Type to search

خبریں

وفاقی حکومت نے لیگی رہنما احسن اقبال کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی حکومت نے مسلم لیگ ن کے رہنماء و ناروول سے رکن قومی اسمبلی احسن اقبال کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا۔

تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ نے احسن اقبال کا نام ای سی ایل میں شامل کیا ، ن لیگی رہنماء کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی تھی۔  ای سی ایل میں نام ڈالے جانے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وفاقی وزیر احسن اقبال پر بیرون ملک جانے پر پابندی عائد ہو گئی۔
بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال پر نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس ریفرنس میں فرد جرم عائد کی جا چکی ہے، تاہم انہوں نے دسمبر 2020 میں صحت جرم سے انکار کر دیا تھا ، جس کی بناء پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر داخلہ و مسلم لیگ (ن )کے رہنما احسن اقبال کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کی ، اس حوالے سے نیب کی جانب سے وزارت داخلہ کو خط بھی لکھا گیا ، خط میں احسن اقبال کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا۔

علاوہ ازیں احتساب عدالت میں احسن اقبال کے خلاف نارووال سپورٹس سٹی ریفرنس پر سماعت 24مئی تک ملتوی کر دی گئی ، ریفرنس پر سماعت احتساب عدالت کے جج اصغر علی نے کی،گواہ محسن رضا جفعری کا بیان مکمل نہ. ہو سکا ، عدالت نے گواہ محسن جعفری کو بیان مکمل کرانے کے لئے دوبارہ طلب کر لیا،آئندہ سماعت پر نیب کے اگلے گواہ اظہارِ احمد کو بھی طلب کر لیا، احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی کی عدالت میں زیر سماعت سابق وفاقی وزیر احسن اقبال وغیرہ کے خلاف نارووال سپورٹس سٹی ریفرنس میں سماعت ملتوی کردی گئی۔

گذشتہ روز سماعت کے دوران احسن اقبال عدالت پیش ہوئے اس موقع پر جونیئر وکیل نے استدعاکی کہ احسن اقبال کے سینئر وکیل موجود نہیں ہیں سماعت ملتوی کی جائے،عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسارکیا کہ کیا نیب کے گواہ موجود ہیں،جس پرپراسیکیوٹر نے بتایاکہ جی دونوں گواہان کمرہ عدالت میں موجود ہیں،عدالت نے کہاکہ سماعت ملتوی کی جاتی ہے، دونوں گواہان کے بیان ریکارڈ کیے جائینگے،اس موقع پر احسن اقبال نے کہاکہ رمضان چل رہا ہے گواہان نے جھوٹی گواہیاں دینی ہے، رمضان کے بعد رکھیں،جج اصغر علی نے کہاکہ یہ تو اللہ جانتا ہے کون سچا ہے کون جھوٹا،اس پر کمرہ عدالت میں قہقہہ لگ گیا

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *