Type to search

خبریں سیاست

چئیرمین تحریک حریت اشرف صحرائی کا انتقال: کشمیر کے سپوت کی زندگی کے سفر پر ایک نظر

  • 592
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    592
    Shares

چیئرمین تحریک حریت محمد اشرف صحرائی بھارتی فوج کی قید میں انتقال کر گئے ہیں۔  کشمیر میڈیا سروس کے مطابق چیئرمین تحریک حریت محمد اشرف صحرائی مقبوضہ جموں اسپتال میں انتقال کر گئے۔حریت رہنما غلام مصطفی صفی کے مطابق محمد اشرف صحرائی 5 اگست 2019 کے بعد سے جیل میں تھے، سانس کی زیادہ تکلیف کے باعث انہیں مقبوضہ جموں کے اسپتال داخل کروایا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

اشرف صحرائی کون تھے؟: اشرف صحرائی کے سیاسی سفر پر ایک نظر

شمالی کشمیر کے لولاب کپوارہ میں ٹکی پورہ گاؤں کے رہنے والے 77 سالہ محمد اشرف خان صحرائی، کشمیر کے ان سرکرہ علیحدگی پسند رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے ساری عمر مسئلہ کشمیر کی متنازع حیثیت کو نہ صرف مانا، بلکہ اسی حیثیت کے تحت اسے اجاگر رکھا۔ وہ اسکے حل کے لیے سیاسی طور پر سرگرم رہے۔ بھارتی ریاست کے تمام تر ہتھکنڈوں کے سامنے ڈٹے رہنے والے صحرائی  اپنی جدوجہد کے نتیجے میں کئی برسوں تک جیلوں میں رہے ہیں۔ اکثر اوقات میڈیا اطلاعات میں یہ سامنے آتا کہ گزشتہ کئی برسوں سے انہیں شدید جسمانی تکالیف کا سامنا تھا۔ صحرائی کا سیاسی سفر جماعت اسلامی کے ساتھ کئی دہائیوں تک وابستہ رہا۔ وہ اپنے زور خطابت کیلئے نوجوانوں میں کافی مقبول تھے۔  ۔ انہوں نے مسلم متحدہ محاذ کی ٹکٹ پر 1987 میں لولاب سے اسمبلی کیلئے الیکشن بھی لڑا تھا۔ یہ الیکشن دھاندلیوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے اور بعض مبصرین کہتے ہیں کہ یہ  کشمیر میں مسلح سورش کے آغاز کا ایک محرک ثابت ہوا۔انہوں نے تحریک حریت میں تو 2003میں شمولیت اختیار کی۔ وہ سید علی گیلانی کی قیادت میں بننے والی تحریک حریت میں شامل ہوئے تھے۔ حکام نے ابھی صحرائی کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم ان کے خاندان اور خاص کر انکے  بیٹے نے  بھارتی میڈیا کو بتایا کہ ہسپتال میں ان کی موت واقع ہوئی ہے اس وقت کہ جب وہ بھارتی فوج کی قید میں تھے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ان کا کرونا  ٹیسٹ منفی آیا تھا۔ تاہم اسکی رپورٹ ان کے انتقال کے وقت پر سامنے نہیں آئی تھی۔

مجاہد صحرائی،  اشرف صحرائی  کے بیٹے کے  مطابق انہیں گزشتہ شام  اطلاع دی گئی تھی کہ ان کے والد کی طبیعت خراب ہوگئی ہے اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صحرائی کی صحت کئی روز سے کافی خراب تھی لیکن افراد خانہ کی اپیلوں کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا۔ کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی کرونا خطرات کے پیش نظر کشمیری سیاسی نظربندوں کو رہا کرنے یا کم از کم کشمیر کی جیلوں میں منتقل کرنے کی اپیل کی تھی۔ بار ایسوسی ایشن نے صحرائی کے انتقال کو ‘حراستی قتل’  قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی آزادانہ تحقیقات کی جانی چاہئے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ بار نے مقامی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ  اشرف صحرائی کی میت کو سرینگر منتقل کرنے اور اسے لواحقین کے سپرد کرنے کے انتظامات کرے بار کے مطابق صحرائی کے لواحقین نے ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر تین عرضداشتیں ہائی کورٹ میں پیش کی تھیں لیکن ان پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

اشرف صحرائی کی موت پر کس نے کیا کہا؟

پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ‘صحرائی صاحب ایک سیاسی لیڈر تھے، دہشت گرد نہیں۔ کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ ایک بوڑھا، لاغر شخص ملک کیلئے خطرہ بن گیا۔ میں نکتہ چینی نہیں کر رہا ہوں لیکن برائے مہربانی اس پر غور و فکر کیجئے۔ انہیں کیوں قید میں مرنا پڑا بجائے اس کے کہ وہ اپنے گھر میں، اپنے عزیزوں کے درمیان انتقال کرتے۔سید علی گیلانی نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیرانہ سالی کے اس دور میں ایک دیرینہ ساتھی کے بچھڑ جانے کی اطلاع سنتے ہی آنکھیں نم ہونے کی بجائے خشک ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے اشرف صحرائی کی چٹان سی مضبوط ہمت، ولولے اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کیا اور مرحوم کے لئے دعا بھی کی۔

ترجمان دفترخارجہ

ترجمان کے مطابق اشرف صحرائی کو گزشتہ سال کالے بھارتی قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، اشرف صحرائی طبیعت کی خرابی اورکورونا صورتحال کے باوجود بھارتی جیل میں قید رہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارت کا کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشتگردی کا رنگ دینا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، کوروناکی ابترصورتحال کے باعث بھارتی جیلوں میں کشمیریوں کی صحت سےمتعلق تشویش ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق بھارتی جیلوں میں قیدیوں کا رش ہے، جیلوں میں کورونا کے خلاف احتیاطی تدابیر کا کوئی بندوبست نہیں، اطلاعات کے مطابق بھارتی جیلوں میں موجودکچھ کشمیری رہنما پہلے ہی کورونا کا شکار ہوچکے۔

 

 

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *