Type to search

تجزیہ فيچرڈ فیچر

جب  گریگ چیپل کے مسلسل  ’ڈک‘  پر آؤٹ ہونے پر  میدان میں جیتی جاگتی ’بطخ‘ چھوڑی گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ معصوم سا پرندہ ’ڈک‘ بھی کیا چیز ہے۔ کرکٹ کھیلنے والے اور جاننے والے تو اس ’ڈک‘  سے خاصے پریشان اور ہلکان رہتے ہیں۔ کرکٹ اصطلاح میں ’ڈک‘ دراصل ’ صفر‘ پر آؤٹ ہونے کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کا کام تو آسٹریلوی نشریاتی ادارے  نے اُس وقت دینا شروع کردیا جب کوئی اس ’ڈک‘ کا مالک بنتا تو اسکرین پر باقاعدہ یہ پرندہ جلوہ افروز ہوتا۔ اور دور حاضر میں تو اس ’ڈک‘ کو باقاعدہ ’کیں کیں‘ کی آواز سے انڈا دیتے ہوئے دکھایا جاتا ہے ۔

کرکٹ  میں اس ظالم اور بے رحم ’ڈک‘ سے بچنے کی کوشش تو ہر کھلاڑی کرتا رہا ہے۔ بالخصوص ’گولڈن ڈک‘ سے۔ یعنی پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہونے سے۔ یاد ہے ناں کول کتہ میں سچن ٹنڈولکر کا شعیب اختر  کے ہاتھوں گولڈن ڈک کا شکار ہونا۔ سینکڑوں کی تعداد کے   تماشائیوں کو  اُس وقت سانپ سونگھ گیا تھا، جب ٹنڈولکر پہلی ہی گیند پر کلین بولڈ ہوئے تھے۔حال ہی میں ہرارے میں پہلے میچ میں زمبابوے کے خلاف پاکستانی کپتان بابر اعظم ٹیسٹ کیرئیر میں پہلی بار گولڈن ڈک کا مزا چھک چکے ہیں۔  اسی طرح بھلا کون بھول سکتا ہے  1985 میں آسٹریلیا میں کھیلے گئے ورلڈ چیمپئنز  آف کرکٹ‘ کے پاکستان اور بھارت کے  فائنل کو  اور جب قاسم عمر ’گولڈن ڈک‘ کا شکار ہوئے تو میدان میں لگی ہوئی بڑی اسکرین پر اپنے آؤٹ ہونے اور پھر ’ڈک‘ کے دکھائے جانے پر بلے کو  ’گن‘   بنا کر اس پر فائرنگ کرتے ہوئے ڈریسنگ روم گئے ۔ اب یہ اور بات ہے کہ ان کے اس غیر سنجیدہ عمل پر ٹیم کے کپتان سمیت کئی سنئیرکھلاڑی خاصے ناراض ہوئے۔

ذرا تصور کریں کہ اگر میدان میں ہی کوئی جیتی جاگتی سچ مچ کی ’ڈک‘  چھوڑ دے تو  اُس بلے باز کی کیا کیفیت ہوگی جو مسلسل صفر کا شکار بن رہا تھا،  جی ہاں کچھ ایسا ہی ہوا تھا آسٹریلوی سابق کپتان گریگ چیپل کے ساتھ۔ قصہ ہے  1982کا۔ جس کا دلچسپ پس منظر ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ1981  میں  پاکستان کے خلاف برسبین ٹیسٹ میں ڈبل سنچری بنانے کے بعد گریگ چیپل کے بلے سے رنز روٹھ گئے تھے۔  بے چارے ہاتھ پیر اور بلا بھی چلاتے لیکن رنز کے حصول کے لیے ناکام رہے ۔

دسمبر  1981میں پاکستان کے خلاف ہی میلبورن کے  تیسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگ سے گریگ چیپل کے لیے ایسے خوف ناک دور کا آغاز ہوا کہ جس نے اُن کو ذہنی طور پر خاصا مضطرب اور منتشر کرکے رکھ دیا۔  18گیندیں کھیلنے کے باوجود وہ کھاتے کھولے بغیر سرفراز نواز کا شکار بن گئے۔ ٹیسٹ سیریز کے بعد ون ڈے کی ورلڈ سیریز شروع ہوئی تو پاکستان کے مقابل میچ میں ہی  گریگ چیپل آؤٹ ہوکر ڈریسنگ روم جارہے تھے تو اسکرین پر ایک بار پھر ’ڈک‘ نمودار ہوئی۔ اس کے اگلے ہی میچ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف گریگ چیپل نے  کی ’ ڈک‘  نے ترقی کی اور اس بار ’گولڈن ڈک‘  ان کے نام کے ساتھ جڑ گئی۔ یوں اُن کے انٹرنیشنل کرکٹ کے دامن میں ’ڈک‘ حاصل کرنے کی سمجھیں ہیٹ ٹرک مکمل ہوگئی۔

قصہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ 26  دسمبر1981کو جب ویسٹ انڈیز کے خلاف میلبورن میں ٹیسٹ میچ کا آغاز ہوا تو لگا کہ ’ڈک‘ گریگ چیپل کے تعاقب میں رہی ۔ جبھی ایک بار پھر انہیں ’گولڈن ڈک‘ کا صدمہ سہنا پڑا۔ اس ٹیسٹ کی دوسری اننگ میں انہوں نے جیسے تیسے 6رنز بنائے۔ نیا سال کے آغاز پر ویسٹ انڈیز کے مقابل سڈنی ٹیسٹ میں انہوں نے  12رنز جوڑے لیکن دوسری اننگ میں پھر نجانے کہاں سے ’ گولڈن ڈک ‘ انہیں ڈھونڈتی ڈھانڈتی آگئی۔

گریگ چیپل اور ’ ڈک‘ کے اس یارانے پر آسٹریلوی میڈیا اور تجزیہ کاروں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنا نا شروع کردیا۔ گریگ چیپل جو پہلے ہی 1981میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے میچ میں اپنے بھائی سے آخری گیند انڈر آرم کروانے پر ’جنٹلمین گیم‘ کو بدنام کرنے کا داغ سہہ رہے تھے۔  اپنی اسی خراب اور ناقص بیٹنگ کارکردگی کی بنا پر پھر سے اُن پر  تنقید اور طنز کے نشتر برسنے شروع ہوگئے۔ مطالبہ تو یہ بھی داغا جانے لگے کہ انہیں قیادت سے ہی نہیں ٹیم سے بھی فارغ کیا جائے۔

رنز کے حصول کے بھنور میں پھنسے گریگ چیپل جب  9  جنوری 1982کو میلبورن کرکٹ میدان میں بیٹنگ کے لیے  سر جھکائے اتر رہے تھے تو تماشائیوں کا شور تھا۔ پاکستانی ٹیم کے خلاف ورلڈ سیریز کے اس ون ڈے میچ میں گریگ چیپل کی بیٹنگ کو لے کر کئی خدشات جنم لے رہے تھے۔ قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ کیا ایک بار پھر آسٹریلوی کپتان ’ڈک‘ کی خفت کا سامنا کریں گے  اور ایسے میں کسی من چلے اور شرارتی  تماشائی نے  اپنے ساتھ لائی ہوئی بطخ  میدان میں چھوڑ دی۔ جو ٹی وی کیمروں کی آنکھ سے اوجھل نہ رہی، جو میدان کے ایک کونے میں مٹر گشت کرتی رہی لیکن اُس دن گریگ چیپل نے خود کو ’ ڈک‘  کا شکار بننے سے روکے رکھا اور   35رنز اسکور کر ڈالے۔ کون فراموش کرسکتا ہے  وہ منظر جب گریگ چیپل نے پہلا رن بنا کر اپنا کھاتا کھولا تو تماشائیوں نے ایسے داد دی جیسے انہوں نے کوئی سنگ میل عبور کرلیا ہو۔ خیر یہ اور بات ہے کہ اس میچ کے بعد اپنے آخری ون ڈے تک گریگ چیپل  4   بار اور ’ڈک‘ کے مالک بنے لیکن اس دوران   3 نصف سنچری اور ایک سنچری بنا کر ناقدین کے منہ بند کردیے۔ رہی بات ٹیسٹ میچ کی  تو یہاں انہوں نے  5  سنچریاں اور  3  نصف سنچریاں اسکور کیں اور صرف ایک بار ’ڈک‘ کو اپنے نام کے آگے سجنے دیا۔

گریگ چیپل نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ مسلسل صفر کی ہزیمت ملنے کے بعد ان کے دل و دماغ میں ایک جنگ چھڑ گئی تھی۔ انہوں نے اس پہلو کا جائزہ لیا کہ وہ آؤٹ کیوں اور کیسے  ہورہے ہیں۔ ٹی وی فوٹیج دیکھ کر اپنی خامیوں کو دور کیا ، اپنی بیٹنگ تیکنک میں بہتری لائے۔ لیکن ساتھ ہی وہ اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ سچ مچ کی   بطخ میدان میں چھوڑنے سے ان کے اندر بہتر سے بہتر پرفارمنس دینے کی  ایک تحریک شروع ہوئی کہ اب مخالفین کو بلے سے جواب دینا ہے۔

 

 

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *