Type to search

خبریں

وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کی پسِ پردہ ملاقات ہو چکی ، معاملات طے پا گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینئر صحافی و تجزیہ نگار طلعت حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور جہانگیرترین کے درمیان خاموش ملاقات ہوچکی ہے ملاقات میں گلے شکوے شکایات کا تبادلہ ہوا ،جہانگیرترین نے کہا کہ چینی کی قیمت بڑھنے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، جہانگیرترین کو علی ظفرکی سفارشات پر مقدمات میں کچھ ریلیف مل سکتا ہے، یہ ملاقات جہانگیرترین گروپ کے وفد کی ملاقات سے قبل ہوچکی تھی۔

طلعت حسین نے اپنے یوٹیوب چینل سے جاری ایک وی لاگ میں بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے جہانگیرترین سے خاموش ملاقات کی،ملاقات میں بہت سےایسے معاملات جو جہانگیرترین گروپ کی ملاقات میں طے پانے تھے، عمران خان اور جہانگیرترین کی ملاقات میں طے ہوچکے تھے۔مستندمعلومات کے مطابق جہانگیرترین گروپ کے وفدکی ملاقات سے قبل عمران خان اور جہانگیرترین کے درمیان جو ملاقات ہوئی اس میں ایک اور شخص بھی موجود تھی۔

طلعت حسین کے مطابق ملاقات کے دوران کچھ گلے شکوے بھی ہوئے۔ عمران خان کے نزدیک چینی کی قیمتوں سے متعلق جہانگیرترین بہتر کردار ادا کرسکتے تھے، لیکن چینی قیمتیں بڑھانے میں کردار رہا ہے۔چینی کی قیمتوں سے متعلق ایکشن لینا ناگزیر ہوچکا تھا، جب ایکشن لیا گیا تو توپوں کا رخ جہانگیرترین کی طرف بھی ہونا تھا، جہانگیرترین کا مؤقف تھا کہ مارکیٹ کے اندر اگر چینی کی قیمت بڑھ رہی ہے تو وہ اس کو کنٹرول نہیں کرسکتے، کچھ معاملات طے ہوئے دونوں اطراف معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی، جہانگیرترین کے کیسز کافی پیچیدہ ہوچکے ہیں، میڈیا کو دکھانے کیلئے جہانگیرترین کیخلاف ایکشن لیا گیا کہ دیکھیں کیا دبنگ بندہ ہے جو اپنے دوستوں کو بھی نہیں چھوڑ رہا۔

سینئر صحافی کے مطابق جہانگیرترین کے مخالف گروپ اور کچھ دوستوں نے ان کیخلاف کام کیا، کہ جہانگیرترین کو فارغ کیا جائے اور ایکشن لیا جائے۔ جس پر جہانگیرترین کیخلاف ایف آئی آرزدرج ہوگئیں۔ اب علی ظفر پر ہے کہ وہ وزیراعظم کو کیا سفارشات پیش کرتے ہیں؟ہوسکتا جہانگیرترین کو مقدمات میں کچھ ریلیف مل جائے۔ قابل ذکر بات ہے کہ اگر جہانگیرترین کو ریلیف نہیں دینا تھا تو میٹنگ کو پبلک کیوں نہیں کیا گیا؟

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *