Type to search

خبریں

ایس او پیز پر عمل درآمد کیلئے بنائی گئی ٹائیگر فورس ناکام ہوگئی؟ بلاول کا وزیراعظم سے سوال

  • 10
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    10
    Shares

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر کڑی تنقید کی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بتائیں کہ وائرس کی ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے جو ٹائیگر فورس بنائی تھی، کیا وہ ناکام ہوگئی؟

سماجی روابط کی ویب سائٹ پر جاری پیپلز پارٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے متعدد ٹوئٹس کی گئیں۔

بلاول بھٹو زردای نے ملک بھر میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کورونا وائرس کی تیسری لہر کے پھیلاؤ کے کڑے وقت میں ملک بھر کے ہیلتھ ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس حکومتی نااہلی کی وجہ سے آج قابو سے باہر ہوچکا ہے اور اگر بروقت لاک ڈاؤن کرلیا جاتا تو وبا کے پھیلاؤ کو با آسانی روکا جاسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن وہ واحد طریقہ ہے کہ جس کو اختیار کرکے کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن سے ہونے والی معاشی مشکلات سے بچا جاسکتا ہے۔

 

لاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ وائرس کو قابو کیے بغیر ملک میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنا ممکن نہیں جبکہ وائرس ریلیف فنڈ کے ایک ایک روپے کا حساب دینا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان بتائیں کہ وائرس کی ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے جو ٹائیگر فورس بنائی تھی، کیا وہ ناکام ہوگئی؟

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر وائرس کی وہ برطانوی قسم ہے جو حکومتی نااہلی کی وجہ سے ائیرپورٹس پر کڑی نگرانی نہ ہونے کے سبب ملک میں آئی اور عمران خان نے کورونا وائرس کا شکار ہونے کے باوجود قرنطنیہ میں 5 رکنی اجلاس کی سربراہی کی۔

انہوں نے کہا کہ جس ملک کا وزیراعظم وائرس کا شکار ہوکر احتیاط نہ کرے، اس ملک میں عام آدمی کیسے ایس او پیز کا خیال کرے گا۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نااہل، نالائق اور سلیکٹڈ حکمران کی غلط حکمت عملی کے سبب کورونا وائرس کی تیسری لہر ملک میں قابو سے باہر ہورہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کی کورونا سے بچاؤ کی مؤثر آگاہی مہم نہ چلانے کی وجہ سے ملک میں ایس او پیز پر رضاکارانہ عمل کا رجحان تقریباً ختم ہوچکا ہے جبکہ دنیا ویکسین لگا کر وبا سے باہر نکل رہی ہے اور بدقسمتی سے ملک میں ویکسین نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ رفتار سے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جاتی رہی تو پاکستان میں 3 سے زائد برس میں صرف 20 فیصد آبادی کو ویکسین لگ سکے گی اور حکومت اگر چاہتی تو بروقت بڑے پیمانے پر کورونا ویکسین خرید سکتی تھی مگر وزیر اعظم عمران خان کی کوشش مفت امدادی ویکسین کا حصول رہی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ چین اگر ویکسین عطیہ نہیں کرتا تو پاکستان میں فوری طور پر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ڈوز فراہم کرنے کا سلسلہ نہ شروع ہوپاتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی کورونا ویکسین کی بروقت بڑے پیمانے پر خریداری میں مکمل ناکامی کا خمیازہ پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں اور دنیا میں چند سو روپوں کی کورونا ویکیسن کی ایک خوراک کی قیمت پاکستان میں ہزاروں روپے میں ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *