Type to search

تجزیہ سیاست

صادق و امین شیخ رشید، اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تاریخی اختلافی نوٹ

راولپنڈی کے بقراط شیخ رشید کی نااہلی کا فیصلہ حسب توقع شیخ رشید کے حق میں آیا اور سپریم کورٹ کی جانب سے شیخ رشید کو صادق اور امین کی چٹ پکڑا دی گئی۔ راقم شیخ رشید کو زمانہ طالبعلمی اور پھر نوے کی دہائی میں اپنے صحافتی کرئیر کے آغاز سے جانتا ہے۔ جس طریقے سے شیخ رشید نے ناجائز اثاثے بنائے، کرپشن کی انتہا مچائی، اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قانون سچ میں اندھا ہے وگرنہ شیخ رشید جیسے فرد کے لئے پارلیمان جیسے مقدس ادارے میں کوئی جگہ نہیں بچتی۔

جسٹس قاضی عیسیٰ فائز نے نواز شریف کے کیس کی فل کورٹ بنچ میں دوبارہ سے سماعت کی تجویز دی

خیر، شیخ صاحب کے کرتوتوں کو محض ایک کالم میں بیاں کرنا ہرگز بھی ممکن نہیں ہے۔ شیخ صاحب راولپنڈی کے گیٹ نمبر دس کے ہمسائے ہیں، اس لئے عمران خان کی طرح انہیں صادق اور امین کی چٹ ملنا حیرانگی کا باعث تو قطعاً نہیں ہے۔ اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ تو خود اعلیٰ عدلیہ نے ہی غلط ثابت کر دیا ہے۔ ایک طرف نواز شریف کو گوشواروں میں بیٹے سے خیالی تنخواہ نہ لینے پر نااہلی کی سزا جبکہ دوسری جانب شیخ رشید اور عمران خان کے غلط گوشواروں اور ذرائع آمدن غلط ظاہر کرنے کو بھول چوک قرار دے کر انہیں معاف کرنا عدلیہ کے ترازو میں جھول کو ظاہر کرتے ہیں۔ شیخ رشید کو اہل قرار دینے کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں اس کا برملا اظہار کیا اور نواز شریف کے کیس کی فل کورٹ بنچ میں دوبارہ سے سماعت کی تجویز بھی دی۔

جب عدلیہ کے معزز جج منتخب وزیراعظم کو سسلین مافیا اور گاڈ فادر قرار دے ڈالیں تو۔۔۔

پانامہ کا مقدمہ ایک سیاسی نوعیت کا کیس تھا اور ہر ذی شعور شخص اس نکتے سے واقف تھا کہ فیصلہ جس مرضی فریق کے حق میں یا خلاف آئے، دونوں ہی صورتوں میں اعلیٰ عدلیہ کے جج حضرات کو سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید کو برداشت کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اول تو اعلیٰ عدالتیں سیاسی نوعیت کے کیسز کی سماعت کرنے سے ہر ممکن گریز کرتی ہیں اور بالفرض بہ امر مجبوری اگر اس نوعیت کا کوئی کیس سماعت کے لئے منظور کریں تو بار ثبوت الزامات لگانے والوں پر ڈالتے ہوئے ہر ممکن طریقے سے متنازعہ ریمارکس پاس کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے نہ تو پانامہ کے مقدمے کے دوران ریمارکس پاس کرنے میں احتیاط برتی گئی اور نہ ہی بار ثبوت الزام لگانے والوں پر ڈالا گیا۔ جب عدلیہ کے معزز جج حضرات ایک منتخب وزیراعظم کو الزامات ثابت نہ ہونے کے باوجود سسلین مافیا اور گاڈ فادر قرار دے ڈالیں اور اسے گھر بھیج دیں تو پھر معزز عدلیہ کے ججز کو تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔

نہ تو شیخ مجیب نے اگرتلہ سازش کیس کے بعد عوامی مقبولیت کھوئی اور نہ ہی ذوالفقار بھٹو یا نواز شریف کی عوامی مقبولیت کو کوئی ٹھیس پہنچی

سیاستدانوں کے انجام کا فیصلہ عدالتوں میں نہیں ہوا کرتا، اس حقیقت کو معزز عدلیہ، اگرتلہ سازش کیس اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلوں سے باآسانی سمجھ سکتی تھی۔ اسی نواز شریف کو پرویز مشرف دور میں پی سی او ججز نے عمر قید کی سزا دیتے ہوئے تاحیات نااہل قرار دیا تھا لیکن نہ تو شیخ مجیب نے اگرتلہ سازش کیس کے بعد عوامی مقبولیت کھوئی اور نہ ہی ذوالفقار بھٹو یا نواز شریف کی عوامی مقبولیت کو کوئی ٹھیس پہنچی۔ یہی نواز شریف نااہلی انہی عدالتوں سے ختم کروا کر تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوا۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سیاستدانوں کے اہل یا نااہل ہونے کا فیصلہ صرف اور صرف عوام کرتے ہیں اور ووٹ کی طاقت سے انہیں تخت پر بٹھاتے ہیں یا مسترد کردیتے ہیں۔

امید ہے کہ معزز عدلیہ تاریخ پر نگاہ دوڑاتے ہوئے آئندہ آنے والے دنوں میں بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب عدالتوں میں سماعت کے منتظر دیگر کیسز پر توجہ دے گی اور سیاستدانوں کی تقدیر کا فیصلہ عوام کے اجتماعی شعور پر چھوڑ دے گی۔

پارلیمان کو اب کے توہین، غداری اور صادق و امین کے قوانین کو ختم کرنا ہوگا

دوسری جانب منتخب نمائندوں اور پارلیمان کو اب توہین، غداری اور صادق و امین کے قوانین کو ختم کرنے کی جانب عملی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ صادق و امین کی شرط پر پورا اترنے کی شرط والے ضیاالحق کے متعارف کروائے گئے قانون کا مقصد صرف اور صرف سیاسی مخالفین کوزیر کرنا تھا۔ وگرنہ اس قانون کی رو سے تو وطن عزیز میں ایک بھی ایسا آدمی ڈھونڈنا مشکل ہے جو اس قانون کی تعریف پر پورا اترتا ہو۔ اسی طرح اب پارلیمان کو اب ایسے قوانین ختم کرنے کی ضرورت ہے جو کسی کو بھی مقدس گائے کے منصب پر بٹھا دینے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

وطن عزیز میں صرف سیاستدانوں پر ہی تنقید کرنے کی آزادی ہے

آزاد معاشروں میں کسی بھی شخص، جماعت یا ادارے کو مقدس گائے کا درجہ حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کو مذہب، آئین یا حب الوطنی کے نام پر اجارہ داری یا تسلط قائم کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ والٹیئر نے کہا تھا کہ اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ کون تم پر حکومت کرتا ہے تو تنقید کر کے دیکھو، جس پر تنقید کرنے کی اجازت نہ ہو تو سمجھ جاؤ وہی تمہارے اصل حکمران ہیں۔ اس قول کی روشنی میں دیکھا جائے تو وطن عزیز میں صرف سیاستدانوں پر ہی تنقید کرنے کی آزادی ہے اور سزائیں بھی صرف سیاستدانوں کے ہی حصے میں آتی ہیں۔ اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ معاشرے کے کن طبقات گروہوں اور اداروں پر تنقید کرنا کفر، غداری یا توہین کے زمرے میں آتا ہے اور ان قوانین کی ڈھال تلے دراصل وہ قوتیں ہیں جو وطن عزیز کی اصل حکمران ہیں۔

تاریخ کے پنے توہین، غداری اور کفر کے خود ساختہ نظریات و قوانین سے ہٹ کر فیصلے سنایا کرتے ہیں

معزز عدلیہ، اداروں اور گروہوں کا تقدس اپنی جگہ لیکن ان پر اصلاح یا بہتری کی خاطر کی گئی تنقید کو جرم قرار دینے سے بذات خود ریاستی اداروں میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔ منتخب پارلیمان اگر واقعتاً سپریم ہے تو پھر ہماری ستر سالہ تاریخ اس کی نفی کیوں کرتی دکھائی دیتی ہے؟ تاریخ کے پنے توہین، غداری اور کفر کے خود ساختہ نظریات و قوانین سے ہٹ کر فیصلے سنایا کرتے ہیں اور تاریخ کے ان فیصلوں کی نفی ریاستوں کی بنیادیں ہلا دیا کرتی ہے۔

قاضی فائز عیسیٰ کے نوٹ نے پانامہ کیس کے فیصلے کے کھوکھلے ہونے پر مہر ثبت کر دی ہے

امید ہے کہ طاقت کی بساط کے تمام فریقین وطن عزیز کی سیاسی تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی اپنی حدود میں رہ کر اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو مضبوط کر کے ریاست کی بنیادیں مضبوط کرنے میں اپنا کردار ضرور ادا کریں گے۔ فیصلے عدالتی ہوں یا سیاسی کبھی بھی وضاحتوں کے محتاج نہیں ہوا کرتے اور اگر ان کو سچا ثابت کرنے کے لئے وضاحتوں کا اور توہین عدالت کے قانون کا سہارا لینا پڑے تو پھر ان فیصلوں پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اختلافی اور جرات مندانہ نوٹ نے آج پانامہ کیس کے متنازعہ ترین فیصلے کے کھوکھلے ہونے پر مہر ثبت کر دی ہے اور آنے والے دنوں میں جب عسکری اسٹیبلشمنٹ کو اس دکھائی نہ دینے والے مارشل لا کو ختم کرنا پڑے گا تو یہی عدالتیں نواز شریف کی تاحیات نااہلی بھی ختم کریں گی اور اسے صادق و امین کی چٹ بھی پکڑائیں گی۔

فل کورٹ بنچ بٹھا کر نواز شریف کے مقدمے کی دوبارہ سنوائی کیجیے

چشم تماشہ نے مشرف دور میں نواز شریف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ عدالت میں ہوتے دیکھ رکھا ہے اور اسی نواز شریف کو انتخاب لڑنے کے لئے انہی عدالتوں سے اجازت ملنے کا حکم نامہ بھی دیکھ رکھا ہے۔ می لارڈ! فیصلوں میں جھول ہو تو بڑی سے بڑی قوتوں کی پشت پناہی کے باوجود انہیں درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ضد چھوڑیے اور ایک فل کورٹ بنچ بٹھا کر نواز شریف کے مقدمے کی دوبارہ سنوائی کیجیے۔ گاڈ فادر کے ناول اور اشفاق احمد کی کتابوں سے ہٹ کر قانون کی روشنی میں اس کا فیصلہ کیجیے۔ جو قوتیں جسٹس منیر اور جسٹس حمید ڈوگر کو استعمال کرنے کے بعد انہیں ٹشو پیپر کی طرح پھینک چکی ہیں وہ آپ کے ساتھ بھی کام نکل جانے کے بعد یہی سلوک کریں گی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *