Type to search

صنف عوام کی آواز مذہب

لیڈیز فرسٹ کے نام پر عورت کی زندگی پر قبضہ

لیڈیز فرسٹ کی اصطلاح کب اور کہاں سے شروع ہوئی، لاکھ کوشش کے باوجود اس کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ یہ اصطلاح صدیوں سے استعمال ہوتی آ رہی ہے اور یہ محض اصطلاح نہیں بلکہ ایک فعل اور ایک عمل ہے جس کا مقصد خواتین کو ترجیح دینا ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ سے ترجیحات کی بنا پر استعمال نہیں ہوتا رہا بلکہ اس کا مقصد خواتین کو حفاظت دینا تھا۔ مثلاً قدیم دور میں مرد حضرات خطرے کی صورت میں پہلے عورتوں کی حفاظت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اقدامات کرتے تھے اور اس طرز کی اور بھی مثالیں موجود ہیں جو کم و بیش یہ اشارہ دیتی ہیں کہ یہ اصطلاح پدر سری سماج کی پیداوار ہے۔ یعنی جنگوں کا عہد جہاں جنگ و جدل بہادری اور شجاعت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔

خواتین کے لئے ہر معاشرے میں سہولیات

ہمارے ہاں ہوٹلوں، بینکوں، دکانوں، بسوں اور ٹرینوں نیز ہر جگہ جہاں خواتین موجود ہوتی ہیں کو احترام کی بنا پر ترجیح دی جاتی ہے، مثلاً سپینی روڈ کوئٹہ کے پٹرول پمپ پر آج بھی کسی بھی موٹر سائیکل یا رکشہ پر خاتون سوار ہو تو اسے قطار میں انتظار نہیں کرایا جاتا بلکہ ترجیحی بنیادوں پر پہلے انہی کو فارغ کر دیا جاتا ہے۔ عرب امارت میں خواتین کے لئے الگ سے کار پارکنگ مہیا کی گئی ہے۔ سرکاری دفاتر میں صفِ اول خواتین کے لئے مخصوص کی گئی ہے یعنی تمام تر سہولیات میں خواتین کے لئے الگ سے انتظامات کئے گئے ہیں تاکہ انتظار نہ کرنا پڑے۔

لیڈیز فرسٹ کا کانسپٹ صدیوں پرانا ہو کر بھی آج تک سماج کے ہر حصے میں موجود ہے اور آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ یورپی سماج ہو یا پھر افریقی، ایشیائی سماج ہو یا پھر وسطی ایشیائی ان تمام سماجوں میں لیڈیز فرسٹ پر مرد حضرات عمل کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں اس کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اس پر درجنوں فلمیں بن چکی ہیں اور لیڈیز فرسٹ کے نام سے خواتین کو ایوارڈز سے بھی نوازا جا رہا ہے۔

لیڈیز فرسٹ فیمنزم کی نفی ہے

اب اس کے اثرات پر بحث کرتے ہیں۔ جب سے عالمی سطح پر فیمینسٹ تحریکوں نے جنم لیا ہے، لیڈیز فرسٹ کو لے کر کافی تنقید کی جا رہی ہے۔ نظریہ فیمینزم کو مرد عورت کے درمیان برابری کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ لیڈیز فرسٹ اس کی نفی کرتی ہے۔ اگر مرد اور عورت برابر ہیں تو خواتین کو ہر جگہ اولیت کا درجہ کیوں حاصل ہے؟ خواتین کو اولیت کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود عورتوں کا سوال کیوں زور پکڑتا جا رہا ہے؟ لیڈیز فرسٹ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پدرسری سماج کی پیدوار ہے یعنی یہ اصطلاح مردوں نے گھڑی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ خواتین جو کہ پدرسری سماج کو غیر مشروط طور پر رد کرتی ہیں انہوں نے اس مردانہ اصطلاح کی پیروی کیوں کی؟ لیڈیز فرسٹ سے مردوں کو کیا فوائد حاصل ہو رہے ہیں؟

مارے یہاں تعلیم کے معاملے میں لیڈیز فرسٹ کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ جائیداد کو لے کر خواتین کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رکھا ہے

پہلے پہل ہم یہ سمجھتے رہے کہ شاید لیڈیز فرسٹ ہمارے قبائلی سماجی کی پیداوار ہے جس نے جاگیردارانہ دورِ پیداوار میں جنم لیا لیکن یہ عرصہ دراز سے دنیا بھر میں نافذ العمل ہے۔ دیہی اور قبائلی سماج میں اس کی جڑیں کافی حد تک مضبوط ہیں جبکہ شہری علاقوں میں دن بدن یہ اپنا اثر کھوتا جا رہا ہے۔ ہمارے بلوچستان میں لیڈیز فرسٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ لوگ جو خواتین کو ہر جگہ مرد سے پہلے ترجیح نہیں دیتے حقیر سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی تضاد ہے۔ مرد وہ حقوق دینا چاہتا ہے جو اسے بہتر لگے۔ مثلاً ہمارے یہاں تعلیم کے معاملے میں لیڈیز فرسٹ کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ جائیداد کو لے کر خواتین کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رکھا ہے۔ کاروبار، نوکری اور زندگی کے فیصلوں کو لے کر لیڈیز فرسٹ مردوں کو گالی لگتی ہے۔ یہ ایک کھلا تضاد ہے۔ یعنی عورت کو کو حقیر سمجھ کر اسے اپنی ملکیت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یعنی عورت اپنی حفاظت نہیں کر سکتی اور اسے ہمیشہ ایک مرد کی ضرورت ہوتی ہے۔

مذہبی طبقہ لیڈیز فرسٹ پر ایمانداری سے عمل کر رہا ہے یعنی وہ محض دکھاوے اور من پسند سہولیات دے کر اپنی تھیوکریٹک بالادستی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں

ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ نظریہ فیمینزم کو لیڈیز فرسٹ اور لیڈیز فرسٹ کی اصطلاح کو نظریہ فیمینزم سے خطرہ لاحق ہے۔ یہ دنوں ایک دوسرے کی نفی ہیں۔ مذہبی اور کم ترقی یافتہ سماج میں فیمینزم گالی کے طور پر سمجھا جاتا ہے یعنی مرد اور مذہبی طبقہ نہیں چاہتا ہے کہ عورتوں کے حقوق کا تعین خود عورت کرے۔ لیکن مذہبی طبقہ لیڈیز فرسٹ پر ایمانداری سے عمل کر رہا ہے یعنی وہ محض دکھاوے اور من پسند سہولیات دے کر اپنی تھیوکریٹک بالادستی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین خود لیڈیز فرسٹ بارے تمام تر تضادات کو سمجھتے ہوئے اسے درست سمت دیں۔ لیڈیزفرسٹ کا سب سے زیادہ فائدہ صاحبِ قوت مرد کو حاصل ہو رہا ہے جہاں وہ ناکافی اور کم درجہ سہولیات کا بہانہ بنا کر مردانہ بالادستی کو دوام دے رہے ہیں۔ عورتوں کے حقوق کا تعین خود عورتوں نے کرنا ہے۔ یہ حق مردوں نے اپنےقبضے میں لے کر عورتوں کے گرد غلامی کی زنجیریں کھینچ رکھی ہیں جسے خود عورتوں نے ہی توڑنا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *