Type to search

خبریں

حامد میر اور عاصمہ شیرازی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی نئی درخواستیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینئر صحافی و تجزیہ نگار حامد میر کے خلاف غداری کے مزید کیسز درج کروا دئیے گئے مگر اس دفعہ ان کے ساتھ ساتھ صحافی عاصمہ شیرازی کے خلاف بھی مقدمے کی درخواست دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ درخواستیں گوجرانوالہ میں منظور قادر بھنڈارا ایڈووکیٹ کی جانب سے دی گئی جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ دونوں صحافیوں نے 29 مئی کو  ملک دشمن قوتوں کے اکسانے پر ریاست مخالف تقاریر کیں۔ درخواستوں میں الزام لگایا گیا کہ ان کی جانب سے فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی اور  پاکستان فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی جس سے ہم پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

درخواست میں کہا گیا کہ یہ دونوں صحافی غداری کے مرتکب ہوئے۔ اس لئے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ بنا کر قانونی کاروائی کی جائے۔

اس سے قبل پاکستان کے سینئر صحافی اور اینکر حامد میر جنہیں اس وقت اپنے پروگرام سے جبری علیحدگی کا سامنا ہے ان کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کے لیئے ایک درخواست گوجرانوالہ پولیس کو جمع کروائی گئی تھی ۔ درخواست دینے والے سائل خود کو ایک صحافی کہتے تھے اور روزنامہ مخلوق میں سب ایڈیٹر ہیں انکا نام عصمت للہ راجپوت ہے۔

انہوں نے درخواست میں لکھا تھا کہ محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے سائل کا فرض ہے کہ اپنے ملک کے ناموس پر آنچ نہ آنے دے۔ ایک صحافی ہونے کے ناطے  سائل کا فرض ہے کہ ہمارے شعبہ میں جو کالی بھیڑیں ہیں جو شعبہ صحافت کو بدنام کر رہی ہیں کو بے نقاب کیا جائے ۔اور ان کے خلاف قانونی ایکشن لیا جائے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے حامد میر نے اسلام آباد میں صحافی اسد علی طور پر ہوئے حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ان کے اغواکاروں پر شدید تنقید کی تھی؛ اس تقریر میں انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہ صحافی اسائلم حاصل کرنے کے لئے خود پر حملے کرواتے ہیں، کہا تھا کہ صحافی تو پاکستان میں رہتے ہیں، البتہ جنرل مشرف ضرور ‘چوہے کی طرح’ بھاگا تھا اور کہا تھا کہ وہ کسی بھی فورم پر بحث کرنے کے لئے تیار ہیں اور یہ ثابت کریں گے کہ پاکستان سے غداری صحافیوں نے نہیں کی، بلکہ ایوب خان اور جنرل مشرف نے پاکستان کے اڈے امریکہ کو بیچے.

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *