Type to search

خبریں

میرے اہل خانہ کو دھمکایا جارہا ہے، اس دفعہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوں: حامد میر

  • 6.8K
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    6.8K
    Shares

معروف صحافی حامد میرکا پابندی لگائے جانے کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا ہے۔

سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ میرے لئے کوئی نئی بات نہیں۔  ماضی میں دو بار مجھ پر پابندی عائد کی گئی ۔ مجھے دو دفعہ نوکری سے نکالا گیا، مجھ پہ قاتلانہ حملے ہوئے مگر کوئی مجھے آئین میں دیئے گئے حقوق کے لئے آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتا۔

حامد میر نے کہا کہ اس وقت میں کسی بھی نتائج کے لئے تیار ہوں اور کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوں کیونکہ وہ میرے اہل خانہ کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

چند لمحے قبل حامد میر نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’مولانا ظفر علی خان اور شورش کاشمیری بننا بہت مشکل ہے لیکن مولانا زاہد الراشدی کے الفاظ کا شکریہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کی ہمت عطا فرمائے آمین‘

 

سینئر صحافی منیزے جہانگیر کا کہنا ہے کہ حامد میر پر پابندی ان تمام لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو کہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے، انہوں نے مزید لکھا کہ وہ پاکستان کے بہت بڑے اینکر اور صحافی ہیں اور انہیں صحافیوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا جیو نیوز ہار مان گیا۔

 

صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ حامد میر کو سکرین سے ہٹا کر اور ان کا پروگرام بند کر کے طاقتور اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پر انگلیاں اٹھیں گی جو الفاظ حامد میر نے کہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صحافی حامد میر کے ساتھ کھڑے ہیں، جیو نیوز کو اس ضمن میں اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔

 

سینئر صحافی غریدہ فارقی نے لکھ کہ تا حال جیوانتظامیہ نےکوئی وجہ نہیں بتائی۔ جیوانتظامیہ کوواضح کرناہوگاکہ حامدمیرپرپابندی کیوں لگائی گئی ہے،کیاکوئی دباؤتھا،اگرہاں توکس کیطرف سے؟؟؟ کھل کربتائیے۔ عوام کوجاننے کاحق ہے۔ جان کرجیو!! جیوسےمنسلک صحافیوں کوبھی یہ سوال اٹھاناچاہئیے۔اندھی پابندی آخر کیوں؟؟ جان کر جیو!!

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *