Type to search

سیاست فیچر

سیاست نوے کی دہائی میں، قسط 4: بینظیر بھٹو کے قتل کے منصوبے، اور 1995 کی بغاوت جو کچل دی گئی

اکتوبر 1993 میں تازہ انتخابات منعقد کروائے گئے۔ تعداد میں مسلم لیگ سے کم ووٹ حاصل کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں 86 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ مسلم لیگ نے 72 نشستوں پر برتری حاصل کی۔ صوبائی انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اور جونیجو لیگ پر مشتمل اتحاد نے پنجاب میں حکومت قائم کی، صوبہ سرحد میں مسلم لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی کے اتحاد نے حکومت قائم کی، سندھ میں پیپلز پارٹی نے واضح برتری حاصل کی اور بلوچستان میں مسلم لیگ نے عوامی نیشنل پارٹی کے تعاون سے حکومت تشکیل دی۔

صرف 16 نشستوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ بننے والے جادوگر

پنجاب میں دو سو چالیس میں سے صرف سولہ نشستوں والی جماعت کے رہنما منظور وٹو نے (پیپلز پارٹی کے بھرپور تعاون  کے باعث) وزارت اعلیٰ حاصل کی۔ صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کے رکن پیر صابر شاہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے، بلوچستان میں مسلم لیگ کے امیدوار نواب ذوالفقار مگسی اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سید عبداللہ شاہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ نومبر 1993ء میں صدارتی انتخابات منعقد ہوئے۔ اصل مقابلہ پیپلز پارٹی کے نامزدکردہ امیدوار فاروق لغاری اور مسلم لیگ کے وسیم سجاد کے مابین تھا۔


یہ بھی پڑھیے: سیاست نوے کی دہائی میں، قسط 3: نئی حکومت، پرانے اسباق


فاروق لغاری نے 274 جبکہ وسیم سجاد نے 168 ووٹ حاصل کیے۔ انتخاب کے بعد مقننہ کے مشترکہ اجلاس کرتے ہوئے اپنی پہلی تقریر میں صدر مملکت فاروق لغاری نے آٹھویں آئینی ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ بینظیر صاحبہ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ لغاری صاحب کے انتخاب کے باعث آٹھویں ترمیم اگلے پانچ سال کے لیے غیر مؤثر ہو جائے گی۔

بینظیر کو قتل کرنے کی پہلی سازش

تازہ انتخابات سے قبل بینظیر بھٹو کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا ایک اور منصوبہ تیار تھا۔ اس مرتبہ رقم سپاہ صحابہ کی جانب سے حاصل کی گئی تھی اور ذمہ داری رمزی یوسف نامی دہشت گرد پر ڈالی گئی تھی۔ شریف حکومت کے خاتمے کے ایک ہفتے بعد رمزی یوسف نے دو افراد، عبدالحکیم مراد اور عبدالشکور کے ہمراہ بلاول ہاؤس کا رخ کیا۔ اس آپریشن لئے اسلحہ صوبہ سرحد میں پبّی کے علاقے سے خریدا گیا تھا اور اس منصوبے کے لئے نوے ہزار ڈالر سپاہ صحابہ نے عطا کیے تھے۔ آخری وقت پر رمزی اور اس کے ساتھیوں کو پولیس نے بلاول ہاؤس کے باہر بم رکھتے دیکھ لیا اور وہ لوگ جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔ بم رمزی کے ہاتھ میں ہی پھٹ گیا اور اس کے ساتھیوں نے فرار ہوتے ہوئے اسے زخمی حالت میں ٹیکسی میں ڈالا۔ پہلے منصوبے کی ناکامی پر ایک اور منصوبہ بنایا گیا کہ نشتر پارک میں خطاب کے دوران بینظیر پر گولی چلائی جائے گی لیکن اس کام کے لئے چنا گیا آدمی مقررہ وقت پر سکھر سے کراچی نہیں پہنچ سکا۔

سنہ 1993 میں سیلاب کے باعث کپاس، چاول اور گنےّ کی فصلیں شدید متاثر ہوئیں اور معاشی لحاظ سے پاکستان کی حالت بد سے بدتر کی جانب بڑھ رہی تھی۔ ان حالات میں نئی حکومت کی توجہ معیشت سے زیادہ سیاسی جوڑ توڑ پر مرکوز تھی۔ اس دور میں تو صدر بھی محترمہ کی اپنی جماعت کا تھا اور اس صورت حال کا بھر پور فائدہ مخالفین کو کچلنے میں اٹھایا گیا۔

خیبر پختونخوا میں ‘چھانگا مانگا’

صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں چھانگا مانگا کی یاد تازہ کی گئی اور آزاد امیدواروں کو مسلم لیگ ن اور عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت گرانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے کارندے پیسوں سے بھرے بریف کیس لئے آزاد ارکان اسمبلی کو ورغلاتے رہے۔ گورنر سرحد کی جانب سے وفاق کو رپورٹ بھیجی گئی کہ صوبائی حکومت اپنی خدمات ادا کرنے سے قاصر ہے اور صدر صاحب کے حکم پر صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ صدارتی حکم نامے کے مطابق وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کو برخاست کر دیا گیا۔ اس دوران پیپلز پارٹی کو صوبے میں حکومت بنانے کا موقعہ فراہم کیا گیا۔ صابر شاہ نے وفاق کے اس اقدام کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا، البتہ عدالت نے وفاق کے حق میں فیصلہ سنایا۔

فاروق لغاری نے بنجر زمین بینک کو بیچی، نواز شریف فائلیں سامنے لے آئے

اس غیر جمہوری اقدام کی ملامت کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور ملک گیر ہڑتالیں منعقد کیں۔ نواز شریف صاحب، بی بی کی معاشی بے ظابطگیوں کے متعلق فائلیں منظر عام پر لائے۔ انہی دنوں مہران بنک کے صدر یونس حبیب کی گرفتاری اور ان کے انکشافات نے ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا۔ یونس حبیب کے بیانات میں سے ایک بیان یہ بھی تھا کہ فاروق لغاری نے بنجر زمین مہنگے داموں بینک کو بیچی اور اس سے منافع کمایا تھا۔ نواز شریف صحافیوں کی ایک ٹولی سمیت ڈیرہ غازی خان پہنچے اور اس بنجر زمین کا دورہ کیا۔

(یاد رہے کہ یونس حبیب مہران بنک سکینڈل کا مرکزی کردار تھے، راز فاش کرنے کے جرم میں ان کی اہلیہ کو ستمبر 1995 میں دن دہاڑے قتل کر دیا گیا)

سازش کرنے پر بریگیڈیئر امتیاز کی گرفتاری کا حکم

جواب میں وفاقی حکومت نے نواز دور میں انٹیلی جنس کے سربراہ برگیڈیئر امتیاز کو پہلی بینظیر حکومت کے خلاف سازش تیار کرنے کے جرم میں گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔ شریف خاندان کے خلاف کھاتے کھولے گئے اور میاں محمد شریف کو حوالات کی سیر کروائی گئی۔ نواز شریف صاحب نے بھٹو صاحب کی یاد تازہ کرتے ہوئے ٹرین پر پشاور سے کراچی کا دورہ کیا اور ہر بڑے شہر میں حکومت مخالف تقاریر کیں۔ ان کی جماعت کی پکار پر اکتوبر 1994 میں ملک گیر ہڑتال کی گئی۔

سرحد کے بعد پنجاب کی باری، وٹو کابینہ مستعفی

سرحد کے بعد اقتدار پر قبضے کا کھیل پنجاب اسمبلی میں بھی کھیلا گیا۔ ستمبر 1995 میں وفاق کی جانب سے گورنر کو صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھالنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ اس سے قبل وٹو کابینہ کے پندرہ ارکان نے وزیر اعلیٰ پر غیر قانونی اقدامات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اور اپنے استعفے پیش کر دیے تھے۔ وٹو صاحب کے قریبی ساتھیوں کو مستند الزامات کی عدم موجودگی میں گرفتار کیا گیا۔ گورنر نے وٹو صاحب کو صوبائی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا پیغام دیا لیکن وٹو صاحب اس کوشش میں ناکام ٹھہرے، سو انہی کی جماعت کے عارف نکئی کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر منتخب کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے ایک رکن اسمبلی کو سینئر وزیر کا عہدہ اور وزیر اعلیٰ جیسے اختیارات سونپ دیے گئے۔ منظور وٹو کو خصوصی فنڈ خوردبرد کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

مرتضیٰ کے کارکنوں پر بینظیر کی پولیس کی گولیاں، کارکنان جاں بحق

سنہ 1993 کے انتخابات میں بینظیر کے بھائی مرتضیٰ بھٹو نے شہید بھٹو جماعت کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں ایک نشست جیتی۔ مرتضیٰ نے اپنے والد کی وفات کے بعد معمر قذافی اور یاسر عرفات کے تعاون سے الذوالفقار نامی ایک تنظیم قائم کی تھی جس کا مقصد ضیاالحق کو قتل کرنا اور اس کی حکومت ختم کرنا تھا۔ اس تنظیم کا سب سے مشہور ’کارنامہ‘ ایک پاکستانی جہاز اغوا کر کے اسے کابل لے جانا تھا۔ بعدازاں اس تنظیم کو بھارتی حکومت کی جانب سے بھی کچھ مدد ملی لیکن راجہ انور کی یادداشتوں کے مطابق الذوالفقار بری طرح ناکام رہی۔ اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ مرتضیٰ کی جذباتی سوچ اور لاپرواہی تھی۔

بینظیر صاحبہ نے مرتضیٰ کی کامیابی کے بعد اپنی والدہ نصرت بھٹو پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے ہی مرتضیٰ کو واپس پاکستان بلایا اور صوبائی نشست جیتنے میں اس کی مدد کی۔ مرتضیٰ نے ایک موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پیپلز پارٹی وہ جماعت نہیں رہی جو غریبوں اور کسانوں کے نام پر بنائی گئی تھی۔ انہی دنوں بھٹو صاحب کی ایک برسی کے موقعہ پر نصرت بھٹو اور مرتضیٰ نے پیپلز پارٹی کے کارکنان کو گڑھی خدا بخش پہنچنے سے روکنے کے لئے علاقے کے گرد اپنے کارکنان پر مشتمل ایک حصار بنوا دیا۔ بینظیر صاحبہ نے پولیس کو حکم دیا کہ اس حصا ر کا ختم کروایا جائے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپ میں کچھ کارکنان مارے گئے۔

مشرّف کی تعیّناتی، جہادیوں کی چاندی

اپنے گذشتہ تجربات کی روشنی میں محترمہ نے اپنے دوسرے دور حکومت میں فوج کو کھلی چھوٹ دی۔ بینظیرصاحبہ کے دوسرے دور کے آغاز میں ہی فوج کے ایک اعلیٰ عہدے (DGMO) پر پرویز مشرف کو تعینات کیا گیا۔ DGMO بننے کے بعد مشرف نے کشمیر میں جاری ’جہاد‘ کو مزید فروغ دینے کے لئے بینظیر صاحبہ سے اجازت طلب کی، جو کہ عنایت کر دی گئی۔ ‘مجاہدین’ کی تلاش میں مشرف صاحب جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام کے پاس گئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے لشکر طیبہ سے وعدہ کیا کہ ان کے تربیتی کیمپوں کے تمام جنگجوؤں کی ذمہ داری اٹھائی جائے گی۔ اسی طرح افغان جنگ کے دوران قائم کردہ دو جماعتوں کو متحد کر کے ‘حرکت الانصار’ بنائی گئی۔ اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ان ‘مجاہدین’ پر خرچ کر رہی تھی۔

‘ممکنہ دہشت گرد ممالک’ کی فہرست سے نکلنے کے لئے فوج کو امن قائم کرنے پر لگا دیا

عالمی سطح پر پاکستان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جا رہا تھا، جنوری 1994 میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو ‘ممکنہ دہشت گرد ممالک’ کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ محترمہ بینظیر نے پاکستانی فوجی، اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شرکت کرنے کے لئے بھیجنے کا فیصلہ کیا اور سومالیہ میں امن قائم کرنے کے لئے پانچ ہزار پاکستانی فوجی تعینات کیے گئے۔ آخر کار ستمبر 1995 میں امریکی ایوان نے پاکستان پر عائد معاشی پابندیاں کم کرنے کا بل پاس کیا۔

کراچی میں لسانی تنازعے میں اضافے کے باعث فوج کو طلب کیا گیا لیکن دو سال قیام اور دو ہزار لاشوں کے باوجود امن و امان کی صورت حال پر قابو نہ پایا جا سکا اور سنہ 1995 میں وزیر داخلہ نصیر الدین بابر کی سفارش پر رینجرز کو شہر میں تعینات کیا گیا۔

1995، پاکستان کی تاریخ کی سب سے خوفناک بغاوت

اکتوبر 1995 میں فوجی افسران کی ایک سازش بے نقاب ہوئی جس کے مطابق چند فوجی افسروں نے فوج کی اعلیٰ قیادت، صدر، وزیر اعظم اور کچھ وزراء بشمول آصف علی زرداری کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس سازش (آپریشن خلافت) میں فوج کے اعلیٰ افسران بھی ملوث تھے۔ 26 ستمبر 1995 کو فاٹا سے آنے والے برگیڈیئر مستنصر باللہ کی گاڑی کو ایک پولیس چیک پوسٹ پر روکا گیا تو۔۔۔


قسط نمبر 5 پڑھیے: سیاست نوے کی دہائی میں، قسط 5: شریعت کے نام پر فوجیوں کی ناکام بغاوت، اور مرتضیٰ کا قتل


Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *