Type to search

تجزیہ فیچر

کرامت علی کی کتاب ‘راہ گزر تو دیکھو’ کا انتساب، محنت کشوں کے نام!

  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares

راہ گزر تو دیکھو

انتساب

محنت کشوں کے نام،

حقوق بشرکی جدوجہد میں جن کی قربانیاں تاریخ کا سرمایہ افتخار بنیں-

 

کتاب کے مندرجہ ذیل دس باب ہیں-ذاتی زندگی، تعلیمی سفر اور شخصیت سازی، سیاسی سرگرمیوں کا آغاز اور بائیں بازو کی سیاست، مشرقی پاکستان کے بحران سے بنگلہ دیش کی آزادی تک،میشل عوامی پارٹی سے عوامی نیشنل پارٹی تک،پاکستان میں محنت کشوں کی جدوجہد، پائلر کا قیام ، وژن اور کارکردگی، پائلر اور جنوبی ایشیا، میں قیام امن کی کوششیں، وہ جو رفیق سفر تھے، وہ جو مشعل راہ بنے، عالم تمام حلقہ دام خیال ہے، گلوبلائزیسن اور عالمی مزدور تحریک، حرف آخر—

 

کرامت علی صاحب پاکستان اور پاکستان کے باہر کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ جو بھی تاریخ، سیاست، امن اور مزدوروں کی جدو جہد میں تھوڑی بہت بھی دلچسپی رکھتا ہے وہ کرامت علی کے نام اور کام سے واقف ہے۔ کرامت علی نے اپنی زندگی میں مزدروطبقہ کی تعلیم کے لئے جو ادارہ پائلر کے نام سے قائم کیا ہے اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور کام نہ کرتے تو یہی ان کا نام زندہ رکھنے کے لئے کافی تھا مگر کرامت علی کی شخصیت ایسی ہے کہ انہوں نے بہت چھوٹی عمر میں طبقاتی شعور حاصل کر لیا اور پھر ساری زندگی اسی کے لئے وقف کردی۔۔

ڈاکڑ سید جعفر احمد کے ساتھ مختلف موقعوں پر ا نڑویوز جن کو بعد میں، گو کئی سالوں کی تاخیر کے ساتھ ڈاکڑ جعفر نے ‘کرامت علی— راہ گزر تو دیکھو’ امن ، سماجی انصاف اور جمہویت کے لئے محنت کشوں کی لازوال جدوجہد: تجربات و مشاہدات – کے نام سے ایک کتاب انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ نے چھاپی ہے۔اس میں کرامت علی نے بتایا ہے کہ اس کے والدین تقسیم کے وقت ہجرت کرکے مشرقی پنجاب سے پہلے لاہور اور پھرملتان میں رہنے لگے – وہ فرقہ واررانہ ہم آہنگی کا دور تھا ان کے والد شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے جبکہ والدہ سنی مسلک سے-ان کی پرورش شیعہ ماحول میں ہوئی اور وہ محرم کے دنوں میں ماتم کے جلوس میں حصہ لیتے تھے اور بلیڈ اور چھریوں سے زنجیر زنی کیا کرتے تھے مگر انہوں نے دیکھا اور محسوس کیا کہ گردیزی زمیندار رسمًا ماتم کرتے تھے۔اس سے ان کے دل میں طبقاتی شعور پیدا ہوا اور انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ وہ آج کے بعد محرم کے جلوسوں میں حصہ نہیں لیں گے جہاں جاگیردار صرف رسماً عزا داری میں حصہ لیتے ہیں جبکہ عام آدمی اپنا خون بہاتا ہے۔ان کے والد نے اپنے بیٹے کی بات کو سمجھا اور دوبارہ اسے کبھی عزاداری میں شامل ہونے کے لئے نہیں کہا-

والد فارسٹ میں گارڈ تھے ریٹائرمنٹ کے بعد کئی دفعہ گھر میں فاقوں کی نوبت بھی آجاتی تھی مگر کسی کے چہرے پر فکر کے آثار نظر نہیں آتےتھے۔ بعد ازاں ان کے والد ملتان کالونی ٹیسکٹائل ملز میں ملازم ہوگئے۔ کرامت کیوںکہ اچھے طالب علم تھے اس لئے والد نے کالونی ملز سے اسے وظیفہ لے دیا-

کراچی سے کرامت کا تعلق بہت چھوٹی عمر میں ہو گیا تھا جہاں اس کی بڑی بہن رہتی تھی اور انہیں بچپن میں ان کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیج دیا گیا۔مگر کرامت نے میڑک ملتان واپس آکر کیا اور ملتان میں ہی کالج میں داخلہ لے لیا-طلبا سیاست سے دلچسپی کے بارے میں کرامت بتاتے ہیں کہ ایک دن انہوں نے دیکھا کہ ایوب خان کے خلاف کراچی میں طلبا تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں جن طلبا کو نکالا گیا تھا، صوبہ بدر کیا گیا تھا وہ کالج کے باہر کھڑے ہیں۔ان طلبا کو سندھ اور پنجاب کے کسے شہر میں بھی پناہ نہیں ملتی تھی اور ہر جگہ سے شہر بدری کا پروانہ مل جاتا تھا- وہ طلبا کے ساتھ مل کرایک جلوس کی شکل میں کمشنر کے دفتر گئے اور مطالبہ کیا کہ یہ لوگ ملتان سے کہیں نہیں جائیں گے- کمشنر کو ان کی یہ بات ماننی پڑی سو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ طلبا تحریک کی پہلی کامیابی تھی-

چونکہ کرامت کا داخلہ لیکچر کم ہونے کی وجہ سے نہ بھیجا گیا تھا لہذاایک دفعہ پھرروزگار اور تعلیم کے لئے کرامت کو کراچی جانا پڑا جہاں کرامت نے مزدوری بھی کی اور تعلیم کے ساتھ ساتھ بہت چھوٹی عمر میں مزدور جدوجہد میں بھر پور حصہ لینا شروع کر دیا-پاکستان میں شائد ہی کوئی دوسرا شخص ہو جس کو بیک وقت ترقی پسند طبقاتی جدوجہد اور تعلیم کا موقع ملا ہو۔

وہ معراج خان کے کہنے پراس وقت کی ترقی پسند طلبا تنظیم این ایس ایف کے ممبر بن گئےمگر انہوں آنکھیں بند کرکے کسی کی بات نہیں مانی۔ ان کا کہنا ہے کہ این ایس ایف میں فیصلے اوپر سے آتے تھے-

وہ ایک واقعہ بتاتے ہیں کہ این ایس ایف کی ایک تقریب میں بھٹو صاحب کو بلایا گیا جہاں پر معراج مجمد خان نے مولانا مودوی اور ان کی جماعت پر تنقید کی تو بھٹو صاحب نے کہا کہ وہ معراج کی بات سے اتفاق نہیں کرتے اور میں مودودی صاحب کی بہت عزت کرتا ہوں-ان کی بڑی خدمات ہیں وغیرہ وغیرہ- یہاں سے ان لوگوں کے بھٹو صاحب سے اختلافات شروع ہو گئے۔۔ اسی طرح جب این ایس ایف کا پیپلز پارٹی میں شمولیت کا معاملہ آیا تو انہوں نے اس میں شمولیت کی سختی سے مخالفت کی-

معراج محمد خان جنہوں نے پرچی نہیِں برچھی کا نعرہ لگایا تھا- دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی انقلابی پھر بھٹو کی حکومت میں شامل ہو گئے- ان کا گروپ مولانا بھاشانی کی نیپ کے قریب تھا- ان کے خیال میں پاکستان میں ماوئسٹوں نے1970 کے الیکشن میں حصہ نہ لے کر بہت بڑی غلطی کی اگر چالیس پچاس ترقی پسند سوچ رکھنے والے اسمبلی میں ہوتے تو بھٹو من مانی نہیں کر سکتا تھا-

وہ بتاتے ہیں کہ شروع میں وہ ماؤسٹ تھے مگر پھر وہ ٹرا سکائٹ بن گئے-انہوں نے بتایا کہ زمانہ طالب علمی میں ہی انہوں نے اپنی ہم جماعت اصغری جیلانی سے شادی کر لی تھی، جو ایک غیر معمولی خاتون تھی-بعد میں وہ شیما کرمانی اور اس کے بعد ایک ہندو لڑکی سے بھی اپنے شادی کا سرسری ذکر کرتے ہیں-

ان کے خیال میں روس نواز اور چین نواز کی تقسیم سے ترقی پسند کاڈر تقسیم ہو گیا-جس سے پاکستان میں ترقی پسند تحریک کو بہت نقصان پہنچا- ان کے مطابق 1977 کی پی این اے کی تحریک میں امریکنوں نے بہت پیسہ لگایا-مل ماکان مزدوروں کو بھٹو صاحب مخالف جلوسوں میں شامل ہونے کے لئے خود چھٹی دیتے تھے-

مجیب جب آخری دفعہ متحدہ پاکستان آیا تو کراچی میں ان لوگوں کی مجیب الرحمان سے ملاقاتیں ہوِئیں، مجیب نے اس الزام کی سختی سے تردید کی کہ وہ پاکستان توڑنا چاہتے ہیں۔7 مارچ کی مجیب کی ڈھاکہ میں تقریراس بات کی گواہ ہے- مولانا عبد الحمید بھاشانی جب آخری دفعہ پاکستان آئے تو این ایس ایف کے کارکن ان سے کراچی میں ملے تو مولانا نے کھل کر کہا کہ اب یہ ملک نہیں چل سکتا-خدا حافظ۔-

وہ بہت دفعہ جیل گئے ایسی ہی ایک جیل یاترا کے دوران ان کی ملاقات بلوچوں کے ساتھ ہوئی اور ان سے متاثر ہو کر انہوں نے بلوچ جدوجہد کی سپورٹ شروع کر دی- ان کی جیل میں بہت دلچسپ لوگوں سے ملاقات ہوئی جن میں الطاف گوہر اور جنرل یحیی کے وزیر جنرل شیر علی بھی شامل تھے-جس نے بعد میں بھٹو سے معافی مانگ کرر ہائی حاصل کر لی-

ان کا کہنا ہے کہ جیل میں بنگالیوں کے ساتھ بہت برا انسانیت سوزاور ہتک آمیز سلوک کیا جاتا تھا-

کرامت کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کے ساتھی عثمان بلوچ اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ گرفتاری نہیں دیں گے-پولیس نے ان کے گھر چھاپہ مارا اور ان کے والد کو ساتھ تھانے لے گئے۔جب انہیں پتہ چلا تو کرامت نے اس وقت کے سندھ کے لیبر منسٹر کو فون کیا جس نے کہا کہ ’بھئی اوپر سے حکم ہے میں کچھ نہیں کرسکتا‘ اس کے بعد کرامت نے علاقہ کے ایس ایچ او کو فون کیا اور کہا کہ آپ نے ناجائز ان کے والد کو پکڑا ہوا ہے اگر ان کو کچھ ہوگیا تو وہ ذ مہ دار ہوگا۔۔اس کو مزدورون کی طاقت کا اندازہ تھا لہذا ان کے والد کو چند دن بعد چھوڑ دیا گیا-

کرامت مزدوروں میں کل وقتی کام کرتے تھے اور انہیں 120 روپیہ ماہانہ ملتے تھے جب کہ عام مزدور کی تنخواہ 140 روپیہ تھی-

کرامے نے ۱۹۸۸ میں ہالینڈ سے ایم اے کیا-مگر اس سے پہلے انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں ایم اے فلسفہ میں داخلہ لیا-شعبہ کے ہیڈ ڈاکڑ منظور نے کرامت کو بلا کر کہا کہ تم کلاس میں نہ آیا کرو تمہیں گریڈ مل جائیں گے-ایک موقعہ پر اسلامی جمعت طلبا کے لوگ ان کے سر پر پتھر مار کر ہلاک کرنے لگے تھے مگر بر وقت مہناز رحمان اور دوسری لڑکیوں نے شور مچا کر ان کی جان بچائی-

بھٹو نے ولی نیپ پر پابندی لگا کر ان کے لیڈروں کو جیل بھیج دیا اور حیدرآباد میں ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلا دیا- نیپ پر پابندی کے بعد بیگم نسیم ولی بہت متحرک ہو گئیں اور شیر باز مزاری کی قیادت میں این ڈی پی بنا لی-

ان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد جیل میں ہی بزنجو اور ولی خان میں اختلاف پیدا ہوگئے تھے-کرامت کا کہنا ہے کہ بزنجو کا شروع سے ہی یہ موقف تھا کہ نیپ کو بھٹو کی اتنی مخالفت نہیں کرنی چاہئے کہ بھٹو ان کو جیل میں ڈال دے اور رجعت پسندوں کے ساتھ چلا جائے اور پھر فوج اس کا تختہ الٹ دے-

کرامت کا اپنی کتاب میں کہنا ہے کہ بزنجو کا نقطہ نظر ٹھیک ثابت ہوا، حیدرآباد جیل سے نکل کر ولی خان نے فوج کی حماِت کردی- جب بزنجو نی اپنی پارٹی پی این پی بنائی تو کرامت اس کے لیبر ونگ کے سیکریٹری بنا دئے گئے-اس طرح بزنجو صاحب کی وجہ سے ان کا بھی ایم کٹی سے رابطہ ہو گیا جو کہ ان کی آخری سانس تک رہا اور کٹی نے پائلر بنانے اور چلانے میں کرامت کا بھر پور ساتھ دیا-

کرامت حالات سے مایوس ہو کر شیما کرمانی کے ساتھ انگلینڈ چلے گئے-کرامت کا تعلق ماؤسٹوں کے ساتھ تھا مگر وہ ان کے مشرقی پاکستان میں ملڑی ایکشن کی سپورٹ کی وجہ سے نالاں تھے-ان کا لندن میں ٹرائسکائٹ گروپ کے ساتھ رابطہ ہو گیا-طارق علی سے ملاقاتیں بھی رہیں اور انہوں نے ٹراسکی گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔کراچی کے لیبر رہنما عثمان بلوچ نے بھی ان کا ساتھ دیا-لندن گروپ کے کچھ لوگ بلوچستان میں مسلح جدوجہد میں حصہ لینے کے لئے بلوچستان چلے گئے- حیدر آباد میں بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والوں کا ذکر بھی ملتا ہے جن کا ٹراسکی فلسفہ سے تعلق تھا اور لندن میں محمد بھابھا نے ان کو اس طرف لگایا تھا-

اس کتاب میں کرامت علی کا کہنا تھا کہ ان کے دوست اور وکیل بیرسٹر ودود حیدرآباد کیس میں وکیل تھے اس لئے ان کو اندر کی خبریں اور حالات کا پتہ چلتا رہتا تھا- جن لوگوں نے کرامت کی پائلر کے قیام میں مدد کی ان میں بیرسٹر ودود بھی شامل تھے- ودود نے ہی پائلر کا پہلا مسودہ کا ڈرافٹ بنایا- اس سلسلہ میں انیتا غلام علی جو ان کے کالج کی استاد بھی تھیں، عارف حسن، ڈاکڑ ذکی حسن اور رئیس امروہی اور حمیدہ کھوڑو کی حمائیت کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ اصغرخان ، انعام درانی، غازی صلاح الدین، پروفیسر کرار حسین صاحب نے ان کا بھر پور ساتھ دیا-

کرامت کہتے ہیں کہ انہیں بھی جنرل مشرف کی حکومت میں شامل ہونے کے دعوت ملی مگر انہوں نے قبول نہیں کی-

کرامت نے جن لوگوں نے پائلر بنانے اور چلانے میں مدد کی ان کا بھی تفصیل سے ذکر کرتے ہیں اور چند لوگون کے بارے میں ان کے تبصرے بہت دلچسپ ہیں-

1977 میں یونین کی ممبر شپ دس لاکھ تھی جو 1987 میں 30/35 فی صد کم ہو گئی۔

ان کے خیال میں 1973 کے آئین نے پاکستان کو سیکولرازم سے دور کردیا-پی این پی نے پہلی دفعہ سرائیکی اور ایم آر ڈی میں صوبائی خود مختاری کی بات کی-‘کراچی میں پٹھان، مزدور جدوجہد کو کمزور کرنے کا ایک ذریعہ بنے- ‘

پائلر نے کراچی میں ورلڈ سوشل فورم کا انعقاد کیا۔ انہوں نے دلائی لامہ کو بھی شرکت کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی مگر بعد میں پاکستان نے چین کی ناراضگی کے پیش نظر دلائی لامہ کی شرکت پر اعتراض کیا-اس فورم میں طارق علی بھی آیا-

1947 میں کراچی میں 95 فی صد سندھی تھے جب کراچی کی آبادی چار لاکھ تھی-1948 میں کراچی میں فسادات ہندو سندھیوں کو بھگانے کے لئے کرائے گئے-

کرامت کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ایک کانفرنس میں انہوں نے جنرل ضیا سے کہا کہ آپ نے ایک بیمار کو قید کر رکھا ہےجس کا نام رسول بخش پلیجو ہے۔ جنرل نے کچھ دن بعد اسے رہا کر دیا جسے علاج کے لئے کرامت یورپ لے گئے۔ لاہور صادقین کے ساتھ ایک سال کام کیا مگر پھر کراچی واپس آکر مزدور تحریک جدوجہد میں شامل ہو گئے-

لاہور میں صادقین کے شام کی محفلوں کا ذکر بھی ملتا ہے-جب وہ صادقین کی اردو رباعیات کا پنجابی ترجمہ کرتے تھے-

فیض احمد فیض کا کراچی میں ان لوگوں نے جلسہ الٹ دیا۔ جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو دوسرے دن فیض صاحب سے معافی مانگنے پہنچ گئے-

کرامت نے اپنے کرم فرماّوں کا بھی تفصیل سے ذ کر کیا جن سے ان کا واسطہ مزدور، ترقی پسند سیاست اور پائلر کے قیام میں پڑا-وہ کہتے ہیں کہ جسٹس دراب پٹیل بہت ہی نفیس اور ایماندار تھے۔ جب کہ ان کے جسٹس فخر الدیں ابراہیم کے بارے میں تحفظات ہیں- سن اخبار میں کام، شمیم صاحب نے کہا ٹریڈ یونین کر لو یا صحافت کر لو۔ ایم بی نقوی، غلام کبریا، ایم بی کٹی، مسعود اللہ خان،رسول بخش پلیجو، حاکم زرداری، عمر اصغر خان،ڈاکڑ ذکی حسن، اصغر علی انجینیئرنے پائلر کے قیام میں مدد دی جبکہ عارف حسن نےاسکا نقشہ بنایا۔

پائلر بنانے کا خیال امریکہ میں انسیٹوٹ اف لیبر اینڈ ریسرچ کو دیکھ کر ہوا-پائلر کی عمارت کھڑی کرنے مغرب کے دوستوں کا ذکر بھی ملتا ہے-

ان کے خیال میں بائیں بازو کے گروپوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں اپنی طاقت صرف کردی-ساٹھ اور ستر کی جہت کا ابھار ان کی نظر میں بے سمتی ملٹی نیشنل انقلابی ابھار تھا مگر اسے کوئی سمت نہیں ملی-

وہ پاکستان میں ٹرائسکائیٹ گروپوں کا بھی ذکر کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ لال خان اور جدوجہد گروپ سے ان کا اختلاف پیپلز پارٹی کے اندر کام کرنے پرہوا –

کرامت صاحب کے خیال میں جنوبی ایشیا میں مضبوظ ٹریڈنگ گروپ گلوبلائزیشن کے منفی پہلوں کا مقابلہ کر سکتا ہے-

کرامت صاحب کا اپنی کتاب میں کہنا ہے کہ نہ مارکسزم ختم ہوگا نہ تاریخ ختم ہوگی-مارکسزم ارد گرد کو سمجھنے کا ایک ٹول ہے یہ عقیدہ نہیں ہے۔ مارکسزم سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئیے

جمہوریت کے استحکام، سماجی انصاف، غربت کا خاتمہ، محنت کشوں کا کردار، شرف انسانیت کی بحالی کے لئے سول سوسائٹی کے ادارے اس سارے عمل میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں-

 

وہ کراچی میں مختلف اوقات میں چلنے والی مزدور تحریکوں پر بھی روشنی ڈالتے ہیں-

پائلر نے پاکستان اور ہندوستان میں قیام امن کے لئے بھی بہت جدوجہد کی اور پائلر کی بلڈنگ میں دیدی نرملا دیش پانڈے ونگ قائم کیا- پائلر نے نرملا دیدی کی وصیت کے مطابق ان کی راکھ دریائے سندھ میں بہائی-

 

میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب کرامت کی ہمہ جہت زندگی بیان نہیں کرتی بلکہ یہ پاکستان کی سماجی، سیاسی تاریخ ہے جس میں مزدور تحریک اور ترقی پسند تحریک اور جدوجہد پر روشنی ڈالی گئی ہے-میری نظر میں پاکستان کی تاریخ اور سیاست میں دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کویہ پڑھنی چاہئیے-

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *