Type to search

تجزیہ

سالگرہ مبارک اے کلیمِ بے تجلی، اے مسیحِ بے صلیب!

  • 1.8K
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    1.8K
    Shares

کارل مارکس نہ ہمارا کوئی روحانی پیشوا ہے اور نہ ہی مارکسزم کسی عقیدے کا نام ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسا عظیم فلاسفر اور استاد ہے جس نے معاشرے کے مسائل کو دیکھنے ، سمجھنے اور انکا حل تلاشنے کیلئے ہمیں ایک مفصل اور قابل عمل سائنسی نقطہء نظر فراہم کیا۔ کارل مارکس ایک ایسا سماج وادی تھا جس نے سماج میں امیر و غریب کی طبقاتی تقسیم کا سائنسی مشاہدہ کیا اور اس تقسیم کو ختم کرنے کیلئے ایک واضح اور جامع سیاسی و معاشی متبادل پیش کیا۔ کارل مارکس نہ صرف ایک فلاسفر بلکہ ایک معیشیت دان، تاریخ دان اور صحافی بھی تھا جس نے ہرمسئلے کو طبقاتی بنیادوں پر پرکھا ۔مارکس نےہیگل کے نظریات سے رہنمائی حاصل کر کے اور اپنے درینہ دوست اینگلز سے مل کرایک ایسے نظرئیے کی بنیاد رکھی جو رہتی دنیا تک قائم (Relevent) رہے گا۔

مارکسزم کوئی مذہب نہیں اس لئے اپنے اندر لچک رکھتا ہے اس لئے جدید دور کے تقاضوں میں اس نظرئیے کی تشریح بے حد ضروری ہے۔ اس نظرئیے کی  بنیادی اساس یہ ہے کہ سماج کے اندر پائے جانے والے  تمام مسائل کی بنیاد امیر و غریب کے درمیان موجود طبقاتی تقسیم ہے اور اس تقسیم کو سمجھے بغیر معاشرے کے سیاسی و سماجی مسائل کو حل کرنا نا ممکن ہے۔ 

کارل مارکس کے عطا کردہ نظرئیے کے مطابق انفرادیت ایک زہر قاتل ہے اور حالیہ کرونا بحران نے اس حقیقت کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ کرونا وائرس جو تباہی پھیلا رہا ہے اس نے ہم سب کو باور کروایا کہ ‘انفرادیت’ ’انسانیت‘ کی دشمن ہے۔ تمام انسانوں اور انسانیت کی بقاء ‘اجتماعیت’ یا ‘اشتراکیت’ میں ہی ہے۔ کرونا بحران کے دوران بڑھتی ہوئی طبقاتی تقسیم ، ارتکازِ دولت ، محنت کشوں کا استحصال، آئی ایم ایف کی معیشیت ، نجی مافیہ کی اجارہ داری اور منافع کا بڑھتا ہوا لالچ جو ہم آج محسوس کر رہے ہیں، اسکا ادراک کارل مارکس آج سے 180 سال قبل کر چکے ہیں۔

آج کرونا وائرس کی تباہی نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود فرسودہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ بے حد امیر اور دولت مند شہریوں کے باوجود ریاست عام شہریوں کو چند مہینوں کی بنیادی ضروریات نہ دے سکی۔ یہاں آج بھی ایسے دولت مند لوگ ہیں جنکے سرمائے میں مسلسل اضافہ جاری ہے مگر انہوں نے اس بحران کا خسارہ مزدوروں کو بے روزگار کر کے اور عام عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال کر پورا کیا۔ لاکھوں فیکٹری ورکرز بے روزگار ہوئے، پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ سے لیکر دیہاڑی دار مزدور کی دیہاڑی ختم ہوگئی مگر اس فرسودہ نظام کے پاس کوئی متبادل نہیں کہ ان کی محرومیوں کا ازالہ کر سکے۔ کوئی کرونا سے مر رہا ہے تو کوئی بھوک سے۔ اس ریاست اور اس کے فرسودہ سیاسی و معاشی نظام کے پاس امیروں کے استحصال پر قابو پانے کے لئے کوئی ضابطہ موجود نہیں۔ اس سارے مسئلے کا حل اگر کسی نظام میں موجود ہے تو وہ کارل مارکس کا دیا ہوا سوشلسٹ نظام ہی ہے جو تمام انسانوں کی فلاح و بہبود پر یقین رکھتا ہے اور امیر و غریب کے بڑھتے ہوئے اس فرق کو ختم کرنے کی عملی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

مارکسزم کا یہ نظریہ کسی ایک ملک یا خطے کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جہاں مارکس وادی بڑھتی ہوئی طبقاتی تقسیم کے خلاف نہ لڑ رہے ہوں۔ ہر ملک کا سیاسی ، مذہبی ، جاگیردار اور سرمایہ دار اشرافیہ مارکس وادیوں کو باغی اور غدار قرار دیتا ہے، ان پر طرح طرح کے الزامات لگتے ہیں کیونکہ مارکس وادی اس اشرافیہ کے مظالم کو بے نقاب کرتے ہیں ۔سرمایہ داری اور اشرافیہ کے محافظ یہ تمام ممالک بھلے ایک دوسرے کے روائیتی دشمن ہوں مگر مارکسی نظریات کے خلاف متحد ہیں۔ اسی لئے پاکستان میں ہمیں جبکہ بھارت، امریکہ، برطانیہ اور دیگر تمام ممالک میں ہمارے نظریاتی دوستوں کو غدار بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ریاستی سرپرستی میں مذہب کو استعمال کر کےان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور اشرافیہ دشمن اس نظرئیے کو ریاست دشمن نظریہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ 

وہ نظریہ جو محنت کش، مزدور، کسان اور تمام استحصالی طبقات کو کسی بھی بارڈر، مذہب و لسانیت کی تقسیم کے بغیر ایک جگہ جوڑتا ہے وہ مارکسٹ نظریہ ہے۔ دنیا بھر میں مارکس کو استاد تسلیم کرنے والے تمام مارکس وادی ‘انٹر نیشنلسٹ’ ہیں کیونکہ ہمارا رشتہ کسی بھی خطے ، مذہب اور قوم سے بالاتر انسانیت کا رشتہ ہے۔

ہم دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کی برابری چاہتے ہیں کیونکہ معاشی برابری کے بغیر کسی بھی برابری کی امید رکھنا بہت بڑی غلط فہمی میں رہنا ہے۔ لبرل حضرات کے نظرئیے کے مطابق معاشرے میں صرف جنسی، مذہبی، رنگ و نسل کی تقسیم ختم ہونی چاہیئے جبکہ معاشی برابری ممکن نہیں تو انہیں بتلانا مقصود ہے کہ انصاف اور قانون تب تک سب کے لئے برابر نہیں ہو سکتا جب تک کہ تمام انسان معاشی سطح پر برابر نہ ہوں۔  وہ حضرات جو اس نظرئیے کو نا ممکن یا  utopia تصور کرتے ہیں وہ خود سب سے بڑے utopia کا شکار ہیں کیونکہ انسانیت کی حقیقی منزل شاید یہی ہے کہ تمام انسان  برابری کی بنیاد پر زندگی جئیں اور کسی کو بھی دوسروں کا استحصال کر کے سادہ لوح انسانوں پر فوقیت حاصل نہ ہو۔ علامہ اقبال نے کارل مارکس کے متعلق شاید اسی لئے لکھا تھا کہ ؎

وہ کلیمِ بے تجلی، وہ مسیح بے صلیب

نیست پیغمبر و لیکن دربغل داردکتاب

سالگرہ مبارک اے استادِ عظیم۔۔۔۔!!

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *