Type to search

خبریں

بحریہ ٹاؤن کراچی کا دیہی آبادیوں کو مسمار کر کے مقامی زمینوں پر قبضہ، میڈیا اور سیاسی جماعتیں خاموش

  • 291
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    291
    Shares

 گزشتہ چند روز سے بحریہ ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ نے سندھ پولیس کے ہمراہ کراچی کے نواحی علاقوں عبداللہ گوٹھ، داد کریم، نور محمد گبول گوٹھ سمیت دیگر دیہاتوں کی اراضی پر قبضہ حاصل کرنے کیلئے بھاری مشینری کے ذریعے مسمارگی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ یہ گوٹھوں کے علاقے ہیں اور نسلوں سے وہ لوگ یہاں پر آباد ہیں جبکہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر ان کی زمینوں پر قبضہ کر رہی ہے۔

بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے سندھ پولیس کے ہمراہ جاری اس آپریشن کے خلاف مقامی دیہاتی آبادیاں احتجاج کر رہی ہیں اور احتجاج کرنے والے متعدد شہریوں کو گرفتار کئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم گزشتہ چند روز سے جاری اس آپریشن سے متعلق قومی میڈیا، اخبارات میں کوئی کوریج نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے اس معاملہ پر کسی قسم کا کوئی رد عمل سامنے آیا ہے۔

کراچی کے نواحی دیہاتوں پر کئے جانے والے اس آپریشن پرسوشل میڈیا بالخصوص ٹویٹر پر بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور قائدین کی طرف سے مذمت کی جا رہی ہے اور دیہاتیوں سے زمینیں چھیننے جانے کا سلسلہ ترک کئے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ادھر مقامی دیہاتی بھی آپریشن کے خلاف ہونیوالی مزاحمت کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے شیئر کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں زمینوں سے محروم کرنے سے بچایا جائے اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ اور سندھ پولیس کے مظالم سے انہیں نجات دلائی جائے۔

سابق فاٹا سے ممبر قومی اسمبلی و رہنما پی ٹی ایم محسن داوڑ نے کہا ہے کہ ملک ریاض کے بارے میں سب خاموش ہیں، بحریہ ٹاؤن کی جانب سے سندھ کے دیہاتوں پر جاری حملے کو میڈیا سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتیں نظر انداز کر رہی ہیں۔

انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ”ملک ریاض کے بارے میں سب خاموش کیوں ہیں؟ قومی اسمبلی میں بھی میں نے ان (ملک ریاض) کے 190 ملین ڈالر جرمانے کی ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں بات کرنے کی کئی بار کوشش کی لیکن مجھے بولنے کی کبھی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی طرح بحریہ ٹاؤن کی جانب سے سندھ کے دیہاتوں پرجاری حملے کو میڈیا، بڑی سیاسی جماعتیں وغیرہ سب نظر انداز کر رہے ہیں۔“

معروف محقق اور حقوق خلق موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر عمار علی جان نے لکھا کہ بحریہ ٹاون کراچی کے مناظر دیکھے نہیں جاتے۔ ملک ریاض کے حکم پر گاؤں کے ان باسیوں کے وہ گھر مسمار کئے جا رہے ہیں جہاں وہ صدیوں سے رہ رہے تھے۔ جس طرح لوگوں کے گھر بلڈوزروں سے گرائے جا رہے ہیں، یہ سب دیکھ کر اسرائیل اور فلسطین ذہن میں آتے ہیں جہاں اسرائیلی بلڈوزر فلسطینیوں کے گھر ایسے ہی مسمار کرتے ہیں۔ یہ سانحہ ماہ رمضان میں سامنے آ رہا ہے۔ وائے افسوس! سندھ میں پی پی پی کی حکومت اس سارے ظلم میں ملک ریاض کی معاونت کر رہی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں، میڈیا اور ’مقدس ادارے‘ خاموش ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ملک ریاض اس ملک میں جمہوریت کے لولا لنگڑا ہونے کی علامت ہیں۔ ملک ریاض سٹے باز سرمایہ داری کی علامت ہیں۔ انہوں نے امیر لوگوں کے لئے ہاؤسنگ کو ایک با منافع کاروبار بنا دیا ہے مگر اس کاروبار کے نتیجے میں غریب بے گھر ہو گئے ہیں۔ فوج ہو یا عدلیہ، حزب اختلاف ہو یا میڈیا، ملک ریاض کے ناجائز قبضوں میں سب انکا ہاتھ بٹاتے ہیں۔

نورالھدیٰ شاہ نے لکھا کہ بحریہ ٹاؤن کےذریعےمقامی آبادی کی زمین پرقبضہ کیاجارہاہے بزوربندوق آبادی کو بےدخل کیاجارہاہے لوگ بھاری مشینری کےساتھ پیچھےدھکیلےجارہےہیں،  گرفتارہورہےہیں ایسالگ رہاہےجیسےبیرونی حملہ آور ایک بارپھرسندھ پرٹوٹ پڑےہوں۔ کیاسندھ ہائیکورٹ،لاہور ہائیکورٹ کیطرح کوئی کرداراداکرنےکی جرأت کرےگی؟

صحافی عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس معاملہ پر تبصرہ کیا کہ ”ملک ریاض اسی طرح سے ہر ایک کو ایک پیج پر لے آتے ہیں۔ پیپلزپارٹی سے نفرت پھیلانے کیلئے میڈیا کراچی میں بلاک ہونے والے گٹر کی بھی بریکنگ نیوز بناتا ہے لیکن وہ ملک ریاض کو نظر انداز کر رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت اتنی خاموش ہے جیسے اگر یہ سب کچھ خیبر پختونخوا میں ہوتا تو (پی ٹی آئی) خاموش ہوتی۔ پیپلزپارٹی کی قیادت سندھ کی اراضی پر اس قبضے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔“

نیا دور میڈیا نے مقامی آبادی کے رہائشی حفیظ بلوچ سے جب سوال کیا کہ بحریہ ٹاون کا دعویٰ ہے کہ یہ جگہ انکی ملکیت ہے تاہم  بحریہ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ مقامی لوگ یہاں غیر قانونی طور پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں جبکہ یہ سرکاری زمین ہے جو سرکار نے خود بحریہ ٹاؤن کو دی ہے۔ اس سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ یہ قبائل پاکستان بننے سے قبل یہاں آباد ہیں اور یہ زمینیں انکے دادا پڑدادا کی ہیں۔ ‘کولاچی مائی’ جس کے نام سے ‘کراچی’ شہر منسوب ہے اس علاقے میں مقیم تھیں اور یہاں مقیم سارے قبائل کراچی کے سب سے قدیم رہائشی تصور کیئے جاتے ہیں۔  تقسیم ہند کے موقع پر جو لوگ یہ علاقہ چھوڑ کر گئے صرف وہ علاقہ حکومت نے قبضے میں لیا جو بعد ازاں بحریہ انتظامیہ کو بیچا مگر باقی گاؤں اور گوٹھ یہاں موجود قبائلی لوگوں کی ملکیت ہے جو پچھلے سو سال سے زائد عرصے سے اس علاقے میں آباد ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں اس لئے انہیں زمینی قواعد و ضوابط کا علم نہیں ورنہ وہ تو خاموشی سے اپنی زمینیوں پر کھیتی باڑی اور محنت مشقت کر رہے تھے انہیں معلوم نہیں تھا کہ اتنا بڑا قبضہ مافیہ انکی زمین ہتھیانے پہنچ جائے گا۔

 اس سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ قبضہ مافیہ ہم لوگ نہیں جو یہاں سالوں سے مقیم ہیں، یہ زمین ہماری ماں ہے جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے زرخیز اور رہنے کے قابل بنایا ہے۔ حقیقت میں قبضہ مافیہ وہ ہیں جو ہمارے آبا ؤ اجداد کی زمین ہتھیانے یہاں پہنچ گئے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کی گئی زمین کا کل رقبہ 16000 ایکڑ ہے جسکا کوئی نقشہ جاری نہیں کیا گیا جبکہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے اسکی توسیع کرتے ہوئے 25000 ایکڑ پر اپنا قبضہ جما لیا ہے ۔مقامی لوگوں کی زمین کو بھی سرکاری زمین قرار دیا جارہا ہے جس کے خلاف ہم نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں درخواستیں جمع کروا رکھی ہیں اور سٹے آرڈرز بھی لے رکھے ہیں۔

نیا دور میڈیا نے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کا موقف لینے کے لئے ان کی ویب سائٹس پر دئیے نمبرز پر رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *