Type to search

خبریں

الیکٹرانک ووٹنگ کی حکومتی تجویز ، فافن نے ریفرنڈم کرانے کی تجویز دے دی

  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی قانون 2017 میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بائیومیٹرک مشینوں جیسی ترامیم متعارف کروانے میں عجلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے بلکہ ناگزیر انتخابی اصلاحات پر عوامی مباحثے اور سیاسی مکالمے کا آغاز کیا جائے، متناسب نمائندگی اور الیکٹرانک ووٹنگ پر ریفرنڈم کروایا جائے ۔

فافن نے اپنے بیان میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کے اس اتحاد نے سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ انتخابی عمل میں بہتری اور جمہوریت کے استحکام کے لیے عامیانہ حل تجویز کرنے کی بجائے مبادیات کی طرف لوٹیں ، اس وقت ایسے عملی اقدامات کی ضرورت ہے جس سے انتخابی نظام زیادہ شمولیتی ہو نے کے ساتھ ساتھ اس قابل ہو جائے کہ وہ سیاسی، نسلی اور مذہبی تنوع کو تفریق او رتقسیم کا منبع بنانے کی بجائے اسے طاقت بنا لے۔ اس وقت اشرافیائی جمہوریت کا جو ماڈل ہمارے ہاں موجود ہے، اس پر دوبارہ غور کی ضرورت ہے۔

فافن نے مزید کہا کہ آبادی کی بجائے حلقہ بندیاں ووٹروں کی تعداد کے حساب سے کی جائیں تو زیادہ بہتر ہیں۔ اگرچہ حکومت نے انتخابی قانون ترمیمی بل 2020ء میں آبادی کی بجائے ووٹروں کی تعداد کے اعتبار سے حلقہ بندیاں کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم اس پر بھی سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات ہونے چاہییں۔ فافن کی ایک سفارش یہ بھی ہے کہ کلیدی انتخابی اصلاحات جیسے قومی اہمیت کےمعاملات پر ریفرنڈم منعقد کروایا جائے جس کی اجازت آئین پاکستان نے دی ہے۔ اس طرح کے سوالات کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ جمہوریت مضبوط ہو سکے۔ ریفرنڈم کے سوالوں میں یہ سوال بھی شامل کیے جائیں کہ کیا عوام الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں /بائیومیٹرکس کے حق میں ہے اور آیا عوام متناسب نمائندگی والا انتخابی نظام چاہتے ہیں۔ دستور پاکستان کا آرٹیکل 48(6) کے مطابق اگر وزیراعظم کسی بھی قومی اہمیت کے معاملے پر ریفرنڈم منعقد کروانا چاہیں تو وہ یہ تجویزپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کر سکتے ہیں اور مشترکہ اجلاس کی جانب سے منظوری کی صورت میں وزیراعظم اس معاملے کو ریفرنڈم کی شکل میں ایک ایسا سوال بنا دیں گے جس کا جواب ہاں یا ناں کی صورت میں دیا جا سکے۔

حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے مسئلے بشمول مشینی ووٹنگ اور بائیومیٹرک مشینوں کے استعمال پر جس طرح کی عجلت دکھائی جا رہی ہے، وہ تشویشناک ہے۔ اس عجلت سے اس سیاسی مکالمے کے نتائج پر سوال کھڑے ہو جائیں گے جو انتخابی اصلاحات کے مسئلے پر منعقد ہو سکتا ہے۔ انتخابی عمل کی اثرپذیری، شفافیت اور یکسانیت کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت بجا مگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بائیومیٹرک پر منتقل ہونا ایک بڑی تبدیلی ہے جسے ایک بھرپور عوامی اور سیاسی بحث اور مکالمے کے بغیر متعارف نہیں کروانا چاہیے۔ جمہوریت کے مضبوطی کے لیےکیے جانے والے اقدامات آرڈیننس کے ذریعے متعارف کروانا تو بلاشبہ کوئی اچھا طریقہ نہیں ہو سکتا۔

فافن کا کہنا ہے کہ یہ حق صرف شہریوں کے پاس ہونا چاہیے کہ وہ اپنے دستوری حق رائے دہی سے متعلق فیصلے کر سکیں۔ اس طرح کے عوامی اہمیت کے معاملات کے لیے دستور سازوں نے ریفرنڈم کی گنجائش رکھی ہے۔ ریفرنڈم کا عمل سیاسی جماعتوں کو یہ موقع فراہم کرے گا کہ وہ ٹیکنالوجی کے استعمال پر اپنا موقف پاکستانی شہریوں کے سامنے رکھیں۔ اس عمل سے پاکستانی شہریوں میں سیاسی خوداختیاری کا احساس بھی پیدا ہو گا جس کی اشد ضرورت ہے ۔تمام شہری مستقبل کے انتخابی فریم ورک کو شکل دینے کے عمل میں براہ راست شریک ہوں گے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *