Type to search

خبریں سیاست

ملالہ یوسف زئی کے شادی کے بارے میں ریمارکس: نکاح سنت ہے، متھیرا کا ردعمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز ملالہ یوسفزئی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر برطانوی فیشن میگزین ووگ کے سرورق کی تصویر شیئر کرائی تھی۔ ووگ میگزین نے آئندہ ماہ کے شمارے کے سرورق کے لیے ملالہ یوسفزئی کو منتخب کیا ہے۔

فیشن میگزین ووگ کی ویب سائٹ پر ملالہ یوسفزئی کا انٹرویو بھی پبلش ہوا تھا جس میں انہوں نے اپنے بارے میں کئی باتیں کرتے ہوئے شادی کے حوالے سے بھی گفتگو کی تھی۔ ووگ میگزین کے مطابق ملالہ یوسفزئی نے کہا تھا ’’مجھے اب بھی سمجھ نہیں آتا کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی میں کسی شخص کا ساتھ چاہتے ہیں تو آپ کو شادی کے کاغذات پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیوں یہ ساتھ صرف پارٹنرشپ پر مشتمل نہیں ہوسکتا؟۔

ملالہ کا مزید کہنا تھا میں یونیورسٹی میں سوچتی تھی کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گی، اور نہ ہی بچے پیدا کروں گی صرف اپنا کام کروں گی۔ میں ہمیشہ اپنی فیملی کے ساتھ رہوں گی اور خوش رہوں گی۔ مجھے احساس نہیں تھا کہ آپ ہر وقت ایک شخص نہیں ہوتے جب آپ بڑھتے ہیں آپ میں بدلاؤ آتے ہیں۔‘‘

ملالہ یوسفزئی کے شادی سے متعلق اس بیان پر اداکارہ متھیرا نے انسٹاگرام اسٹوری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے ’’مجھے ووگ میگزین کے سرورق پر ملالہ کی تصویر پسند آئی۔ پھر انہوں نے ملالہ یوسفزئی کو مینشن کرتے ہوئے لکھا براہ کرم ہمیں اپنی نئی نسل کو شادی کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ بھی بتانا ہے کہ نکاح کرنا سنت ہے یہ صرف کاغذات پر دستخط کرنا نہیں ہے آپ کوئی پلاٹ نہیں خرید رہے۔ بلکہ اس طرح آپ درست طریقے سے اپنی نئی اور خوشگوار زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔

متھیرا نے مزید لکھا زبردستی کی شادی، شادی میں تشدد اور کم عمری کی شادی غلط ہے لیکن خدا کی رحمت کے سائے میں نکاح کرنا خوش آئند ہے۔ لہذا اگر آپ کو لگتا ہے کہ کسی کو اپنی زندگی میں شراکت دار بنانا اچھا ہے تو آپ اسے حلال طریقے سے کریں۔‘‘

ی زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کی سزا تجویز کی جائے گی۔ جبکہ کابینہ میں  وزیراعظم عمران خان نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو نامرد کرنے کے قانون کی اصولی منظوری نومبر میں  دے دی۔ یہ بھی طے پایا کہ   خواجہ سراؤں کے ساتھ جنسی زیادتی کو بھی عصمت دری تصور کیا جائے گا ۔

 

 

 

 

 

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *