Type to search

تجزیہ

سانحہ پکا قلعہ:حیدر آباد کی تاریخ کا بد ترین اور بھیانک واقعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد ہے جو کہ ایک تاریخی شہر ہے۔ اسے شاید آپ اس کے تجارتی مراکز، کھانے پینے کی اشیا یا ‘باغوں کا شہر’ یا  ‘ہواؤں کا شہر’ جیسے ناموں اور خصوصیات سے ہی جانتے ہوں گے۔ آپ کو معلوم ہو کہ نہ ہو لیکن آپ کے لئے عرض ہے کہ اس تاریخی شہر نے ملکی تاریخ کے بدترین سانحات کو بھی برداشت کیا ہے جس میں سے ایک سانحہ پکا قلعہ بھی ہے۔

گذشتہ دنوں سانحہ پکا قلعہ 26، 27 مئی 1990 کے شہدا کی 31 ویں برسی گزری ہے۔ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کا دورہ اقتدار تھا بے نظیر صاحبہ وزیر اعظم تھیں۔

سانحہ پکا قلعہ ملکی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک ہے۔ جس میں حیدرآباد کے پکا قلعہ میں آپریشن کی غرض سے ایگل سکواڈ اور ریپڈ سکواڈ سمیت سندھ بھر سے پولیس کے خصوصی دستے بلوائے گئے پھر 26 اور 27 مئی کی درمیانی شب اسلحے سے لیس کئی گاڑیاں قلعے کے اطراف جمع کر کے قلعے کو گھیرے میں لیا گیا۔ اسی دوران پورے شہر کی بجلی و ٹیلی فون لائنز کاٹ دی گئیں اور قلعے کا پانی بھی بند کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد مسلح اہلکار قلعے میں داخل ہوئے نہتے اور معصوم نوجوانوں، بزرگوں، عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مسلح اہلکاروں کی جانب سے مشین گنز، کلاشنکوف اور دیگر جدید ہتھیاروں کا آزادنہ استعمال کیا گیا۔ پکا قلعہ کے گھروں میں لوٹ مار کی گئی، خواتین پر تشدد کیا گیا اور کئی مہاجروں کو انتہائی وحشیانہ انداز میں شہید کر دیا گیا۔ درندگی کا مظاہرہ کرتے مسلح افراد لاشوں پر کھڑے ہو کر فاتحانہ نعرے لگاتے اور خواتین کی آہ و بکا پر قہقہہ لگاتے ہوئے بے حسی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ کرفیو نافذ تھا۔ پکا قلعہ حیدر آباد کے شہریوں نے کسی طرح سے قلعے کے باہر لوگوں اور اپنے رشتہ داروں کو رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر چاہتے ہوئے بھی کوئی مدد کو نہ پہنچ سکا۔

پکا قلعہ کے عوام کے لئے وہ ایک خوفناک منظر تھا۔ معصوم بچے دودھ سے محروم تھے، گھروں میں فاقے تھے، بجلی کی عدم فراہمی اور پانی کی قلت سے پکا قلعہ میں محصور شہری بےبسی کی تصویر بنے ہوئے تھے۔

جب ان کی مدد کو کوئی نہیں پہنچ سکا، حکومت و انتظامیہ بھی ان کی مدد کو نہ آئی تو قلعے میں موجود خواتین نے دیکھا کہ ان ظالموں سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ ان خواتین نے سر پر قرآن اٹھا کر درندگی کا مظاہرہ کرنے والوں سے رحم کی بھیک مانگی، مگر قرآن پاک کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا گیا اور سر پر قرآن پاک اٹھانے والی خواتین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی گئی جس میں کئی خواتین شہید و زخمی ہوئیں۔ سانحہ پکا قلعہ میں 50 سے زائد شہری شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے جس میں مرد، عورت، نوجوان، بزرگ اور بچے بھی شامل تھے۔ سانحہ پکا قلعہ کے شہدا کی قبریں آج بھی اسی قلعے میں موجود ہیں۔ سانحہ رونما ہوئے سالوں گزر گئے، کسی کو سزا اور کسی متاثرین کو انصاف ملا؟ کسی کو نہیں۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسا رجحان ہی نہیں ہے کہ ایک انسان کے قتل کو انسانیت کے قتل کے طور پر دیکھا جائے، اور یہاں تو سینکڑوں لوگ قتل کر دیے گئے لیکن کبھی کسی سانحے پر انسانیت کے لئے پورے ملک کو اکٹھا نہیں دیکھا۔ مذمت کرتے نہیں دیکھا۔  ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ آواز اٹھانے افسوس کرنے سے پہلے کسی کا فرقہ، مذہب، لسانیت، سیاسی وابستگی دیکھنا ضروری نہیں ہے۔ ہمیں بلا تفریق غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہتے ہوئے ہر مظلوم کے لئے آواز اٹھانا چاہیے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *