Type to search

خبریں

بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی ایک بار پھر دیہاتوں پر قبضے کی کوشش،مزاحمت کرنے پر مقامی لوگوں پر فائر کھول دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے ایک بار پھر کراچی کے مقامی دیہات کمال خان جوکیو پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ علاقہ مکینوں کی مزاحمت پر بحریہ ٹاؤن کے گارڈز نے مقامی لوگوں پر فائر کھول دیا جس کی وجہ سے 2 لوگوں کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بحریہ ٹاؤن انتظامیہ بھاری مشینری اور اسلحہ سے لیس گارڈز کے ساتھ کراچی کے نواحی گاؤں پہنچی جہاں انہوں نے چھوٹے گھروں کو مسمار کرنا شروع کردیا۔ کچھ ہی لمحوں میں علاقہ مکین اکٹھے ہوئے اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے خلاف مزاحمت کی۔ علاقہ مکینوں نے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو منتشر کرنے کے لئے پتھراؤ کیا جس کےبعد بحریہ ٹاؤن کے گارڈزنے ان پر فائر کھول دیا جس کی وجہ سے 2 مقامی افراد شدید زخمی ہوئے۔

گزشتہ چند روز سے بحریہ ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ نے سندھ پولیس کے ہمراہ کراچی کے نواحی علاقوں عبداللہ گوٹھ، داد کریم، نور محمد گبول گوٹھ سمیت دیگر دیہاتوں کی اراضی پر قبضہ حاصل کرنے کیلئے بھاری مشینری کے ذریعے مسمارگی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ یہ گوٹھوں کے علاقے ہیں اور نسلوں سے وہ لوگ یہاں پر آباد ہیں جبکہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر ان کی زمینوں پر قبضہ کر رہی ہے۔

اس سے قبل بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے سندھ پولیس کے ہمراہ ایک آپریشن کے خلاف مقامی دیہاتی آبادیاں احتجاج کر رہی تھیں اور احتجاج کرنے والے متعدد شہریوں پر تشدد کی بھی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں ۔ تاہم آج سمیت گزشتہ چند روز سے جاری اس آپریشن سے متعلق قومی میڈیا، اخبارات میں کوئی کوریج نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے اس معاملہ پر کسی قسم کا کوئی رد عمل سامنے آیا ہے۔

کراچی کے نواحی دیہاتوں پر کئے جانے والے اس قبضہ پرسوشل میڈیا بالخصوص ٹویٹر پر بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور قائدین کی طرف سے مذمت کی جا رہی ہے اور دیہاتیوں سے زمینیں چھیننے جانے کا سلسلہ ترک کئے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ادھر مقامی دیہاتی بھی آپریشن کے خلاف ہونیوالی مزاحمت کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے شیئر کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں زمینوں سے محروم کرنے سے بچایا جائے اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ اور سندھ پولیس کے مظالم سے انہیں نجات دلائی جائے۔

بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے مقامی لوگوں پر فائرنگ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ صارفین کا مطالبہ ہے کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے اس قبضے کی کوشش کو روکا جائے اور غریبوں کی بستیوں پر بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی کی غیر قانونی تعمیر کو روکا جائے۔

مقامی آبادی کے رہائشی حفیظ بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ قبائل پاکستان بننے سے قبل یہاں آباد ہیں اور یہ زمینیں انکے دادا پڑدادا کی ہیں۔ ‘کولاچی مائی’ جس کے نام سے ‘کراچی’ شہر منسوب ہے اس علاقے میں مقیم تھیں اور یہاں مقیم سارے قبائل کراچی کے سب سے قدیم رہائشی تصور کیئے جاتے ہیں۔  تقسیم ہند کے موقع پر جو لوگ یہ علاقہ چھوڑ کر گئے صرف وہ علاقہ حکومت نے قبضے میں لیا جو بعد ازاں بحریہ انتظامیہ کو بیچا مگر باقی گاؤں اور گوٹھ یہاں موجود قبائلی لوگوں کی ملکیت ہے جو پچھلے سو سال سے زائد عرصے سے اس علاقے میں آباد ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں اس لئے انہیں زمینی قواعد و ضوابط کا علم نہیں ورنہ وہ تو خاموشی سے اپنی زمینیوں پر کھیتی باڑی اور محنت مشقت کر رہے تھے انہیں معلوم نہیں تھا کہ اتنا بڑا قبضہ مافیہ انکی زمین ہتھیانے پہنچ جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیہ ہم لوگ نہیں جو یہاں سالوں سے مقیم ہیں، یہ زمین ہماری ماں ہے جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے زرخیز اور رہنے کے قابل بنایا ہے۔ حقیقت میں قبضہ مافیہ وہ ہیں جو ہمارے آبا ؤ اجداد کی زمین ہتھیانے یہاں پہنچ گئے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کی گئی زمین کا کل رقبہ 16000 ایکڑ ہے جسکا کوئی نقشہ جاری نہیں کیا گیا جبکہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے اسکی توسیع کرتے ہوئے 25000 ایکڑ پر اپنا قبضہ جما لیا ہے ۔مقامی لوگوں کی زمین کو بھی سرکاری زمین قرار دیا جارہا ہے جس کے خلاف ہم نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں درخواستیں جمع کروا رکھی ہیں اور سٹے آرڈرز بھی لے رکھے ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *