Type to search

تجزیہ

آسیہ بی بی کے بعد پاکستان کے ایک اور مبینہ گستاخ مسیحی جوڑے پر دنیاکی نظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بات سے انکار تو بہر کیف ممکن نہیں کہ پاکستان میں ہر طبقے نے  قانون کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے اس بات سے مبرا نہ تو سیاست دان ہیں نا ہی مذہبی طبقات جبکہ موجودہ حالات میں تو پاکستان میں تقویت پانے والی سوچ سیکولرزم سے جڑے طبقات نے بھی قوانین پر تشویش اور استعمال کے حوالے سے چہ مگوئیاں کر کے خاصی شہرت کمائی ہے ۔ بطور کورٹ رپورٹر آج سے قریباً 6 سال قبل جب میں نے وکلاء کی کمیونٹی سے گفتگو شروع کی تو پہلے ہی انٹرویو میں مجھے سابق گورنر پنجاب ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے کہا کہ یاد رکھو قانون موم کی ناک ہے اور اس کو جیسے چاہو جب چاہو گھمایا جا سکتا ہے ۔

پاکستان کا توہین مذہب سے متعلق قانون نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل کر چکا ہے اور وقفے وقفے سے اس بابت حالات اور مطالبات سالوں سے ہمارے سامنے رکھے جاتے ہیں ۔ 295سی کے قانون کو عالمی سطح پر لانے میں جس کیس نے سب سے زیادہ کردار ادا کیا وہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس سے جڑے معاملات تھے جس میں ایک مسیحی خاتون آسیہ مسیح پر توہین رسالت کا مقدمہ درج ہوا اور بعدازاں سپریم کورٹ نے اسے بری کیا اور وہ اس وقت ملک سے باہر ایک ایکٹویسٹ کی حیثیت حاصل کر چکی ہیں ۔ایک گاؤں کے چھوٹے سے کھیت میں کام کرنے والی خاتون کو جس طرح عالمی اداروں اور ممالک نے سپورٹ کیا اور اس ملک سے راہ فرار دلوانے میں مدد دی وہ اپنی مثال آپ ہے مگر اب ایک نئے مسیحی جوڑے کی گونج عالمی دنیا سے آ رہی ہے جو تقریبًا پچھلے 7 سالوں سے جیل میں توہین مذیب کے الزام میں قید کاٹ رہا ہے جب کہ ان کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے ۔

حال ہی میں یورپی یونین کی جانب سے لگائی دھمکی زدہ قرار داد میں خاص طور پر اس کیس کا نا صرف حوالہ دیا گیا بلکہ مطالبہ کیا گیا کہ ان کو رہا کیا جائے ،اس مسیحی جوڑے (شگفتہ مسیح اور شفقت ایمینول) کے حالات سے متعلق کئی سال قبل بھی عالمی خبر راساں ادارے رپورٹ کرتے رہے ہیں ۔

یورپی پارلیمان میں جمعرات کو پیش کی جانے والی اس قرارداد جس کے حق میں 662 اور مخالفت میں صرف تین ووٹ ڈالے گئے، اس میں پاکستان کی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت کے قانون کی دفعات 295 سی اور بی کو ختم کرے۔

اس قرارداد میں حکومت پاکستان سے انسداد دہشت گردی کے 1997 کے قانون میں بھی ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ توہین رسالت کے مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں نہ کی جائے اور توہین رسالت کے مقدمات میں ملزمان کو ضمانتیں مل سکیں۔

یورپی یونین کی قرارداد میں خصوصی طورپر جس توہین مذہب کے کیس پر خدشات کا اظہار کیا گیا وہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینول کا ہے۔ قرارداد میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینول کے خلاف توہین رسالت کے الزامات کے تحت سنائی گئی موت کی سزا کو واپس لے کر ان کو فوری طور پر رہا کریں۔

شفقت ایمینول اور شگفتہ کوثر کو سنہ 2014 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی جس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔ شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینول کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ انہیں تمام طبی سہولیات مہیا کریں۔

اسی جوڑے سے متعلق اسی سال فروری میں بھی عالمی خبر رساں ادارے دی گارڈین نے بھی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینول ، جو 2013 سے قید ہیں ، انہیں پاکستان کے توہین رسالت کے قوانین کے تحت “مذہبی توہین رسالت”  سے متعلق ٹیکسٹ بھیجنے کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی تھی جس میں  پیغمبر اسلام کی توہین کی گئی تھی۔ پاکستان میں ایک عدالت نے توہین مذہب کے الزام میں مجرم قرار دئیے جانے کے بعد سن 2014 سے سزائے موت پر رہنے والے مسیحی جوڑے کے لئے اپیل کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ہے۔ مسیحی جوڑے پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے فون سے توہین آمیز ٹیکسٹ میسج سینڈ کیا تھا جس کا سم کارڈ کوثر کے نام پر رجسٹرڈ تھا ۔ تاہم اس جوڑے نے ان الزامات کی تردید کی ہے اورکہا ہے کہ سم کسی نے ان کے قومی شناختی کارڈ کی کاپی استعمال کر کے حاصل کی تھی۔ ان کی اپیل کے آغاز کو چھ سال ہونے کو ہیں ، اور اس جوڑے کے اہل خانہ اور وکلاء نے اس پر مایوسی کا اظہار کیا کہ سماعت پھر غیرمعینہ مدت کے لئے موخر کردی گئی۔ سیف الملوک جو اس مسیحی جوڑے کے وکیل ہیں ، نے اسلام آباد میں جج پر الزام عائد کیا کہ وہ خوف کے مارے کیس کی سماعت سے گریز کرتے ہیں کیوں کہ توہین رسالت کے معاملات انتہائی متنازعہ ہوتے ہیں اور اس میں ملوث افراد کے لئے اکثر خطرناک ہوتے ہیں۔ پچھلے سال جولائی میں توہین مذہب کے مقدمے میں ایک شخص کو پشاور کے ایک کمرہ عدالت میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا  جس سے ججوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ہمیں اگلی سماعت کے لئے ایک تاریخ تک نہیں دی گئی ہے۔ جج خوف کے سبب کیس میں تاخیر کرتا رہتا ہے ، لیکن اب یہ کافی ہے۔ یہ سنا جانا چاہئے۔ مجھے ان کی جان سے خوف ہے ، ” جب تک سیاسی یا بین الاقوامی دباؤ نہ ہو پاکستان میں ججز توہین مذہب کے معاملات شاز و نادر ہی سنیں گے۔ میرے مؤکلوں کے خلاف کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہے  اور انہیں بہت پہلے رہا کیا جانا چاہئیے تھا۔ ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق  پاکستان میں توہین رسالت کے الزامات اکثر مذہبی اقلیتوں کو ڈرانے اور ذاتی پوائنٹ اسکورنگ کو طے کرنے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کوثر اور ایمینول کو صوبہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں دو الگ الگ جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ دونوں الگ الگ خلیوں میں ہیں ، جو دوسرے قیدیوں سے الگ ہیں ، کیونکہ خدشہ ہے کہ اگر وہ دوسرے قیدیوں کے ساتھ اختلاط کریں گے تو ہلاک ہو سکتے ہیں۔

جوڑے کے قریبی افراد بھی اپنی جان سے خوفزدہ ہیں۔ کوثر کے بھائی جوزف ، جو اپنا آخری نام اور رہائش گاہ شیئر نہیں کرنا چاہتے تھے، گرفتاری کے فوری بعد ہی جب انہیں خود کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تو وہ یورپ روانہ ہوگئے۔ انکا کہنا ہے کہ میرے  بہنوئی جسمانی طور پر تقریباً مر چکے ہیں ، کیونکہ وہ فالج کا شکار ہیں اور اپنا نچلا جسم منتقل نہیں کر سکتے جبکہ میری بہن ذہنی طور پر مر چکی ہیں کیونکہ وہ چھ سالوں سے تنہا رہ رہی ہیں اور انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ لوگ اسے جیل میں بھی قتل کر سکتے ہیں۔ وہ بہت پریشان ہیں۔ جوزف نے کہا کہ یہ الزامات جھوٹے ہیں اور جوڑے نے پیغمبر کی توہین بالکل نہیں کی۔

جوزف نے کہا ، “مولوی نے ضرور غلط الزامات لگائے ہوں گے۔” “افسوس کی بات یہ ہے کہ ججوں نے سماعت ملتوی کردی۔ یہ نظام عدل کی ناکامی ہے۔ جج وہاں سے چلے جاتے ہیں ، وہ سننا نہیں چاہتے ، جبکہ ہم ، کنبہ کے افراد صدمے سے دوچار ہیں اور خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے توہین رسالت کے قوانین کے تحت الزام عائد کسی کو پھانسی نہیں دی ہے ، لیکن ملک میں توہین رسالت کے مرتکب افراد میں سے کم از کم 17 افراد موت کی سزا پر ہیں جبکہ متعدد دیگر افراد کو اسی طرح کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ سیف الملوک نے کہا کہ اس جوڑے کے معاملے اور آسیہ بی بی کے بیچ میں بہت سی مماثلت ہیں۔ آسیہ بی بی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ، جس کا معاملہ ایک دہائی کے لئے موخر ہوا اور اس کی سماعت صرف اس وجہ سے ہوئی کہ مغربی حکومتوں کا کچھ دباؤ تھا۔

دی گارڈین کی اس رپورٹ کے بعد یورپی یونین کی جانب سے کئی سو ممالک کی پاس کی گئی قرار داد میں اب آسیہ بی بی کے بعد اس جوڑے کا خصوصی تذکرہ عقل والوں کے لئے کئی نئے تاریخی باب کھولنے کے لئے کافی ہے

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *