Type to search

بین الاقوامی خبریں سیاست

ایران میں فوج کی حکومتی معاملات میں دخل اندازی کی باز گشت: ‘اپنے میزائل سے مسافر جہاز گرا کر کہا کہ تردیدی ٹویٹ کریں’

  • 1
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    1
    Share

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کی ایک ایسی آڈیو ٹیپ منظرعام پر آئی ہے جس میں وہ ملک کی طاقتور سکیورٹی فورس پاسداران انقلاب پر  انکے کام میں مداخلت اور پالیسیوں کو ترتیب دینے کے حوالے سے اس جانب سے آنے والے  دباؤ پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ اس آّڈیو میں وہ  کہہ رہے ہیں کہ پاسداران انقلاب ملک کی خارجہ پالیسی پر حاوی ہے اور اسی نے ایران کو روس کی ایما پر شام کی جنگ میں دھکیلا ہے۔

جواد ظریف کی یہ آڈیو ٹیپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ ایک جانب عوام سوشل میڈیا پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں تو دوسری جانب سفارتی حلقے بھی اس میں محتاط دلچسپی دکھا رہے ہیں۔  بین االاقوامی میڈیا نے بھی اس میں غیر معمولی دلچسپی دکھائی ہے۔ بی بی سی نے لکھا ہے کہ اس آڈیو میں سنی گئی باتیں لوگوں کی جانب سے بڑے عرصے سے کی جا رہی قیاس آرائیوں کی تصدیق کرتی ہیں۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ یہ ظریف جیسے تجربہ کار سفارتکار اور ایک ایسے شخص کی جانب سے کی گئی ہیں جو کہ نپی تلی بات کرتے ہیں اور ایران کے جارحانہ پالیسیوں کے پس منظر میں ایک اعتدال پسند شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

آڈیو میں ایرانی وزیر خارجہ کیا کہہ رہے ہیں اور یہ آڈیو کب ریکارڈ کی گئی؟

 ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اس آڈیو کلپ میں   قدس فورس کے مرحوم سپہ سالار جنرل قاسم سلیمانی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ  ہر بار مذاکرات کے لیے جانے سے قبل مجھے کچھ نکات بیان کرنے یا رعایتیں دینے کا مشورہ دیتے تھے۔ فوج کے لیے سفارتی فتح سے زیادہ ضروری میدان میں فتح تھی اور میں فوج کی میدان میں فتوحات کے لیے مذاکرات کر رہا تھا۔ یاد رہے کہ یہ آڈیو ٹیپ تین گھنٹوں کی ہے اور بظاہر سات گھنٹوں پر مبنی اس ویڈیو انٹرویو سے لی گئی ہے جو دو ماہ قبل کیا گیا تھا۔ جواد ظریف کا وہ انٹرویو صدر روحانی کی اقتدار میں دو مدتوں پر مبنی ایک پراجیکٹ کا حصہ تھا۔  بی بی سی کے مطابق اس ٹیپ میں جواد ظریف دو موقعوں پر یہ کہتے ہیں کہ انھیں لگتا ہے کہ ان کے تبصرے کئی برسوں تک سنے یا شائع نہیں کیئے جا سکیں گے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ قاسم سلیمانی نے روس کے ساتھ مل کر سال 2015 میں کیے جانے والے جوہری معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کی

مسافر طیارے کا ایرانی فوجی میزائل سے تباہ ہو کر گرنے کا واقعہ اور جواد ظریف کی بے بسی:

ایران نے عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے تھے۔  یہ   قاسم سلیمانی کی گذشتہ سال عراق میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد بطور رد عمل کیا گیا تھا،۔ جس کے جواب میان حملوں سے چند گھنٹے بعد ایرانی افواج نے یوکرین کے ایک مسافر طیارے کو تہران سے پرواز بھرنے کے بعد مار گرایا تھا جس میں طیارے میں سوار تمام عملہ اور مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔ پاسداران انقلاب نے اس طیارے کو نشانہ بنانے کو غلطی قرار دیا تھا۔

 دی انڈیپینڈینٹ اردو کے مطابق اس افسوسناک او دلخراش واقعے کے حوالے سے بھی اس ریکارڈنگ میں بات ہوئی ہے۔ ریکارڈنگ میں جواد ظریف کا کہنا تھا کہ میں نے (سپریم نیشنل سکیورٹی اجلاس میں) کہا کہ دنیا کہہ رہی ہے کہ اس طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اگر طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا تو ہمیں بتایا جائے تاکہ ہم اس مسئلے کو حل کر سکیں،‘ مجھے کہا گیا کہ ’نہیں آپ ٹویٹ کر کے اس کی تردید کریں

ٹیپ کی تائمنگ اور جواد ظریف کی صدارتی امیدوار کے طور پر نامزدگی کا معاملہ: 

یہ ایک ایسے وقت پر منظرعام پر آئی ہے جب ایران میں صدارتی انتخاب کی تیاریں جاری ہیں اور طاقت کی کشمکش عروج پر ہے۔ جواد ظریف یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ صدارتی الیکشن  میں حصہ نہیں لیں گے لیکن قدامت پسند طبقے ان پر یقین نہیں کرتے اور پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے کسی بھی امکان کو ختم کر دیا جائے۔ایک بات واضح ہے کہ اس ٹیپ کے سامنے آنے سے جواد ظریف قدامت پسندوں اور ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای جو تمام حکومتی معاملات میں آخری فیصلہ کرتے ہیں، کے سامنے مشکل میں پڑ جائیں گے۔ البتہ ایران میں اقتدار کے لیئے گھمسان کا رن پڑنے کے امکان کو کوئی بھی رد نہیں کرتا۔

سربراہ القدس فورس جنرل قاسم سلیمانی کون تھے؟

ایران کے جنوب میں واقع صوبہ کرمان سے تعلق رکھنے والے قاسم سلیمانی 11مارچ 1957 ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نےکم عمری میں اسکول اور گاؤں چھوڑنے کے بعد کرمان واٹر آرگنائزیشن نامی ایک تنظیم کے ساتھ ٹھیکیدار کی حیثیت سے 1975 میں کام شروع کیا تھا۔ 1979 کے ایرانی انقلاب میں پہلی مرتبہ قاسم سلیمانی کو ملٹری ٹریننگ کا حصہ بنایا گیا اور محض 6 ماہ کی ٹریننگ کے بعد سرحد پار بھیج دیا گیا۔ ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سالہ جنگ کے دوران، وہ کرمان کی ڈویژنل آرمی کے کمانڈر تھے۔ 1988 میں جنگ ختم ہونے کے بعد وہ کرمان واپس آئے ۔ قاسم سلیمانی 1998 میں IRGC کے سربراہ بنے اور شروع کے کچھ سال صرف اور صرف ایران کے تعلقات بنانے پر صرف کر دیئے۔ اس دور میں ایران کے حزب اللّہ، لبنان، سیریا اور عراق  میں موجود مختلف گروپوں سے رابطے قائم کئے گئے۔

2003 میں عراق پر امریکی جارحیت کے بعد انہوں نے وہاں سرگرم گروپوں کی امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں رہنمائی بھی کی۔قاسم سلیمانی کو اس بات کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے کہ انہوں نے شام کے صدر بشارالاسد کو ان کے خلاف 2011 میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی بھی بنا کر دی۔ایران کی اس مدد اور روسی فضائی مدد نے ہی بشارالاسد کو باغی فوج کے خلاف جنگ میں پانسہ پلٹنے میں مدد دی۔ گزشتہ کئی سالوں میں قاسم سلیمانی منظر عام پر آئے اور انہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ اور دیگر سربراہان کے ہمراہ دیکھا گیا۔ ۔جنرل سلیمانی کی شخصیت کے بارے میں اس وقت زیادہ چرچہ ہونا شروع ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران سے باہر پراکسی وارز یا درپردہ جنگی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔ بطور ایرانی اسلامی ریوولوشنری گارڈ کورپس(IRGC) کے سربراہ اور عراق میں ہونے والی جنگ میں قاسم سلیمانی کا کردار رہا اور عراق میں ہی ان پر سال رواں کے پہلے روز ایک ڈرون حملہ ہوا جو ان کے لیئے جان لیوا ثابت ہوا۔

کیا ایرانی وزیر خارجہ کی یہ ساونڈ ٹیپ ایران میں اقتدار کی رسہ کشی کا پہلا نمونہ ہے؟

ایسا بالکل نہیں ہے۔ ایران میں یہ کشمکش کوئی نئی نہیں ہے۔ ہاشمی رفسنجانی، احمدی نژاد اور اب حسن روحانی، صرف ان صدور کی ہی حکومتوں میں یہ کشمکش واضح ہے۔ آج سے تقریباً 12 سال قبل اس معاملے پر بی بی سی اردو کی یہ سطور صورتحال کی مکمل غمازی کرتی ہیں۔ ‘تیس سال پہلے کے اسلامی انقلاب سے لے کر اب تک ایران میں فرقہ بندیوں، بحرانوں اور لڑائی جھگڑوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔لیکن اب مختلف دور ہے۔ اس مرتبہ جھگڑے سب کے سامنے ہو رہے ہیں اور مفادات اس سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ایران ایک دوراہے پر ہے’۔

 

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *