Type to search

تجزیہ

قاضی فائز عیسیٰ کیس اعلیٰ عدلیہ کو تقسیم کر گیا

  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares

پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ متعدد مواقع پر منقسم ہوئی ہے۔ ماضی میں ہم نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے دوران بھی ججز میں تقسیم دیکھی۔ 1997 میں تو کئی ججز نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چیف جسٹس کو ہی فارغ کر دیا تھا۔ پھر افتخار چودھری کے کیس میں بھی ججز میں تقسیم موجود تھی۔

تاہم، افتخار محمد چودھری کیس میں ان کی فتح کے بعد چیف جسٹس کا عہدہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مقبول ہو گیا۔ اس مقبولیت کا خود افتخار چودھری اور بعد ازاں چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی بڑی حد تک غیر ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا۔ یقیناً سپریم کورٹ میں ایسے ججز موجود تھے جنہوں نے آئین و قانون کی روشنی میں فیصلوں کو بھرے بازاروں میں سرکس لگانے پر ترجیح دی۔ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تو ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر یہ تک کہہ دیا کہ معزز سابق چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ان کی زندگی کے صرف دو ہی مقاصد رہ گئے ہیں، ایک ڈیم بنانا اور دوسرا ملک کا قرض اتارنا۔ میں بھی ڈیم بنانا چاہتا ہوں لیکن یہ ڈیم عدالتی کارروائی اور انصاف کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر کے خلاف ہوگا، ایک ڈیم جو ناجائز قانونی درخواستوں کے خلاف ہوگا۔ اور میں قرض بھی اتارنا چاہتا ہوں، ان زیر التوا کیسز کا قرض جو سپریم کورٹ میں ہمارے سامنے منہ پھاڑے کھڑا ہے۔

ثاقب نثار کے دور میں نواز شریف کا پانامہ کیس بھی سامنے آیا، 2018 کا الیکشن بھی ہوا۔ ثاقب نثار کبھی اسپتالوں کے دورے کرتے، کبھی سندھ کی عدالت میں کسی جج کے ساتھ بے جا سختی سے پیش آتے، کبھی پاگل خانوں کے دورے کرتے تو کبھی اپوزیشن کے سیاستدانوں کے اسپتالوں کے افتتاح کرتے نظر آتے۔ الیکشن کی گہما گہمی میں چیف جسٹس کی حکومتی پرفارمنس پر ایسی تنقید نے بہت سے لوگوں کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ چیف جسٹس اپوزیشن کی الیکشن کمپین چلا رہے ہیں، وکلا نے بھی تنقید کی، صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے بھی، مگر ججز میں سے کسی نے ان کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ ایک نذار و نحیف سی آواز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پانامہ کیس سے ملتے جلتے دیگر کیسز میں اٹھائی بھی تو انہیں اہم کیسز کے بنچوں سے دور رکھا جانے لگا، ایک بنچ میں تو وہ ثاقب نثار کے ساتھ موجود تھے لیکن ان کے کسی معاملے پر اختلاف کرنے پر اس بنچ کو توڑ کر دوبارہ بنچ بنایا گیا جس میں قاضی فائز عیسیٰ کو نہ رکھا گیا۔

یوں کہا جائے کہ سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی جانب سے کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی، اور جو تھوڑی بہت آئی، اسے کچل دیا گیا، تو بے جا نہ ہوگا۔ تاہم، قاضی فائز عیسیٰ کے کیس میں سپریم کورٹ کے ججز میں اختلافات کھل کر سامنے آئے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ سامنے کوئی مجبور و بے کس سیاستدان نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا ہی ایک جج کھڑا تھا۔ ججز جانتے تھے کہ یہ بنیادی طور پر ایک آزاد منش جج پر نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔ کچھ ججز نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا لیکن لگتا یہی ہے کہ زیادہ تر ججز یہ جان چکے تھے۔ تاہم، جس انداز میں اس کیس کے دوران ججز کے آپسی اختلافات سامنے آئے یہ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں غیر متصور تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نہ صرف ججز کو بارہا یاد کروایا کہ وہ یہ کیس عدلیہ کی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں بلکہ اپنی نظر ثانی کی درخواست سے متصلہ کارروائی کو براہ راست ٹی وی پر نشر کرنے کی درخواست کے دوران اسٹیبلشمنٹ اور سابقہ فوجی ادوار پر بھی کڑی تنقید کی۔ جب فیصلہ سات کے مقابلے میں تین کی جگہ چھ کے مقابلے میں چار کا آیا، تو قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے کہا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کن ججز نے ان سے اتفاق اور کون سے ججز نے اختلاف کیا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے انہیں بتانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ آگے دلائل دیں۔ قاضی فائز عیسیٰ نے احتجاج کیا کہ انہوں نے فیصلہ حق میں آنے اور مخالفت میں آنے دونوں صورتوں کے لئے دلائل تیار کر رکھے ہیں لیکن انہیں بتایا نہیں جا رہا کہ کون سے ججز نے کیا فیصلہ دیا ہے تو عمر عطا بندیال نے ان کی سرزنش کی کہ آپ ہم سے ایسے بات نہیں کر سکتے۔ لگاتار دو دن تک جسٹس عمر عطا بندیال غصے میں عدالتی کارروائی کو وقت سے پہلے بغیر کسی حتمی بات تک پہنچے برخاست کرتے رہے۔

قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ بیگم سرینا عیسیٰ نے دلائل دیے تو جسٹس منیب اختر ان پر چلانے لگے۔ اس موقع پر پہلی مرتبہ بنچ پر موجود ججز آپس میں بھی الجھے۔ جسٹس مقبول باقر اور جسٹس منصور علی شاہ نے سرینا عیسیٰ کو آگے بڑھنے کو کہا تو منیب اختر نے ان کو بالواسطہ تند و تیز جوابات دیے۔ وہ سرینا عیسیٰ پر چلائے تو وہ رونے لگیں۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے بالآخر جسٹس منیب اختر کی بات کو رد کرتے ہوئے دلائل کو آگے بڑھانے کو کہا۔ مقبول باقر نے انہیں بیٹھ جانے کو کہا۔ منیب اختر نے ان سے معافی مانگ لی لیکن معاملات یہاں ختم نہیں ہوئے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دلائل کے درمیان تو منیب اختر کے دوبارہ جسٹس مقبول باقر کے ریمارکس پر بالواسطہ جواب دینے پر معاملہ زیادہ ہی بگڑ گیا۔ مقبول باقر نے کہا یہ کیا طریقہ ہے اپنے سے سینیئر سے بات کرنے کا؟ جسٹس سجاد علی شاہ مقبول باقر کے جواب میں بولے کہ اگر انہیں زیادہ جلدی ہے تو یہ بنچ سے اٹھ جائیں۔ مقبول باقر واقعتاً بنچ سے اٹھ گئے تو جسٹس عمر عطا بندیال بالآخر دس منٹ بعد سب ججز کو منا کر واپس لائے۔

فیصلہ بہر حال اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں آ چکا ہے۔ لیکن اس سارے معاملے میں ججز کے آپسی اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ نیا دور اردو سے بات کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن کے جواں سال صدر صلاح الدین احمد کا کہنا تھا کہ ججوں کے درمیان ایک بنیادی اعتماد ہوتا ہے کہ ان کا ساتھی جج اگر ان سے مختلف رائے بھی رکھتا ہو تو وہ مخلص ضرور ہوتا ہے اور آئینی معاملے پر ہی اپنی مخلصانہ رائے دے رہا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس کیس میں ایسا لگا جیسے ججز کے درمیان سے یہ اعتماد اٹھ چکا ہے۔ وہ ایک دوسرے کو مختلف کیمپوں میں بٹا دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک تو یہ کیس ویسے ہی بہت لمبا ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اختلافات بڑے شدید ہو چکے ہیں۔ دوسرے قاضی فائز عیسیٰ کے کیس میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار نے معاملے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ ایک طرف تو یہ بات طے ہے کہ یہ ریفرنس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیض آباد دھرنا کیس کے بعد بنایا گیا۔ صلاح الدین کا کہنا تھا کہ خود حکومت کے حامی بھی نجی محفلوں میں اقرار کرتے ہیں کہ یہ کیس قانونی سے زیادہ سیاسی ہے، اور یہ کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف چیف جسٹس پاکستان نہیں ہونا چاہیے وغیرہ۔ تو یہ سوچ بھی ججز کے دماغوں میں ہے کہ جو جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جا رہے ہیں، ان کے بارے میں یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ ان کے دلائل اسٹیبلشمنٹ کے حق میں جا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کے نائب صدر عابد ساقی بھی کہتے ہیں کہ یہ معاملہ قانونی اختلاف سے بڑھ چکا ہے اور لگتا ایسا رہا ہے گویا کچھ جج اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہوں اور کچھ اس کے خلاف۔ صلاح الدین احمد نے بھی کہا کہ جب اس قسم کے بیانات میڈیا کی زینت بنیں گے تو ظاہر ہے یہ باتیں تو ہوں گی۔

اصل سوال لیکن یہ ہے کہ ججز کی آپسی چپقلش کا فائدہ کس کو ہوگا؟ تاریخ یہی ثابت کرتی ہے کہ جب بھی عدلیہ میں تقسیم سامنے آئی، اس کا فائدہ مقتدرہ نے اٹھایا۔ مستقبل میں بھی اس کا فائدہ انہی کو ہوگا۔ اور اس کا نقصان بہرحال ریاست کو ہی ہوگا کہ جب عوام کا نظامِ انصاف پر ایمان بالکل ہی ختم ہو جائے گا۔ ہماری مقتدرہ کو سوچنا ہوگا کہ اگر عوام کا نظامِ انصاف پر سے اعتماد ختم ہو گیا تو کیا پھر پورے ملک میں 2009 میں سوات کی طرح آپریشن کیا جائے گا؟ کہ جہاں مصلح جتھے ریاستی نظام کو تلپٹ کر کے انصاف قائم کرنے کے نام پر ریاست کے اندر ایک مزید انتہا پسند ریاست قائم کر بیٹھے تھے؟

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *