیا بھلا دوں گا اور دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں آنا ، سنائیں۔گلشن کمار کا ردعمل ان کی توقعات کے برعکس تھا ۔ جنہوں نے دھنیں سنتے ہی کہہ دیا کہ وہ اب ان گانوں پر غیر فلمی گیتوں کا کیسٹ نکالیں گے اور ندیم شرون کم از کم چار اور گیت کمپوز کرکے اس البم کو پورا کریں۔

ندیم شرو ن کو تو جیسے یقین نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے اب البم کی تیاریاں شروع کردیں۔ تبھی انہیں پھر سے گلشن کمار کا بلاوا آیا ۔ پتا چلا کہ ہدایتکار مہیش بھٹ اُن سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہی مہیش بھٹ جن سے ایک ملاقات کرنے کی خواہش لیے وہ فلم نگری میں طویل عرصہ گزار چکے تھے ۔ مہیش بھٹ نے ناصرف ندیم شرون کے گانوں کی تعریف کی بلکہ انہیں یہ خوشخبری سنائی کہ اب ان کے چار میں تین گیت وہ اپنی نئی فلم ’ عاشقی ‘ کے لیے منتخب کررہے ہیں۔اسی طرح انہیں مزید گانوں کی کمپوزیشن کا بھی گرین سگنل مل گیا ۔

ندیم شرون نے چند ہی ہفتوں میں ’ عاشقی ‘ کے گیت تیار کرکے مہیش بھٹ کو سنائے تووہ تو پرستار ہوگئے ۔ اُس زمانے میں فلم کی نمائش سے پہلے گیتوں کے کیسٹ فروخت ہوتی تھی اور ایسا ہی کچھ ’ عاشقی ‘ کے ساتھ بھی ہوا ۔ جس کے گانوں نے دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا ۔ البم تو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئی اور پھر ندیم شرون کی اس شہرت اور کامیابی کا سفر شروع ہوا ، جس کی آس اور امید لگائے بیٹھے تھے ۔مدھر اور رسیلے گانوں پر انہیں پہلی بار بہترین موسیقار کا فلم فئیر ایوارڈ ملا تو جیسے وہ خودکو ساتوں آسمان پر محسوس کررہے تھے ۔

ندیم شرون کی اس جوڑی نے پھر دل ہے کہ مانتا نہیں، ساجن ، ساتھی ، پھول اور کانٹے ، سڑک ، سپنے ساجن کے ، دل کا کیا قصور ، دیوانہ ، دامنی ، ہم ہیں راہی پیار کے ، برسات ، راجا ، راجا ہندوستانی ، دل والے ، پردیس ، دھڑکن جیسی شہرہ آفاق فلموں کے گانے کمپوز کیے ۔ عاشقی کے بعد مہیش بھٹ کے ساتھ تو ان کا یارانہ خوب رہا ۔جن کی کئی فلموں کی موسیقی کے لیے ندیم شرون کا ہی انتخاب کیا جاتا ۔ ندیم شرون کی شہرت میں جہاں ان کی موسیقی اور مدجھرگانوں کا اہم کردار رہا ، وہیں نغمہ نگار سمیر کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ جنہوں نے اس جوڑی کے لیے سب سے زیادہ رومانوی گیت لکھے ۔

کیا یہ اعزاز کم ہے کہ ندیم شرون مسلسل تین سال تک بہترین موسیقار کا فلم فئیر ایوارڈ جیتتے رہے ۔ 90کی دہائی میں ندیم شرون کی جوڑی کا ڈنکا چاروں طرف بج رہا تھا ۔ وہ مہنگے ترین کمپوزر تصور کیے جاتے ، جن کی کسی بھی فلم میں موجودگی اس تخلیق کو غیر معمولی پذیرائی دے جاتی ۔ فلم ساز، کامیابی کے لیے ندیم شرون کا سہارہ لیتے ۔ ندیم شرون پر الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ ان کے بیشتر گیت پرانے پاکستانی فلموں اور گلوکاروں کے چربہ رہے ۔ جبکہ ایک تاثر یہ بھی رہا کہ وہ کئی نو آموز موسیقاروں اور گلوکاروںکے گانوں کو اونے پونے دام خرید کر اپنے نام سے جاری کرتے ۔ہدایتکار منصور خان نے ندیم شرون کی اس ’ مبینہ ہیرا پھیری ‘ کو فلم ’ اکیلے ہم اکیلے تم ‘میں شفیع انعام دار اور ہریش پاٹیل کو ندیم شرون کا گیٹ اپ دے کر پیش بھی کیا ۔

ندیم شرون کی یہ جوڑی اُس وقت ٹوٹی جب 1997میں ندیم اختر سیفی پر گلشن کمار کے قتل کا الزام لگا اور وہ لندن چلے گئے ۔ اس دوران شرون راٹھور نے کچھ فلموں کے لیے لندن جا کر گیت کمپوز کرائے لیکن پھر دھیرے دھیرے یہ سفر بھی تمام ہوا ۔ شرون کے بیٹے سنجیو درشن بھی فلم نگری کے بہترین نوجوان موسیقار تسلیم کیے گئے جنہوں نے اپنی ہی فلم ’ من ‘ سے تہلکہ مچایا ۔ جبکہ شرون کے بھائی ونود راٹھور کئی فلموں کے لیے پس پردہ گلوکاری کرتے رہے ہیں۔

شرون راٹھور کہتے تھے کہ جدوجہد کے دور میں ایک بار وہ عامر خان کے والد طاہر حسین کے پاس اپنے گیتوں کا خزانہ لے کر پہنچے ۔ طاہر حسین نے ڈیڑھ دو گھنٹے تک سارے گیت سنے اور پھر بعد میں یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ ندیم شرون کے گانوں میں پختگی نہیں ہے ۔ اب یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ 1993میں جب طاہر حسین نے مہیش بھٹ کی ڈائریکشن میں تیار ’ ہم ہیں راہی پیار کے ‘ پروڈیوز کی تو گیتوں کے لیے ندیم شرون کی ہی خدمات حاصل کیں۔ معاوضے کی بات ہوئی تو ندیم شرون نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ وہ عام طور پر دس لاکھ روپے ایک فلم کے لیے وصول کرتے ہیں لیکن اس فلم کے لیے گیارہ لاکھ روپے معاوضہ لیں گے ۔ طاہر حسین نے استفسار کیا تو ندیم شرون کا کہنا تھا

کہ ایک لاکھ روپے اُن کا وہ جرمانہ ہے جو انہوں نے ماضی میں اُن کے گیتوں پر اعتراض کرکے مسترد کیا تھا ۔

(موسیقار شرون راٹھور 66برس کی عمر میں کورونا وائرس کے باعث زندگی کی جنگ ہار گئے)

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *