Type to search

فيچرڈ

بحریہ ٹاؤن سے لے کر گجر نالے تک: استحصال صرف غریبوں کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک جملہ جو آج بھی  ہمارے معاشرے میں عموماً عام گفتگو کے دوران سنا جاتا ہے کہ  ”زن، زر، اور زمین فساد کی جڑیں ہیں”۔ میرا  نقطہ نگاہ کچھ مختلف ہے مگر یہ بات اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے کہ شہر کراچی کی حد تک  ‘زمین’ فساد کی جڑ ہے۔کراچی شہر کی منصوبہ بندی سے لے کر اس کے بے ہنگم پھیلاؤ کے ذیل میں کسی بھی مسئلے کو دیکھا جائے تو در اصل بنیادی جھگڑا زمین کا ہی  نکلتا ہے ۔رہائش کی کمی ، ترقیاتی منصوبے،کچی آبادیاں،  پارک اور کھیل کے میدان،  فارم ہاؤسز غرض یہ کہ شہرکراچی میں اس وقت جتنے مسائل اور معاملات ہیں ان سب  میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے ‘زمین’۔اعلی عدلیہ  کا  بھی کہنا ہے کہ کراچی میں اصل مسئلہ زمینوں پر قبضے کا ہے اور مختلف جماعتوں میں ان کے مددگارلوگ ہیں ۔جس کی بنیادی وجہ حکومت میں بد عنوان عناصر کا ہونا اور  بدتر حکومتی نظام ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شہر کراچی میں اگر اس وقت کوئی کاروبار کامیاب ہے  تو وہ ہے بڑے پیمانے پر  زمین کی خریدوفروٖخت کا ۔جسے عام الفاظ میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کہا جاتا ہے۔اس میں  زمین کا ایک ٹکرا اٹھایا جاتا  ہے بعض جگہوں پر وہ انتہائی سستے داموں خریدا جاتا ہے تو بعض جگہ زبردستی ہتھیا لیا جاتا ہے۔سستے داموں خریدو فروخت کسی حکومتی ادارے سے ہوا کرتی ہے  اور کسی غریب کی زمین ہو تو راتوں رات اس کے گھر پر بلڈوزر پھیر کر  اسے بے دخل کر کے وہ زمین با آسانی حاصل کرلی جاتی ہے پھر کسی بڑے منصوبے کی تشہیر کر کے  اس زمین کی قیمت کئی سو گنا بڑھ جاتی ہے۔

اسی طرح حکومت کوئی ترقیاتی منصوبہ لاتی ہے  اور اس منصوبے کی حدود میں کچھ بااثر شخصیات کی زمینیں ہوں تو ان سے  ان کی مرضی کا سودا کیا جاتا ہے  وہ بھی اگر وہ راضی ہوں ورنہ اکثر ایسے ترقیاتی منصوبوں کو لپیٹ دیا جاتا ہے یا اس کا رخ تبدیل کردیا جاتا ہے۔ہاں  اگر اس منصوبے کی حدود میں آنے والی زمینیں شہر کے غریب طبقے کی ہوں  تو وہاں پر نسل در نسل زندگی گزارنے والے غریب لوگوں کو اچانک گھر خالی کرنے کا نوٹس ملتا ہے اور پھر راتوں رات ان کے گھروں پر بلڈوزر پھیر دیا جاتا ہے۔  بعض سرکاری ادارے تو یہ بھی خاطر میں نہیں لاتے کہ ان مکینوں کو کئی دہائیوں قبل ہم نے ہی لیز دی تھی اور یوں   وہ مالکانہ حقوق رکھنے والے لوگ راتوں رات غیر قانونی اور  ‘ قابضین’ بن  جاتے ہیں  اور باالآخر انہیں اس زمین سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔

شہر کراچی میں زمین ہتھیانے کا عمل پورے زوروشور سے جاری ہے اور بحریہ ٹاون سے لے کر گجر نالے، اورنگی  نالے  تک گوٹھوں اور  غریب آبادیوں  کے  رہائشی  تیزی سے بے گھر ہو تے جارہے ہیں اور اس سارے عمل میں استحصال صرف غریب کا ہورہا ہے  ان کا حق مارا جارہا  ہے جب کہ بااثر شخصیات اور ادارے ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں  اور یہ سب قانون کے نفاذ کے نام پر ہورہاہے کیونکہ اگر وہ ان میں سے بہت سے معاملات کو اپنے اداروں کی ماضی کی غلطیاں قرار دیتے ہیں تو ان غلطیوں کا خمیازہ صرف غریب طبقہ کیوں بھگتے؟ جبکہ آئین پاکستان  کا آرٹیکل نمبر 3 کہتا ہے کہ  مملکت استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنائے گی۔اس آرٹیکل کے روسے پاکستان میں کسی بسنے والے شہری کا استحصال نہیں کیا جائے گا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں آئین کی اس شق پر عمل ہورہا ہے ؟کیا استحصال کے خاتمے کی کوئی سبیل ممکن ہے ؟

استحصال کے اس عمل میں  بحریہ ٹاؤن کراچی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں سالہا سال سے کئی نسلوں سے آباد گوٹھوں کی جبری بے دخلی کے قصے  سنائی دے رہے ہیں بلکہ اب تو   دو تین گوٹھ ہی بچے ہیں  اور آج کل جس شدت سے سرکاری سرپرستی میں انہیں بے دخل  کرنے کی کوششیں جاری ہیں شاید عید تک وہ بھی نہ بچ سکیں کیوں کہ  بے دخل کرنے والوں کو نہ تو رمضان کی حرمت کا پاس ہے نہ کورونا جیسی موذی بیماری کا خیال۔

امیر شہر آخر یہ تو بتا ’’ ہمارا جرم کیا ہے؟

جبکہ  یہ تمام گوٹھ قانونی  حیثیت رکھتے ہیں  مگر  ان کی قانونی حیثیت کے باوجود ان کے مکین بے دخلی سے دوچار ہیں۔بحریہ ٹاؤن کا کافی علاقہ ملیر کے دیہہ لنگیجی میں آتا ہے اگر ہم  بورڈآف ریونیو سندھ کے ڈسٹرکٹ ملیر، تعلقہ گڈاپ کے دیہہ لنگیجی کا نقشہ (جو کہ 1933۔1964 میں بنایا گیا)  دیکھیں تو اس میں  سات  قدیمی گوٹھوں کو واضح دیکھا جا سکتا ہے۔جن میں گوٹھ گاجیان،  گوٹھ رادو جوکھیو، گوٹھ جوریو گبول، گوٹھ جمعہ خان،  گوٹھ حاجی گبول (موجودہ نام۔گوٹھ حاجی علی محمد گبول)،  گوٹھ الھیار ( موجودہ نام – گوٹھ عثمان اللہ رکھیو) اور گوٹھ خدا بخش    ( موجودہ نام – گوٹھ نور محمد گبول) شامل ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے نہ  صرف ان کی زمینوں پر قبضہ کرکے انہیں  ان کی زمینوں سے بے دخل کیا بلکہ  ان کے خلاف مقدمات بھی بنوائے اوریوں مقامی افراد کی ایک بڑی تعداد نہ صرف بے گھر ہوئی بلکہ ان کی روزی روٹی بھی  چھن گئی جس کا انحصار ذراعت پر تھا۔

ایسا ہی کچھ سلسلہ شہر کراچی کے برساتی نالوں  یعنی گجر نالہ اور اورنگی نالہ  کے اطراف میں بسنے  والے مکینوں کے ساتھ بھی ہے  کہ ان متاثرین کی کوئی آواز نہیں ہے  اور  تمام  مقتدر سیاسی و سماجی  حلقے  اس معاملے پر  خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ان کا قصور اتنا ہے کہ وہ غریب ہیں ان کے سروں سے چھت چھیننا آسان ہے۔ نہ انہیں آواز بلند کرنے کی اجازت ہے اور نہ احتجاج کی  ۔کچھ متاثرین میں نوے ہزار کے چیک کی تقسیم ضرور ہوئی مگر ان کی تعداد کافی کم ہےاگر ان نالوں کے اطراف میں 14 ہزار مکانات مسمار کئے  جائیں گے  تو ایک     محتاط اندازے کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی  تعداد تیس ہزار  تک جاسکتی ہے  ۔کیا گجر نالہ، محمود آباد نالہ اور اورنگی نالے کے اس ترقیاتی کام کے متاثرین پاکستان کے شہری نہیں؟  کیا آئین کے آرٹیکل 38 کے تحت ان کی رہائش ریاست ذمہ داری نہیں؟ یہ ناکامی کس کی ناکامی ہے؟

 

یہ مکین بھی شہر کی  ترقی کے مخالف نہیں ہیں  مگر ترقی کس قیمت پر؟  کیا ہی بہتر ہوتا کہ  کہ ایک سروے کرایا جاتا کہ ان  حکومتی  اقدامات کے نتیجے میں وہاں  کتنے  خاندان متاثر ہوں گے   یہ خاندان کتنے افراد پر مشتمل ہیں ان افراد کی جنس، عمر اور روزگار کا تعین کرلیا جاتا۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ انہیں  فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرلیا جاتا۔مگر معاملہ چونکہ غریبوں  کا ٹہرا تو اتنا تردد کو ن کرتا؟  جبکہ غربت سے تنگ  ان لوگوں کی  ساری عمر اپنی سفید پوشی کا بھرم وعزت نفس برقرار رکھنے کی تگ ودو میں گزرجاتی ہے اور  جب  ساری عمر کی جمع پونجی لگا کر وہ اپنے لئے ایک چھت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو کبھی بحریہ ٹاؤن جیسے امیر ٹھیکیدار تو کبھی کسی سرکاری ادارے کے نمائندگان  بلڈوزر اور مشینری  لاکر یکایک  ان کے گھر کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کرکے انہیں  ان کی زمین سے بے دخل کر دیتے ہیں اور یوں کراچی امیروں کے شہر میں تبدیل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے جس میں غریبوں کے رہنے کی کوئی گنجائش نہیں بچے گی –

برق گرتی ہے تو بیچارے غریبوں پر..

کہاوت ہے کہ ہر شہر میں دو شہر ہوتے ہیں ، ایک امیروں کا ایک غریبوں کا… اس میں کچھ اضافے کی ضرورت ہے  کہ اس ملک میں قانون بھی گویا دو ہیں …….غریبوں کے لئے الگ اور امیروں کے لئے الگ!

کراچی سرکلر ریلوے کی مثال ہمارے سامنے ہے  کہ آج سے دو سال قبل، اسی رمضان کے مہینے میں  ایک ہزار سے زائد خاندانوں  کو ان کے گھروں سے بے دخل کردیا گیا تھا اور اعلیٰ عدلیہ کے واضح احکامات کے باوجود ان کو کسی طرح کی متبادل رہائش فراہم نہ کی گئی  کیونکہ متاثرین کا تعلق کم آمدنی والے چبقے سے تھا تو ان کی آواز کو دبا دیا گیا اور افسوس تو یہ ہے کہ جس مقصد کے لئے ان کے گھر مسمار کئے گئے تھے وہ بھی پورا نہ ہوسکا یعنی کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی۔کیا شہر اس طرح ترقی کرتے ہیں؟

کسی شاعر نے کیا خوب کہا کہ

میرا قاتل ہی میرا منصف ہے

کیا میرے حق میں فیصلہ دے گا

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *