Type to search

تجزیہ

شیخ رشید کے بیان کو ہلکا نہ لیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اسد عمر، پرویز خٹک اور شفقت محمود سمیت 6 وفاقی وزرا کا آرمی چیف سے ملاقات کرنا عمران خان کو مناسب نہیں لگا، تاہم آرمی چیف سے ملنے والوں میں وہ خود شامل نہیں تھے۔

24 نیوز کے پروگرام ’نسیم زہرا ایٹ 8‘ میں میزبان کو انٹرویو دیتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ الیکشن میں کب جانا ہے یہ کارڈ عمران خان کے پاس ہے۔

تفصیلات کے مطابق میزبان نے سوال کیا کہ آرمی چیف سے ملاقات کرنے کچھ وزرا گئے تھے، ان پر عمران خان صاحب نے بات کی تھی۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ جی بالکل چھ لوگ گئے تھے آرمی چیف سے ملنے کے لئے، اس پر کافی باتیں بھی ہوئیں۔ نسیم زہرا نے کہا کہ چھ وزرا میں اسد عمر، شفقت محمود، پرویز خٹک شامل تھے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ جی مجھے پتہ ہے کون سے چھ لوگ تھے۔

میزبان نسیم زہرا نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود بھی اس پر بات کی اور انہوں نے کہا کہ تم لوگ جا کر میری شکایتیں لگاتے ہو آرمی چیف کو جس پر جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ شکایتیں لگاتے ہیں مگر وفاقی وزرا کا ایسے آرمی چیف سے ملنا وزیر اعظم کو مناسب نہیں لگا۔

میزبان نے سوال کیا کہ کیا عمران خان اپنے نقطۂ نظر سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اپنی کرسی چھوڑ دیں گے اور جلد انتخابات کروا دیں گے؟ تو اس کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ یہ لوگ انہیں بھولا سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کی اپنی ٹائمنگ ہے۔ انہوں نے عثمان بزدار کے تین سال نکلوا دیے ہیں۔ تو اگر کسی کو یہ جاننا ہے کہ عمران خان نے الیکشن میں کس وقت جانا ہے تو عمران خان یہ کارڈ چھاتی کے ساتھ لگا کر کھیل رہا ہے۔ اگر عمران خان رلیکس رہ کر زندگی گزارنا چاہتا تو ان سب کو جانے دیتا۔ اگر میں عمران خان کی جگہ ہوتا تو میں رلیکس رہتا اور ڈیلیور کرتا اور یہ چخ چخ ہی ختم ہو جاتی۔

وفاقی وزیر داخلہ کے یہ جملے اس حوالے سے انتہائی معنی خیز ہیں کہ یہ ملاقات ابھی حال ہی میں نہیں ہوئی۔ یہ ملاقات اب سے قریب دو ماہ قبل ہوئی تھی۔ اس حوالے سے 2 اپریل 2021 کو نجم سیٹھی نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ذرائع کے مطابق جنرل قمر جاوید نے حال ہی میں چھ وفاقی وزرا کو کچھ باتیں صاف صاب بتانے کے لئے بلایا: 1) حکومت کی خراب کارکردگی کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے اور فوج کی ساکھ خراب ہو رہی ہے کہ اس نے ایسی حکومت کو عوام پر مسلط کیا؛ 2) پنجاب اور خیبر پختونخوا میں وزرائے اعلیٰ کی تبدیلی کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے؛ اور 3) وفاقی حکومت کو ایک بہتر ٹیم کے ساتھ چلایا جانا چاہیے جو بہتر ساکھ رکھتی ہو، اور کم از کم معیشت کو صحیح ڈگر پر ڈالا جانا ضروری ہے۔ وقت نکل رہا ہے، انہوں نے حالات کی گھمبیرتا واضح کرتے ہوئے کہا۔

اب ظاہر ہے کہ نجم سیٹھی نے اگر 2 اپریل کو یہ کالم لکھا تھا تو ملاقات اس سے کچھ پہلے ہی ہوئی ہوگی۔ اپریل کے وسط میں ایک بار پھر وزارتوں میں تبدیلیاں بھی کی گئیں، گو یہ کوئی بہت بڑی اکھاڑ پچھاڑ نہیں تھی بلکہ محض قلمدانوں کی تبدیلیاں کر کے زیادہ تر وزرا کو کابینہ کا حصہ ہی رکھا گیا۔ صرف ایک نئے وزیر فرخ حبیب کو کابینہ میں نئی انٹری کہا جا سکتا ہے۔

لیکن پھر اس ملاقات کے دو ماہ بعد اب جا کر شیخ رشید کی جانب سے اس موقع پر یہ بات کرنا کہ جب ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ راولپنڈی اور اسلام آباد ایک صفحے پر نہیں رہے، شہباز شریف کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے، مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما کہہ رہے ہیں کہ ان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صلح ہو گئی ہے، شہباز شریف کی ضمانت اور انہیں باہر جانے کی اجازت دیے جانے پر عمران خان کو خدشہ ہے کہ اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے اور انہیں ہر قیمت پر روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تعلقات میں مزید بگاڑ آ ئے گا، ایک اہم بات ہے۔ ایک اہم وفاقی وزیر کی جانب سے اس بات کی تصدیق کیے جانا کہ عمران خان کو آرمی چیف کے ساتھ چھ وزرا کی ملاقات نامناسب لگی تھی ضروری نہیں تھا۔ اسی انٹرویو میں شیخ رشید سے جب یہ پوچھا گیا کہ ن لیگی رہنماؤں کے مطابق ان کی اسٹیبلشمنٹ سے صلح ہو گئی ہے تو انہوں نے کہا اچھی بات ہے، ہمارے سے بھی صلح کریں۔ شیخ رشید باتوں کے شہنشاہ ہیں۔ ان کے لئے اس سوال کا جواب نہ دینا کوئی اتنا مشکل نہ تھا۔ وہ باآسانی اس پر کہہ سکتے تھے کہ ملاقاتیں ہوتی ہیں، ہوتی رہتی ہیں، اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں۔ نسیم زہرا کے سوال کا گول مول جواب بھی دیا جا سکتا تھا۔ لیکن شیخ رشید نے صاف صاف جواب دیا کہ عمران خان کو یہ بات پسند نہیں آئی۔

صورتحال کچھ یوں ہے کہ جہانگیر ترین کا ایک گروپ اس وقت موجود ہے۔ اس کے اراکین کی تعداد 30 سے زائد ہے۔ ان میں سے کچھ آگے بڑھ بڑھ کر حکومت پر حملے کر رہے ہیں، کچھ مفاہمانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ فی الحال اطلاعات ہیں کہ یہ گروپ بجٹ کو پاس ہونے سے روکنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ درست۔ لیکن پھر فیصل واؤڈا نے اس قدر سخت لب و لہجہ کیوں اختیار کیا؟ انہوں نے کہا کہ ان سب کو ایک ایس ایچ او ڈالے میں ڈال کر لا سکتا ہے۔ جواباً پنجاب کے وزیر سردار حسنین بہادر دریشک نے کہا کہ فیصل واؤڈا کو مجھے حیرت ہے کہ اب تک کسی نے جوتے کیوں نہیں مارے۔ اسی طرح شاہ محمود قریشی نے بھی کھل کھلا کر کہا کہ جو لوگ عمران خان کے ساتھ نہیں ہیں، وہ علیحدہ ہو جائیں؟

ذرائع کے مطابق عمران خان کو ڈر ہے کہ شہباز شریف کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے تعلقات، جہانگیر ترین کا گروپ اور حکومتی جماعت کے اپنے اندر خلفشار کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہے اور یہ سب لوگ وقت آنے پر ایک دوسرے سے مل کر ان کی حکومت گرا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیصل واؤڈا کاشف عباسی کے پروگرام میں اس قسم کی زبان پر اتر آئے۔ شہباز شریف کو پاکستان سے جانے کی اجازت نہ دینا بھی اسی خوف کی عکاسی کرتا ہے۔ آرمی چیف کی وزرا سے ملاقات پر عمران خان اپنے ایک اور وزیر کے ذریعے اپنی ناراضگی سامنے لا رہے ہیں۔ کم سے کم یہ تو طے ہے کہ حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ آنے والے چند ماہ عمران خان حکومت کے لئے خاصے مشکل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اب یہ صاف ہے کہ وہ وقت ماضی ہو چکا جب ایک صفحہ اور اس پر حکومت اور فوج دونوں کے ہونے پر شادیانے بجائے جاتے تھے۔ اب وہ صفحہ کہیں گم ہو چکا ہے۔ اور ملاقاتوں پر اعتراضات نہ صرف کیے جا رہے ہیں بلکہ عوام میں سرِ عام اٹھائے جا رہے ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *