Type to search

تجزیہ

محاصرہ ملتان 1848، ایک ڈرامائی بیانیہ ( حصہ اول)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1اپریل 1848 تا جنوری 849


(
مآخذات : جاہن جونز کولے، مرزا ابن حنیف، احمد رضوان اور دوسرے ذرائع )

تعارف : ریاست ملتان کی قدامت، دریائے سندھ اور چناب کی عطا کردہ خوشحالی اور اہم ترین محل وقوع کیوجہ ریاست ملتان کے ایک نہیں کئی محاصرے ھوئے اور ھوئے ھونگے، کچھ معلوم اور کچھ نا معلوم ۔ مثلاً 325 قبل مسیح میں مقدونیہ کے سکندر کا محاصرہ، 1296 میں علاوالدین خلجی کا محاصرہ مگر تاریخ میں جسقدر جُزیاتی تفصیل برطانوی محا صرے کی موجود ھے کِسی اور محاصرے یا حملے کی موجود نہیں ھے ۔ کسی بھی ڈرامائی بیانیے میں واقعات، کردار اور تنازعات ڈرامائی ایکشن کی جان ھوتے ھیں، اور 1848 میں کئیے گئے برطانوی محاصرے میں یہ تمام خوبیاں موجود ہیں اِسی لئے برطانوی محاصرہ شاید واحد محاصرہ ھے جسے اپنی مکمل ڈرامائی خوبیوں سمیت دوبارہ بیان کیا جا سکتا ھے ۔ اور زیر نظر تحریر اسی نوعیت کی ایک کوشش ہے ـ

پہلا درشن
قلعہ کہنہ کی طرز تعمیر ، اندرون ملتان اور گردو نواح کا ماحول
(مارچ : 1849)

دریائے چناب سے تقریبآؔ چار میل مشرق میں دُنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک شہر ملتان آباد ھے ۔ لاھور کے بعد پنجاب کا یہ دُوسرا بڑا اور معروف شہر ہے جسکی شہر پناہیں مضبوط ، مرکزیت مُسلمہ ، راستے چہار گُونہ، پیداوار وافر اور تجارت مُنافع بخش ھے ۔ ایک اندازے کی مطابق فصیل کے اندر باریک اینٹوں سے اُستوار کئے گئے لگ بھگ دس ہزار مکانات موجود ہیں ہر چند کہ گلیاں تنگ مگرکَمرے کُشادہ، روشن اور ھوا دارار ھیں ۔ زیر زمین پانی قریب اور میٹھا ہے اور تقریباً ہر گھر اور دالانوں میں تنگ منہ والا کنواں موجود ہے ۔ ذیادہ تر مکانات دو منزلہ ہیں جن کے دروازے کندہ کاری سے مزین اور بعض مکانوں کی بیرونی دیوار پر نیلگوں اور دوسرے رنگوں کی پچی کاری کی گئی ہے ـ خوبصورت چوبی بالکنیاں یا بالائی منزلوں کے چھجے بہر کو نکلے ھوئے ہیں ـ جاہن جونز کولے کے مُطابق ایسے مکانات میں برطانوی شہری بھی ہنسی خوشی آباد ھو سکتے ہیں ۔ تاھم برصغیر کے دوسرے بہت سے شہروں کیطرح یہاں بھی بہت سے محلے اور گھر ایسے آباد ہیں جہاں مُفلس اور کمزور لوگ آباد ہیں ۔ ایسے بھی بہت سے گھر ہیں جِن میں کھڑکیاں اور روشندان کم اور روشنی کا گُزر مُشکل ہے ۔ زیادہ تر گلیاں آڑی ترچھی، ٹیڑھی میڑھی اور کچی ہیں ۔ کچھ گلیوں میں پکی اینٹوں کا فرش بھی چُنا ھوا ھے مگر سطح نا ھموار ہے ۔ ھندُو، مسلمان اور سِکھ سب کو مِلا جُلا کر اندرون شہر کی مجموعی آبادی کوئی پچاس ھزار کے لگ بھگ ھو گی ۔

شہر میں خرید و فروخت، لین دین، کاروبار اور تجارتی سرگرمیاں عروج پر ھیں ۔ گلیوں اور بازاروں میں صبح سے شام تک لوگوں کا آنا جانا، میل جول اور کاروباری معاملات رواں دواں رہتے ہیں ۔ مُلتان کے رنگساز، کاشیگر، درکھان، تعمیرات کے ماھر اور ظروف ساز اور پچی کار، جولاھے اور قالین باف ھندوستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ھمسایہ مُلکوں کیساتھ بھی لین دین اور کاروبار کرتے ہیں ۔ بعض صورتوں میں اپنا ہُنر اور لکڑی، مِٹی، تانبے اورچمڑے کے اشیاء، برتن اور اونی کپڑوں کی مصنوعات ایران، افغانستان، تاجکستان، ترکمانستان اور وسطی ایشیاء کے دوسرے شہروں تک ارسال کرتے ہیں ـ سندھ ، دلی، کشمیر، اجمیر، ممبئی اور کلکتہ تک ملتان کی نوع بنوع مصنوعات فروخت ہوتی ہیں اور دور دراز کے دوسرے شہروں اور مُلکوں کی مصنوعات  ملتان شہر میں لائی اور فرخت کی جاتی ہیں ـ

ملتان شہر تین اطراف سے پکی اینٹوں سے بنی ھوئی چوڑی، اُونچی اور توانا فصیلوں سے محفوظ کر دیا گیا ھے ۔ جِسکے اُوپر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر نیم دائروی بڑے بڑے چبوترے ایستادہ کئے گئے ھیں تاکہ دشمن پر نظر رکھی جا سکے اور خطرے کی صورت میں گولہ بارُود یا بندوقوں سے حملہ بھی کیا جا سکے ۔ قلعے کے شمال مغربی جانب تنومند د پُشتے لگائے گئے ہیں اور اِسی طرف کچھ مٹی کے ٹُوٹے پُھوٹے ٹیلے بھی ھیں جو درمیان والی ڈھلوان سے کوئی 100 گز تک ایک طرف سے دوسری طرف چلے جاتے ہیں مگر اِسی پہلُو سے قلعے کی دیوار کو دوبارہ تیار کیا گیا ھے، ایسی مہارت سے کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں دنگ رہ جائیں اورھم بعد میں یہ بھی دیکھیں گے کہ کِس طرح یہ حصہ برطانوی بمباری کو بردباری سے برداشت کرتا ھے ۔

مجموعی طور پر قَلعے کے پانچ دروازے ھیں (جو آجکل گیٹ کہلاتے ہیں): دولت دروازہ اور دلی دروازہ شمال اور شمال مغرب کی جانب، پاک اور حرم دروازہ کم و بیش جنوبی سمت اور عظیم الشان بوھڑ دروازہ مشرقی رُخ ایسے ٹھہرا ہوا ہے جیسے دو محافظ آمنے سَامنے اپنا دایاں اور بایاں بازو تھام کر ایک محراب سی بنائے ھوئے کھڑے ہوں، اور ایک کے دائیں اور دوسرے کے بائیں بازوں میں تیز دھار اَنی والے آہنی نیزے زمین پر ٹِکے ھوئے ھوں ۔

سائز کے لحاظ سے ہندوستان کے نسبتاً چھوٹے قلعوں میں ملتان کا قلعہ شاید سب سے زیادہ ٹھوس اور مَضبوط قلعہ ھے ۔ دیواریں مِٹی کے ایک بہت بڑے ٹیلے پر چاروں اور ایک دوسرے کے اوپر اور اندر باھر کھڑی کی گئی ہیں ۔ فصیلوں سے باھر مِٹی کی ڈھلوانیں کافی دُور تک چلی جاتی ہیں ۔ اطراف کی گہری زمین سے ڈھلوان تک کا فاصلہ بھی تیس فُٹ سے کم نہیں ھوگا ۔ قلعہ کی ڈھلانی دیواروں کو چونا، مُنجی، اور گارے کا مِکس میٹیرئیل تیار کرکے انتہائی طاقتور کر دیا گیا ھے ۔ تاھم قلعے کی دیواریں انتہائی مہارت، تجربے اور جانکاری سے پَکی اینٹوں کیساتھ چُن کر بھاری بھرکم، جسیم اور کافی چوڑی بنا دی گئی ھیں ۔ اور تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر باہر کو نکلے ھوئے بڑے بڑے چبوترے ھیں جن پر توپیں نسب کرنے کے لئیے تین یا تین سے ذیادہ بُرجیاں بنا دی گئی ھیں  ۔ البتہ قلعے کے پشتوں سے ڈھلوانی زمین کی گہرائی تک حفاظتی منڈیروں کے بغیر نسبتاً کمزور تین پُلیں ھیں، جن کو جنگ کے دوران آسانی سے حدف بنایا جا سکتا ھے ۔ یہاں یہ ذکر کرنا بے جا نہ ھوگا کہ محاصرے کے دوران تقریباً دونوں پُلوں سے طلب اور رسد تقریباً بند کردی گئی اور غالباً متبادل راستہ اختیار کیا گیا ـ

قلعے کی دیو ہیکل بُرجیوں کی دیواریں، جِن کے اندر پرانی طرز کی توپیں نصب ھیں، نسبتاً چھوٹی ھیں – اِس قدر کہ یہاں پر جَڑی گئی توپیں زمین سے صاف دکھائی دیتی ہیں ۔ قلعے کا تیسرا اور آخری پُشتہ جہاں پر قلعہ ختم ھوتا ھے کم و بیش غیر اھم نظر آتا ھے جو کہ قلعے کی پائیداری میں شاید ھی کوئی اضافہ کرتا ھو – مگر اِسی بیرونی دیوار میں کُچھ کُچھ فاصلوں کے بعد گنبد نما بڑی بڑی عِمارتوں کی ایک ترتیب  سی ھے جن کے اندر قلعے کی محافظ افواج قیام کرتی تھیں اور کر رھی ھیں – ویسے تو یہ عمارتیں کُشادہ اور فوجی رہائش کے لئے انتہائی مناسب ھیں لیکن اتنی غیر محفوظ اور آگے کو اِسطرح نِکلی ھوئی کہ بڑی آسانی سے توپ کے گولوں اور فائرنگ کی زد میں آسکتی ہیں ۔ اِسی لئے وھاں پر موجود سپاہیوں نے بہت جلد اُنکو تَرک کر دیا۔

قلعہ کے اندر وسیع و عریض میدان کم و بیش خالی پڑا ھے ۔ تاھم تقریباً وسط میں مُولراج کا گھر اور با غیچہ ھے ۔ اسلحہ خانے، بارود گھراورکُچھ چھوٹی چھوٹی عمارتیں اِدھر اُدھر بِکھری ھوئی ہیں ۔ چاردیواری کے اندر شمالاً جنوباً ایک بڑی سی خُوبصورت مسجد بھی ھے جسکا دیو ہیکل گنبد دور سے نہایت عالیشان نظر آتا ھے ۔  ساتھ ھی ساتھ قَلعے کے اَندر کئی چھوٹے بڑے ٹیلے اور کُچھ بُرجیاں ھیں جن کے اوپر پرانے ڈیزائن کی سینکڑوں گز تک نشانہ باندھنے والی بندوقیں اور توپیں جما دی گئی ھیں ۔ یہ توپیں بِلا شُبہ کافی فاصلوں تک دشمن کو حدف بنانے کی صلاحیت رکھتی ھیں اور یہ بڑی حد تک قلعہ ملتان اور اُسکی نواحی آبادیوں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہی ھیں ۔

حقیقت یہ ھے کہ محاصرے کے دوران یہ توپیں اور بُرجیوں پر ایستادہ دور مارک کرنے والی بندوقوں کو اگر چہ مکمل طور پر خاموش تو نہیں کیا جا سکا تھا مگر کئی بار اِنکو اپنی سمت اور حدف تبدیل کرنا پڑی ۔ بد قسمتی سے وہ حملہ آور قبضہ گیر انگریزی فوج کو ایک خاص حد سے زیادہ نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ھوسکیں ۔ مرکز میں موجود پُر شکوہ مسجد سے جنوب کی جانب ملتان شہر کا سادہ مگر صاف ستھرا اور دیدہ زیب منظر دیکھا جا سکتا ھے ۔ یہاں سے مُلتان کے رگ و پئے میں آباد حیات بخش، سرخی مائل دھیرے دھیرے بِہنے والا دریائے چناب واضح دِکھائی دیتا ھے ۔ حتٰی کہ چناب اور ہندوستانی ثقافت کے امین عظیم دریائے سندھ سے دُور مغرب کی جانب پُراسرار دیوتاؤں کے مَسکن کوہ سلیمان کا  سلسلہ بھی دُھندلا دُھندلا سا دیکھا جا سکتا ھے ۔

مُلتان شہر کے  گِرد ایک گھنا جنگل آباد ھے، جس میں شیشم، پیپل، نیم، کیکر اور برگد کے نہایت سرسبز اور دائیں بائیں پھلتے پھولتے ھوئے صَد شاخہ درخت لہلہاتے رہتے ھیں ۔ مالٹا، آم، شہتوت اور کھجوروں کے باغات ھیں جو موسم مطابق ہرے بھرے اور پھلوں سے لدے پھندے رہتے ہیں ۔ اِن کے عِلاوہ اور بھی کئی طرح کی جھاڑیاں، خُود رو پودے، چھوٹے موٹے درخت پودے اور پھل پھول عام ہیں اور یہ سب مل کر ملتان کے گردونواح کا منظر اِنتہائی خوبصورت بنا دیتے ہیں ـ

اس کے علاوہ پورے شہر میں مسلمانوں کی محراب دار مساجد، ہندووں کے تکونی مندر اور دونوں دھرموں سے متعلق بہت سے اور معبد دربار اور دوسرے مقدس مقامات ادھر ادھر استوار نظر آتے ھیں ۔ دُور سے یہ ساری عِمارتیں موزیک کی طرح انتہائی دلکش، رنگا رنگ اور متنوع منظر پیش کرتی ہیں جبکہ مقامی لوگوں کے نزدیک اپنے اپنے عقیدے کے مطابق سب کی سب انتہائی مقدس اور معتبر حیثیت رکھتی ھیں ۔

پیرانِ پیر شاہ شمس تبریز اور دیوان سانول مَل، دونوں کے مقبرے قابل ذکراور نمایاں ہیں ۔ اولذکر کو انگریزوں نے اپنی توپوں کے گولے داغ داغ کر  بڑی حد تک تباہ کر ڈالا جبکہ ثانی الذکر کے درودیوار تو بڑی حد تک محفوظ ھیں مگر اس پر تزئین و آرائش کے لئے کئے گئے کاشی کاری اور کندہ کاری کے کام کو انگریزی آتش و بارود کے پئے در پئے حملوں نے بہت ذیادہ نقصان پہنچایا ۔

اِسی پس منظر میں عید گاہ ملتان بھی خصوصی اھمیت کی حامل ھے کیونکہ یہی وہ جگہ ھے جہاں پر دو صاحبِ امتیاز مگر جاسوس صفت اور کمپنی بہادر کے آلہ کار انگریز، جو اپنے تئیں قلعہء مُلتان کو اپنی تحویل میں لینے کیلئے آئے تھے، ملتان کے والیوں اور محافظوں نے ٹھکانے لگا دیّے، (اس واقعہ کے اَسباب وعواقب آگے بیان کئے جائیں گے) ۔

عید گاہ قلعہ کُہنہ کے شمال میں واقع ھے اور حفاظت کے پیش نظر قلعہ کی توپوں کے حدف کے دائرہ کار میں شامل ھے ۔ یہ مسجد مُغل بادشاہ محمد شاہ کے دور میں ملتان کے گورنر نواب عبد الصمد خان تورانی (1726 تا 1738) نے 1735 میں تعمیر کروائی تھی ۔  اِسکے سامنے ایک سڑک دربار شاہ شمس اور دولت دروازے کیطرف آتی ھے ۔ مسجد کا دالان 250 فٹ لمبا اور 50 فٹ چوڑا ھے ۔ اِسکے دونوں اطراف میں تین تین اور چھوٹے چھوٹے گُنبد ھیں جوکہ مسجد کے دالان سے ذیادہ واضح نظر آتے ھیں ۔ مَسجد کے اِحاطے کا فرش اپنی لمبائی چوڑائی میں دالان سے بڑا ھے ۔ دالان سے عید گاہ کے جنوب مشرق میں ایک تاریخی مزھبی شخصیت  کا مزار ھے جس کا نیلا گنبد ماہرانہ طرز تعمیر کی علامت اور مغل أرکیٹیکٹ کا موثر اظہار ھے ۔ مسجد میں داخل ھونے کے پانچ دروازے ھیں ۔ مگر افسوس کہ یہ عدم توجہ اور متقاضی مُرمتوں سے محرومی کیوجہ سے شکست و ریخت کا شکار ھیں ۔ مسجد کے داخلی دروازے پر کوئی تحریر کندہ نہیں ہے البتہ گُنبد کے اوپر ‘اللہ الصمد’ لکھا ھوا ھے ۔  عین ممکن تھا کہ متداول زمانہ سے یہ عبادت گاہ اپنی اہمیت کھو دیتی مگر انگریزوں کی توسیع پسندانہ جارحیت کی مزاحمت کرتے ھوئے یہیں پر دو انگریزوں یعنی پیٹرک وانز اگینو اورولئیم اینڈرسن کو قتل کرنے کیوجہ سے یہ مسجد ایک بار پھر ھندوستانی عوام کی نظروں میں تاریخی اہمیت اختیار کر گئی ۔

اندرون ملتان سے باھر بہت سے باغات ھیں جہاں اِکا دُکا انگریز آباد ھونا شروع ھو گئے ہیں اور یہاں سِوّل اتھاریٹیز کے دفاتر بننا بھی شروع ھو گئے ھیں ۔ اَلنگ سے باہر اور شہر کے گردو نواح میں سینکڑوں کچے پکے، زیادہ تر کچے، مکانات ہیں اور ان میں سے کئی ایک کی حالت نا گُفتہ بہ ھے ۔ اِن بستیوں میں سے گزرنا یا گھومنا پھرنا انگریز فوج کے لئے بالخصوص جنگ کشی کے دوران کوئی آسان بات نہ تھی ۔ قلعہ ملتان کے شمال مشرق میں ترک کردہ اینٹوں کے بھٹوں کے تین بڑے بڑے ٹیلے ٹیلے ہیں جن کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ اِس جگہ پر بھی انگریزوں کے خلاف پہلی اور دوسری لشکر کشی کے دوران پاسدارانِ ملتان نے سخت مزاحمت کی تھی ۔ آبادی سے باھر کے میدان اور کھیت کھلیان کم وبیش ھموار اور نہایت زرخیز ہیں جنکی آبیاری ایک طرح کے منصوبہ بند اور موثر نہری نظام اور کنووں سے ھوتی ھے ۔  یہاں پر اعلیٰ کوالٹی کا مقامی چنا، جو، گندم اور باجرہ کاشت کیا جا تا ھے ۔ بہت سی کپاس اور کچھ تمباکو بھی لگایا جاتا ھے اور تھوڑی سی افیون بھی مگر اِسکی کوالٹی ناقص ھے ۔ ساگ، شلجم، سُہانجنا، بینگن، آلو، دھنیا ، پیاز، لہسن، گوبھی اور ریوند چینی اور بہت سی دوسری خوشبودار سبزیاں اور پھل نہایت وافر مقدار میں ھوتے ھیں ۔ اَن گنت گائیں، بھینسیں اور بھیڑ بکریاں جنگل میں چہار جانب آزاد گھومتی پھرتی اور قدرتی چراگاہوں سے سیر ھوتی ہوئی ملتی ہیں ۔ تاہم مجموعی طور پر ملتان کی آبادی انتہائی کم ھے، اسی طرح زمین کے بڑے بڑے زرخیز خطے عدم توجہ اور اور انتظام کاری سے عاری ھونے کی وجہ سے انتہائی کم پیداوار دے رھے ہیں جو کہ تھوڑی سی محنت، توجہ اور منصوبہ سازی سے سالانہ علاقائی پیداوار میں دس گناء اضافہ کر سکتے ہیں ۔

مْلتان کی گرم مرطوب ، قدرے غیر دوستانہ اور غیر مہمان نوازانہ آب و ہوا کے بارے میں بہت کُچھ لکھا اور کہا جاتا ھے ۔ اور یہ بھی کہا جاتا ھے کہ یہاں کی گرمی جہنم کی گرمی سے کم نہیں ھوگی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملتان کے چھ مہینے کم و بیش شدید تپش اور حبس میں گزرتے ہیں اور ھندوستان کےچند ہی اور علاقے اس قدر گرم ہونگے جس قدر ملتان ہے ـ لیکن ساتھ ہی ساتھ ملتان کی خوبی یہ ھے کہ یہاں پر مُسلسل ھوا چلتی رہتی ھے اور شام کو فضاء اسقدر مُعتدل ھوجاتی ھے کہ نو وارد انگریز اور یورپیئن بھی چین کی نیند سو سکتے تھے ۔ راتیں، ھوا میں نمی کا تناسب کم ھونے کے باوجود خوبصورت، نسبتاً ٹھنڈی میٹھی اور آرام دہ ھوجاتی ھیں ۔ جہاں تک آب و ھوا کا تعلق ھے ہندوستان کے وسیع و عریض خطے میں کم ہی علاقے اتنے فرحت افزا ہیں جہاں پر یورپئین اور انگریز افواج بھی تسلی بخش طریقے سے ٹھہرسکتی ہیں، بشرطیکہ اُن کے لئے بڑے بڑے، ھوادار اور قابل رہائش کوارٹرز کی مسلسل اور مخصوص تعمیر کی جائے جو گرمیوں اورسردیوں دونوں کے لٖئے موافق حال ہو ۔ اسی طرح بیرکوں کی تعمیر کے لئیے اونچی جگہوں کی تلاش بھی ضروری ھے، یہ ذہن میں رکھتے ھوئے کہ کم بارشی علاقہ ھونے کے باوجود ایسا ھرگز نہیں کہ یہاں پر بارش ھوتی ھی نہیں ھے ۔ اور جب بارش ھوتی ھے تو پھوڑے پھنسیاں، بخار اور پیچش کی وباء عام پھیل جاتی ھے جو کہ عدم مطابقت اور قوت مدافت نہ ہونے کے باعث یورپئن افراد اور افواج کے لئیے نہایت خطرناک تھی ۔ مگر اُن کے لئے خوش آئیند بات یہ تھی کہ ملتان میں بارش ھوتی ہی نہایت کم ھے ۔ مقامی لوگوں سے بات چیت کرکے معلوم ھوا کہ گزشتہ 7 سالوں میں بارش تقریباً نہ ھونے کے برابر ھوئی تھی جبکہ چودہ سالوں میں نہایت قلیل ۔ آب و ھوا کے نا مہرباں مزاج کے با وجود ، جاہن جونز کولے کے نزدیک ، ملتان،  برطانوی آباد کاروں کے لئیے بہت سے اور افادوں اور وسائل کی دستبرد کے لئے ایک بہتر ین مقام ثابت ھو سکتا تھا اور سب سے بڑھ کر دریائے چناب کی ھمسائیگی کے سبب جو نقل و حرکت کے لئے معاون ثابت ہو سکتا تھا ۔ دریائے چناب ایک بڑے پاٹ والا گہرا اور سرعت سے بہنے والا دریا ھے اور ملتان کی زرعی پیداوار اور مال مویشی کی بڑھوتری میں اِسکا نہایت اھم کردار ھے اور یہ بار برداری کے لئے بھی استعمال ھو سکتا ھے ۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *