Type to search

خبریں

’اسلام آباد صحافیوں کے لئے محفوظ شہر نہیں ہے‘

  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

ملک میں میڈیا پر نظر رکھنے والے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک نے مئی 2020 سے اپریل 2021 تک پاکستان میں میڈیا کی صورتحال اور صحافیوں کی حالت زار پر سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال ملک میں صحافیوں پر حملوں میں چالیس فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستانی میڈیا کے لئے گزشتہ سال کی نسبت موجودہ سال زیادہ مشکل رہا جہاں میڈیا اور صحافیوں کو ہراساں کئے جا نے کے واقعات میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مئی 2020 سے اپریل 2021 تک ایک سال میں میڈیا اور صحافیوں پر حملوں اور آزادی اظہار کی خلاف ورزیوں کے کم از کم 148 کیسز ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ہونے والے حملوں سے  چالیس  فیصد زیادہ ہے کیونکہ گزشتہ سال حملوں کے  91کیسز رپورٹ ہوئے  تھے۔

ادارے نے اپنے رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں صحافیوں پر ہر تین دن بعد ایک حملہ ہوا اور تقریباً ہر مہینے صحافیوں پر بارہ حملے کئے گئے۔ گزشتہ ایک سال میں 6 صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دیتے ہوئے قتل کیا گیا، جبکہ  سات صحافیوں پر قاتلانہ حملے کئے گئے۔ ادارے نے کہا ہے کہ پچیس صحافیوں کو گرفتار کیا گیا، پانچ کو اغوا کیا گیا، پندرہ صحافیوں کو زدکوب کیا گیا جبکہ 27 صحافیوں کے خلاف کیسز درج کئے گئے۔

فریڈم نیٹ ورک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان حملوں سے آزادی صحافت اور اظہار رائے کی آزادی پر مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔

فریڈم نیٹ ورک نے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں صحافیوں کے لئے بڑھتے خطرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بلوچستان اور قبائلی علاقے اور افغانستان بارڈر سے متصل علاقے صحافیوں کے لئے محفوظ تصور نہیں کئے جاتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے جبکہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد صحافیوں کے لئے سب سے زیادہ خطرناک شہر بنتا جارہا ہے۔ ادارے نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف کل 148 واقعات میں 51 واقعات  (34٪) واقعات اسلام آباد میں ہوئے جس سے ظاہر ہورہا ہے کہ اسلام آباد اب صحافیوں کے لئے محفوظ شہر نہیں۔

جیو نیوز سے منسلک سینئر صحافی اعزاز سید فریڈم نیٹ ورک کے اس رپورٹ سے اتفاق کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پاکستان صحافت اور صحافیوں کے لئے خطرناک شہر بنتا جارہا ہے اور اب اسلام آباد صحافیوں کے لئے ایک محفوظ شہر نہیں رہا۔

انھوں نے مزید کہا کہ دن دیہاڑے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں صحافی مطیع اللہ جان کو اُٹھایا گیا اور اس کے بعد ابصار عالم پر حملہ بھی وفاقی دارلحکومت کے ایک پارک میں ہوا لہذاٰ اس میں کوئی دوسری بات نہیں کہ شہر اقتدار صحافیوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے۔

صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر بات کرتے ہوئے اعزاز سید نے کہا کہ پہلے دفاع اور سیکیورٹی سے منسلک خبریں  حساس اور صحافیوں کے لئے خطرے کی صورت بنتی تھیں مگر اب ایسا نہیں ہے اور بہت کچھ بدل چکا ہے ۔ خارجہ امور، معیشت  حتی ٰ کہ صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے بات کرنا حدود سے نکلنا تصور کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں پر حملوں اور خطرات پر بات کرتے ہوئے  اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ان کو خاموش کرانے کے لئے کئی طرح سے اپروچ کیا گیا۔  ان کو پیار سے سمجھایا گیا مگر جب وہ خاموش نہیں ہوئے تو ان کے والدین کو رات کی تاریکی میں ہراساں کیا گیا اور ان کے والد کو نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اس  کیس کو رپورٹ کیوں نہیں کیا تو انھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکمران جماعت کے کارندے اور ٹرولز پھر سوشل میڈیا پر صحافیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور کی تضحیک کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر کسی صحافی کو ریاستی ادارے یا کوئی اور گولیاں مارتا ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ کسی سے کہے کہ وہ اس کی ایک تصویر نکالے تاکہ وہ سوشل میڈیا پر لگا کر ثابت کر سکے کہ اسے گولی لگی ہے۔

فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر اقباک خٹک  نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا  کہ ریاست اور حکومت نے صحافت ، اظہار رائے اور صحافیوں کو تحفظ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ اس میں ناکام رہے ۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف 27 ریکارڈ کیسز کا اندراج صحافیوں کے خلاف بڑے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے ۔قانون صحافیوں کے تحفظ کے لئے ہو نا چاہئے۔

فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے جاری کی گئی یہ رپورٹ آزادی صحافت کے علمبردار آئی اے رحمان سے منسوب کی گئی ہے ۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اظہار رائے پر قدعنیں لگانے کے لئے ریاست اور ان کے ادارے صحافیوں کو دھمکیاں دے رہے  ہیں اور ان کو خاموش کرانے کے لئے دباؤ ڈالنے حتیٰ کہ اغوا کاری سے بھی باز نہیں آتے۔

پشاور میں  مقیم صحافی لحاظ علی نے پشاور میں میڈیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا  کہ وہ  اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اسلام آباد صحافیوں کے لئے ایک خطرناک شہر ہے اور مبینہ طور پر کچھ ریاستی ادارے صحافیوں کے لئے خطرہ ہیں۔ مگر لحاظ علی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ صرف اسلام آباد ہی صحافیوں کے لئے خطرناک شہر ہے بلکہ ان کے مطابق اسلام آباد کی بجائے پشاور میں صحافیوں نے خود پر سنسرشپ لاگو کی ہے ۔ پشاور میں صحافی پشتون تحفظ مومنٹ، اے پی ایس شہدا  پر بات نہیں کرسکتے کیونکہ بیورو دفاتر کو اسلام آباد اور کراچی سے بتایا جاتا ہے کہ صحافیوں نے کونسی چیز رپورٹ کرنی ہے اور کونسی نہیں۔ لحاظ علی نے مزید کہا  کہ صحافیوں کو وقت  کے ساتھ ساتھ دھمکیاں دی جاتی ہے، وہ رپورٹ کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ اگر خطرہ ریاست سے ہے تو پھر وہ پولیس کو رپورٹ کرنے سے کتراتے ہیں ۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ ملک میں گزشتہ ایک سال میں جو حملے کئے گئے ان میں زیادہ حملے ٹی وی اور ان سے منسلک لوگوں پر کئے گئے جبکہ پرنٹ میڈیا ان حملوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔  رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آن لائن میڈیا سے وابستہ صحافیوں پر بھی حملے کئے گئے جبکہ ریڈیو سے وابستہ کسی صحافی پر گزشتہ ایک سال میں حملہ نہیں ہوا۔

ادارے نے ملک صحافیوں پر جاری حملوں پر بات کرتے ہوئے کہا  کہ ریاست اور ان کے ادارے ملک میں صحافت کے لئے ایک بڑا خطرہ بنتا جارہا ہے اور صحافیوں پر حملوں کے بعد ان کے خاندانوں اور رشتہ داروں نے ریاست پر الزام لگایا ۔

بلوچستان میں بین القوامی میڈیا سے منسلک  ایک صحافی نے نیا دور میڈیا کو بتایا کہ میں اس بات سے اتفاق  نہیں کرتا کہ اسلام آباد صحافیوں کے لئے غیر محفوظ شہر ہے۔ وہ کہتے ہیں بلوچستان کے صحافیوں کو اس وقت خطرہ کسی بلوچ علیحدگی پسند، مافیا اور منشیات فروشوں سے نہیں بلکہ ریاست اور ان کے اداروں سے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر کے گرد باڑ لگانے کا مسئلہ سامنے آیا تو کچھ صحافیوں پر گھیرا تنگ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آپ چائنا پاکستان اکناملک کوریڈور پر بات نہیں کرسکتے اس کے علاوہ درجنوں دیگر بہت سارے مسائل ہیں جن پر بات نہیں ہوسکتی۔

انھوں نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیاں پہلے ایک مسئلہ تھا جن پر بات کرنا منع تھا مگر اب بات بہت اگے چلی گئی ہے اور اپ یہ سوال بھی نہیں کرسکتے کہ گوادر کے بعد مقامی بلوچوں کا مستقبل کیا ہوگا اس پر بھی غداری کے مقدمات درج ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی اس لئے پولیس کے پاس رپورٹ درج نہیں کرواتے کیونکہ پولیس ان اداروں کے خلاف کاروائی نہیں کرسکتی جبکہ صحافی سمجھتے ہیں کہ ان کیسز کو رپورٹ کروانے سے ان کے مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھینگے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *