Type to search

تجزیہ

حویلی کہوٹہ: غیرت اور قبیلہ پرستی کے نام پر دو خواتین کی لٹکتی نعشیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مذہب  حقوق اور آزادی کے نام پر ریاست جموں کشمیر کے آزاد حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کی ریاست کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے حاصل کی جانے والی  اڑھائی اضلاع پر مبنی ریاست آزاد جموں کشمیر حقوق و سہولیات اور اختیار و وقار سے محروم ہے۔

لولی لنگڑی کھٹ پتلی نام نہاد ریاست آزاد جموں کشمیر اس وقت بیس کیمپ، آزادی کے حصول اور ریاست کے رول ماڈل کے بجائے کرپشن، لوٹ مار، استحصال  کا روپ دھار چکی ہے۔ جہاں ہر ادارے، حکومتی نمائندے ، بالادست طبقہ اور اشرفیہ کی ریاست کے اندر ریاست قائم ہو چکی ہے۔ جہاں جب  کوئی چاہیے مفادات، تعصبات کی بناء پر نہتے طور پر ماں بیٹی کو پھانسی چڑھا دے اور بچوں کو مغوی بنا دے ۔

کوئی ریاستی، حکومتی رٹ نہیں ۔ جنگل کا قانون ، اندھیر نگری چوپٹ راج کا سماں ہے۔ جہاں وطن فروشی، سہولت کاری، مفاد پرستی، دھوکہ دہی، منافقت اور نوسربازی سمیت عزت، تشخص کی نیلامی کا خوب بازار گرم ہے۔

ایک سے ایک بڑھ کر اپنی مطلق العنان بادشاہت کا اظہار کر رہا ہےعالمی سامراج ، سرمایہ دار اور ان کے کاسہ لیسوں قابض و غاصب طاقتوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے اس خطہ کی عوام کو ایک سوچے سمجھے منصوبے سے  جہالت ،  انتہا پسندی، شدت پسندی،  برادری، قبیلہ، علاقہ، نسل اور خاندان ، مذہب ، مسلک، فرقہ کے تعصب و نفرت اور شیطانیت کی بھینٹ چڑھایا ہوا ہے ۔

جہاں ایک ہی نسل، علاقہ، خطہ ،ریاست کے لوگ ایک دوسرے کو غیر ریاستی جماعتوں کی آشیرباد سے دن رات کردار کشی اور حقوق کی پامالیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ جس نام نہاد آزاد جموں کشمیر کو اس دلدل میں دھکیلا گیا تھا جو زہر ذہنوں میں سرعیت کیا گیا تھا اس آگ کے شعلوں نے پورے خطے اور سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

آج آزاد کشمیر  تعصب و نفرت اور مفاد پرستی اور نیلامی کی گندی غلاظت میں جکڑا ، پھنسا مبتلا آخری سانس سے لڑائی لڑ رہا ہے۔ آج اس نفرت و تفریق، تعصب و تنگ نظری اور وحشت و بربریت سے جڑے ایک ایسے ہی شرمناک قابل مزمت سانحہ کو مرقوم کرنے کی جسارت کر رہا ہوں

تفصیلات کے مطابق تین ماہ پہلے گجر خاندان کے لڑکے اور راٹھور برادری کی لڑکی نے باہمی رضامندی سے کورٹ میرج کر لی تھی ۔ لڑکی کے خاندان کی طرف سے دھمکیوں کی وجہ سے دونوں پاکستان میں روپوش ہو گے ۔ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی اور پولیس سے ڈرایا دھمکایا بھی جارہا تھا ۔لڑکے کے گھر میں پولیس کی موجودگی میں  بہت دفعہ حملے کیے گے  گزشتہ رات کو اپر گگڈار انکے( لڑکے ) گھر پر لڑکی کے خاندان کے کچھ لوگوں نے حملہ کیا اور گن پوائنٹ پر لڑکے کی ماں اور بیٹی کو زیادتی کے بعد انکے گھر کے صحن میں مارنے کی بعد پھندے پر چڑھا دیا۔

اس دردناک ، انسانیت سوز سانحہِ پر بی بی سی اردو کی ایک شائع ہونے والی سٹوری بھی پیش خدمت ہے

بی بی سی کی ایک شائع ہونے والی سٹوری کے مطابق

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے متصل ضلع حویلی میں دو خواتین کو مبینہ طور پر بدلہ لینے کی غرض سے قتل کرنے کے واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ سنیچر کے روز دونوں خواتین کی لاشیں ان کے گھر میں لٹکی ہوئی ملی تھیں اور لواحقین کی جانب سے سٹی تھانہ میں درج کروائی گئی قتل کی ایف آئی آر میں 14 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

52 سالہ مقتولہ خاتون کا ایک بیٹا (جس کے نام ظاہر نہیں کیا جا رہا) ان کے رشتہ داروں کے مطابق ’کئی مہینوں سے اپنے گھر سے غائب تھا‘ اور ان کے مخالف راٹھور قبیلے کے ایک خاندان نے رواں ماہ ان کے خلاف اپنی بیٹی کے اغوا کی ایف آئی آر درج کروا چکا تھا۔

یہ معاملہ دو قبائل یعنی راٹھور اور گجر قبیلے سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کا ہے۔ لڑکے کا تعلق گجر قبلیے سے ہے جبکہ لڑکی راٹھور قبیلے سے ہے۔ یہ دونوں قبائل سخت سیاسی حریف بھی ہیں اور ان کے ہاں آپس میں شادیاں کرنا بھی ناگوار سمجھا جاتا ہے۔

ایس ایس پی شوکت مرزا کے مطابق 24 مئی کو راٹھور قبیلے کے ایک خاندان کی جانب سے ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس میں 52 سالہ مقتولہ کے بیٹے پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے ان کے خاندان کی لڑکی کو 20 مئی کو اغوا کر لیا ہے۔ اس ایف آئی آر میں نامزد ہونے والے چھ افراد میں لڑکے کے والدین، ایک بہن اور بھائی شامل تھے۔ پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد تفتیش کا آغاز ہوا اور سب سے پہلے لڑکے کے موبائل کی لوکیشن کے ذریعے اس کا پتا لگانے کی کوشش کی گئی۔

اس خطے میں سماجی ترقی اور صنفی امتیاز کے خلاف کام کرنی والی غیر تنظیم پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے سربراہ خواجہ ظفر نے کہا ہے کہ ‘پولیس کو دونوں قبیلوں کے درمیان ماضی کے واقعات کے پیش نظر مقتولین کے خاندان کو بوقت تحفظ دینا چاہے تھا تاکہ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے سے بچ جاتی۔’

اس واقعے کے بعد لواحقین سمیت مقامی افراد نے ضلع حویلی میں مختلف مقامات پر احتجاج کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ سمیت رابطہ سڑکوں کو بند کر دیا تھا تاہم مقامی انتظامیہ کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا ہے۔

لواحقین کے مطابق دونوں خواتین کو پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کر کے انھیں دفنا دیا گیا ہے۔”)

کتنا دردناک سانحہ ہے کہ ماں کے سامنے پچس سالہ بیٹی کی عصمت ریزی کی گی پھر ماں کی عصمت ریزی کی اور اس کے بعد دونوں کو مار کر ان کی نعشیں لٹکا دیں گئیں

قارئین ! مندرج بالا سانحہ سے آپ نے خود اندازہ لگا لیا ہو گیا کہ کس طرح وحشت و بربریت کی بدترین شرمناک مثال قائم کی گئی ہے۔

یہ کوئی نیاء واقعہ نہیں ہے بلکہ سابقہ رویت کا تسلسل ہے جو خاصے وقت کے بعد بدترین صورت میں دیکھنے کو ملا ہے

قارئین !  اسی لیے  ہم کہہ رہے ہیں کہ سماج بدلنے کے لیے سوچ کا بدلنا ضروری ہے ، اگر یہی کام بھارت میں ہوا ہوتا یا کوئی اور ملک کرتا تو اس وقت اس سماج میں طوفان برپا ہوتا، اسلام کے خلاف ، جمہوریت کے خلاف اور ملک کے خلاف سازش قرار دے دی گی ہوتی ؟؟؟

لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہاں نہ انسانیت ہے ، نہ اسلام ہے اور نہ جمہوریت ہے  اور نہ ہی انسانی حقوق کا احترام یا لحاظ موجود ہے  اور نہ کسی کو شرم محسوس ہوتی ہے  یا افسوس ہوتا ہے بلکہ شرمناک مقام یا عالم یہ ہے کہ اکثریت کے نزدیک یہ قابل فخر ہے۔عورتوں کے حقوق کی پامالیوں ، تشویشناک صورتحال پر جب ہم اپنی آواز بلند کرتے ہیں

تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ غیر مذہب ہیں اور سماج کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور فحاشی پھیلانا چاہتے ہیں حالانکہ انھیں یہ علم نہیں ہے کہ ان سے بہتر ہم سمجھتے ہیں اور پرچار کرتے ہیں کہ لبرل، سرمایہ داروں  نے عورتوں کو منافع کی خاطر ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا، عورت کی عزت عصمت کو نیلام کر دیا اور ایک جنس کا نمونہ بنا کر پیش کیا تو دوسری طرف  مذہبی شدت پسندوں  نے غیرت کے نام پر عورتوں کو نشان عبرت ہی بنا ڈالا ، ظلم و ستم کی ایسی بدترین مثالیں قائم کیں کہ کوئی نظیر ہی نہ ملتی ہو ۔یوں ان  دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

اسلام نے عورت کو یہ بنیادی حق دیا ہے کہ وہ اپنی پسند کی شادی کرے تو اگر ، عورت اس حق کو استعمال کرتی ہے تو ایسے کون سےمرد ہیں جو ان عورتوں کو صحفہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں ، ان کو تو اسلام نے یہ حق نہیں دیا ہوا ہے۔

بنیادی طور پر یہی اسلام فروش اور انتہا پسند اور فسادی ہیں  جہنوں نے اسلام کو بدنام کیا، غلط طور پر پیش کیا اور مذہب فروشی کا چورن بیچا ۔ حالانکہ پسند کی شادی مذہب اسلام میں جائز ہے اور اس خطے میں سماجی ڈھانچے کو مساوی بنیادیو‍ں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے

یہ اصل میں سامراج، سرمایہ داروں کے کاسہ لیس ہیں جہنوں نے مذہب کو بطور ڈھال  بنا کر منافع  حاصل کیا۔آج تاریخی عمل ،زمینی  حقائق نے ثابت کر دیا ہے کہ اس سماج میں تعصب و نفرت ،ظلم و نا انصافی کی سزا استحصال زدہ عورت کو ہی بھگتنی پڑتی ہے۔

عورت آج بھی مظلوم اور مجبور ہے جس کا بلا امتیاز استحصال کیا جاتا ہے ، اگر عورتوں کو ان ہے انسانی ، اسلامی، جمہوری، معاشی ، سیاسی و معاشرتی حقوق فراہم کر دیے گئے ہوتے تو شاید یہ واقعات بھی پیش نہ آتے  اس منقسم خطہ میں عورت کو قومی و طبقاتی جبر کے ساتھ بدترین صنفی جبر و تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا، ہے جو کہ تشویشناک ہے۔

قبیلہ پرستی کے نام پر بالادست طبقہ کے مفاد ایک ہی ہیں چاہے وہ جس مرضی برادری کا ہو وہ اپنے توسیعِ پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے پسے ہوئے طبقہ کو ایسے مذموم واقعات کے ذریعے اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ ایسے واقعات میں اس بالا دست طبقے کے کتنے افراد قتل ہوئے ، شاید بہت ہی کم ہوں ۔لیکن پسے ہوئے طبقہ کا کوئی شمار نہیں مذکورہ بالا واقعہ میں اسلامی ،قانونی طور پر عورت نے کوئی خلاف شرعیت کام نہیں کیا ہے ۔

لیکن پھر بھی سزا کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اس سماج میں اگر کوئی گناہ یا جرم مرد و عورت دونوں یا مرد کی پیش رفت سے کیاجائے تو سزا کا ساری عمر خمیازہ صرف بیچاری عورت کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ مرد کو کوئی پوچھنے اور طعنے مارنے والا نہیں ہوتا ہے اس خطہ میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیایوں کو بھی برادریوں کے تعصب و نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔

آزاد جموں کشمیر برادری قبیلہ ازم کا گڑھ ہے جہاں قبیلہ پرستی رگ رگ میں سرعیت کر چکی ہے ۔ ہر معاملہ یا مسلہ کو برادری ازم کا رنگ دے دیا جاتا ہے ، کتنا ہی خاص سنگین  نوعیت کا مسلہ کیوں نہ ہو اس کو تعصب کے رنگ سے ہی دیکھا جاتا ہے اور عورتوں کے مسائل و معاملات میں اس تعصب کو ایک ہزار ایٹم بم کی طاقت مل جاتی ہے۔

مہاراجہ کی ریاست کو تقسیم کرنے کے بعد بھی اس خطہ کو آزادی نصیب نہ ہوئی ہے ، اس وقت عورت کو اتنی آزادی حاصل تھی کہ وہ اپنے زیورات پہن کر جنگل میں بھیڑ بکریاں چرا سکتی تھی لیکن آج تو عورت خود اپنی چار دیواری میں بھی محفوظ نہیں ہے  ۔ اتنے بڑے ظلم ، گناہ اور شرمناک فعل شاید ہی مہاراجہ کی ریاست میں ہوئے ہوں ۔

ہم جعلی خطہ کے نام نہاد کھٹ پتلی کرداروں، ارباب اختیار سے پوچھنا چاہتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ کیا اس وقت بھی مہاراجہ کی ریاست ہے کہ عورتوں انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے ؟؟؟

پورے آزاد جموں کشمیر کو سراہا احتجاج ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ہے، ایک صرف سانحہ ماتم اور دوسری طرف الیکشن جشن جاری ہے، ٹکٹوں ہے حصول کی لڑائی لڑی جا رہی ہے۔ اس وقت تک کی صورتحال کے تناظر میں معاملہ کو دبایا جا رہا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔اگر اس خطے میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا  یہ رجحان بڑھتا چلا گیا تو اس کا تدارک کرنا مشکل ہو جائے گا

موجودہ حالات کے تناظر میں جاری استحصال و جبر ، قومی و طبقاتی جبر اور تضاد  نے آج زمینی حقائق سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ کا دور موجودہ ادوار سے ہزار گنا بہتر، اچھا ، خوشحال اور امن والا تھا ۔

لیکن یہ سوال سوالیہ نشان ہی رہے گا کہ کیا ان معصوم ، بے گناہ ، نہتی عورتوں کو انصاف مل سکے گا یا کوئی یا بتا پائے گا کہ انھیں کس جرم میں قتل کیا گیا۔اور ماں بیٹی کو کیوں زیادتی کے بعد پھانسی چڑھا دیا گیا ؟؟؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *